ڈینگی کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی بدترین کارکردگی

ڈینگی کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی بدترین کارکردگی

  

پشاور ہائی کورٹ نے ڈینگی سے بچاؤ کے معاملے میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے انسانی جانوں پر ظلم کیا عدالتِ عالیہ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ڈینگی کے خلاف جہاں سے بھی مدد ملتی ہو، حاصل کرکے انسانی زندگیوں کو بچایا جائے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ڈینگی کے مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی ٹیموں سے تعاون نہیں کیا، وہاں سے بھجوائے گئے دو موبائل ہسپتالوں کو متاثرہ افراد کا علاج نہیں کرنے دیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے ریمارکس پر خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو غور کرتے ہوئے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا چاہئے۔ قدرتی آفات پر سیاست بازی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انہیں خود ٹیلی فون کرکے ڈینگی کے خلاف علاج میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔ ان کی ہدایت پر لاہور سے ماہر ڈاکٹروں اور عملے پر مشتمل میڈیکل ٹیمیں بھیجی گئیں۔ اس کے علاوہ جدید مشینری سے آراستہ دو موبائل ہسپتال بھی پشاور بھجوادیئے گئے لیکن وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایت پر میڈیکل ٹیموں اور موبائل ہسپتالوں کے ذریعے ڈینگی کے مریضوں کا علاج نہیں ہونے دیا گیا حالانکہ خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کو ڈینگی کے مریضوں کا علاج کرنے میں سخت دشواری پیش آرہی ہے۔ اب تک وہاں دو درجن سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں ان کا علاج کرکے زندگی بچائی جاسکتی تھی۔ اس رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے بجا طور پر حکومتی کارکردگی کو بدترین قرار دیا ہے۔ سیاسی مخالفین کی حکومت سے ضرورت کے وقت تعاون اور مدد سے انکار کرکے جھوٹی اناکی تسکین تو کرلی گئی لیکن ہزاروں افراد کو اذیت ناک شب و روز گزارنے پر مجبور رکھا جارہا ہے۔ پشاور کے علاوہ بنوں، کوہاٹ اور دیگر شہروں میں بھی ڈینگی کے مریض ہسپتالوں میں داخل ہوتے رہے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور اُن کے مشیروں کے پاس پنجاب کی میڈیکل ٹیموں سے مدد نہ لینے کا کوئی جواز قبول نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب میں ڈینگی کا موثر اور کامیاب علاج گزشتہ تین چار سال سے ہو رہا ہے۔ حیرت ہے کہ عوام کی خدمت اور دردِ دل رکھنے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدانوں نے ہزاروں مریضوں اور اُن کے لواحقین کو پریشان کررکھا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اپنی جھوٹی اَنا کو چھوڑ کر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پنجاب کی میڈیکل ٹیموں کو خود پشاور بلائیں ڈینگی کے مریضوں کے حال پر رحم کریں اور اس معاملے میں سیاسی مخالفت سے کام نہ لیں۔

مزید :

اداریہ -