روز گار کی مہارتیں اور کیریئر گائیڈنس

روز گار کی مہارتیں اور کیریئر گائیڈنس

  

آجکل رزلٹ کا موسم چل رہا ہے کبھی میڑک تو کبھی ایف اے اور کبھی ڈگری لیولز کا رزلٹ پے در پے آ رہا ہے جس کے بعد تمام طلبہ و طالبات کا رخ کالج اور یونیورسٹیوں کی طرف ہو گیا ہے لیکن افسوس کم معلومات اور ناآگاہی کی بنا پر بہت سے طلباء غلط مضامین کا انتخاب کرتے ہیں جس کی اصل وجہ کیریئر کونسلنگ اداروں کا فقدان ہے۔ کیرئر کونسلنگ کی آج کے دور میں تعلیمی میدان بہت اہمیت و ضرورت ہے اس کی مدد سے نہ صرف طلباء صحیح مضامین کا انتخاب کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ان مضامین کی اہمیت و مستقبل قریب کے بارے میں بھی اہم معلومات ملتی ہیں۔

ہر معاشرے میں ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ایسا پیشہ اختیار کیا جائے جو بامقصد ہو، اور اس کے مزاج کے معین مطابق بھی ہوتاکہ ہر کوئی اپنے معاش کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں اپنی صلاحیتوں سے بھرپور حصہ ڈال سکے۔

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی صلاحیتوں اور رجحانات کو بھانپ کر بچوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رجحانات کے مطابق پیشہ اختیار کرتے ہیں اور یوں معاشرے کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آگے ہی آگے بڑھتے جارہے ہیں۔انسان کو زندگی کے ہر مو ڑپر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک اسے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں صحیح اور مناسب رہنمائی کے بغیر اس کا آگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ بچپن میں والدین اسے بولنا سکھاتے ہیں، سکول میں اسے لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔ سکول کی زندگی کے اختتام پر ہر انسان کی زندگی میں ایک اہم موڑ آتا ہے، جہاں اسے کریئر کے انتخاب کے لیے رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے، جسے کریئر گائڈنس کہا جاتا ہے۔ یہ انتہائی اہم اور دشوار کن مرحلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں کریئر گائیڈنس کے لیے باقاعدہ کوششیں ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہیں۔ طلبہ کریئر کا انتخاب والدین، رشتے دار، اساتذہ اور دوستوں کی مرضی سے کرتے ہیں یا پھر کریئر کا انتخاب میڈیا کی تشہیر کی بنا پر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پڑھے لکھے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ غلط کریئر کا انتخاب کرنے کی وجہ سے کئی نوجوان ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ نوجوانوں میں ڈپریشن، نیند نہ آنا، خود کشی کا رجحان جیسی منفی باتیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اس شعبے کی طرف توجہ نہ دی تو ہم نئی نسل کو گمراہی سے بچا نہیں پائیں گے۔ترقی یافتہ ممالک کے ہر کالج، یونیورسٹی میں کریئر گائیڈنس ایک مستقل شعبے کی حیثیت سے کام کرتا ہے جس میں سائیکلوجسٹ، سائیکرٹسٹ، کونسلر اور تھیرپسٹ کی خدمات میسر ہوتی ہے۔ کورس کے انتخاب سے لے کرنوکری لگنے تک کے ہر مرحلے پر طلبہ کی رہنمائی پروفیشنل طریقے پر کی جاتی ہے، لیکن ہماری یونیورسٹیوں میں اس طرح کی مدد کا فقدان نظر آتا ہے، نتیجتاًپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی طلبہ کریئرکا تعین نہیں کرپاتے۔ہم 2017ء میں قدم رکھ چکے ہیں۔ وہ وقت آچکا ہے کہ اس مقابلہ جاتی دور میں طلبہ کی رہنمائی بیرونی عوامل پر نہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی صلاحیت کی بنا پر کی جانی چاہیے۔ وہ سائنسی عوامل جن پر رہنمائی کی بنیاد رکھی جانی چاہیے مندرجہ ذیل ہیں:

ذہنی استعدادی جانچ

Quotient Intellgent Test

یہ ٹیسٹ انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی پیمائش کے لیے کیا جاتا ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کیریئر کا انتخاب کرسکتا ہے۔ عام انسان کا آئی کیو لیول 70تا90 کے درمیان ہوتا ہے۔ 90ْٰکے اوپر ذہین اشخاص کا شمار ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کاآئی کیو لیول120 کے آس پاس ہوتا ہے۔ آئی کیو لیول کے ساتھ ساتھ کے ساتھ imagination, creative thinking, reasoning,جیسی صلاحیتیں بھی دیکھی جاتی ہیں۔ یہ تمام ٹسٹ کمپیوٹر کے ذریعے بھی کیے جاتے ہیں ۔ آئی کیو ٹیسٹ طلباء کو صحیح کریئر گائیڈنس فراہم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

رجحان (Attitude)

کسی بھی شعبے میں کریئر بنانے کے لیے لازمی ہے کہ طلبہ اپنا Attitudeدرست کریں اور اس برتاؤ کو اختیار کرنے کی کوشش کریں جیسا انھیں بننا ہے۔ اپنے بارے میں مثبت رائے رکھیں اور جس کریئر کو اپنانا ہے اس کے ماہرین سے ملاقات کریں۔

دلچسپی(Interest)

آپ کسی بھی کام کو اس وقت تک دل جمعی کے ساتھ نہیں کرسکتے جب تک آپ اس میں مکمل دلچسپی نہ لیں۔ کریئر کا انتخاب کرتے وقت طلبہ کو اس کی دلچسپی اور شوق کا خیال رکھنا چاہیے۔

معاشی حالات

( EconomicCondition)

کسی کورس کا انتخاب کرتے وقت خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی مدت کتنی ہے اور کل کتنا خرچ اس میں ہوگا۔ کن کورسزکو سکالرشپ مل سکتی ہے۔ یہ تمام معلومات بہت اہم ہیں۔

جنس

(Gender)

لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی شخصیت کے مطابق کورس کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اکثر لڑکے ہوٹل مینجمنٹ کورس میں داخلہ لے کر بعد میں شکایت کرتے ہیں کہ یہ کورس ان کی شخصیت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکیاں ہارڈ ویئر انجینئر بن کر پچھتاتی ہیں۔

والدین کا کردار

کیریئر گائڈنس میں والدین کا کردار بھی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی مرضی کا دھیان رکھیں اور اپنے خوابوں کو اس کے ذریعے پورا کرنے کے بجائے اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا موقع دیں۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو وہی بنانا چاہتے ہیں جو وہ خود نہ بن سکے۔ یہ ممکن تو ہے لیکن اس کے لیے درکار وقت اور محنت کرنے کے لیے والدین تیار نہیں ہوتے۔

اساتذہ کا رول

اساتذہ کو بھی طلبہ کی گائیڈنس میں مدد کرنی چاہیے۔ مختلف مقابلہ جاتی امتحانات سے طلبہ کو واقف کراتے رہنا چاہیے۔ انھیں خود بھی میگزین، اخباروں کے ذریعے updateرہنا چاہیے، پڑھاتے وقت 15 دنوں یا کم از کم مہینے میں ایک بار کسی ایک کریئر کے متعلق مفصل معلومات طلبہ کو دیتے رہنا چاہیے۔

کریئر کی تین اقسام:

طلبہ کو اب آٹھویں کلاس کے بعد ہی اپنے کریئر کے متعلق سوچنا شروع کردینا چاہیے کیونکہ جتنی جلدی وہ سوچیں گے اتنی ہی جلدی وہ اپنے من پسند کریئر کی معلومات اکٹھا کرپائیں گے۔ کریئر اختیار کرنے سے قبل ضروری ہے کہ وہ موجودہ کریئر کے بارے میں جاننے کے ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں آنے والے نئے کریئرس کے متعلق بھی اندازہ لگائیں۔ یہاں ہم کریئر کی تین اقسام بیان کررہے ہیں جن کی بدولت طلبہ کو اپنے لیے صحیح سمت کا تعین کرنے میں آسانی ہوگی:

روایتی کریئر

( Carreers Traditional )

یہ وہ کریئر ہیں جو آزادی کے بعد سے پاکستان میں رائج ہیں۔ ان میں سے کچھ کریئر جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور مدرس سدا بہار کریئر ہیں۔ ان میں سے کچھ کریئر آج بھی رائج ہیں لیکن ان کے نام بدل چکے ہیں۔ روایتی کیریئر کے عنوان سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اب یہ کریئر بالکل ختم ہوچکے ہیں۔ صرف بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ کریئرس پہلے سے چلے آرہے ہیں اور ان میں زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔

ماڈرن کریئر

Mordan Careers))

یہ موجودہ زمانے میں رائج کریئر ہیں لیکن ان میں روز بروز تبدیلی آتی جارہی ہے۔ زمانے کی رفتار کافی تیز ہوچکی ہے۔ دنیا میں موجودہ ساری معلومات تقریباً 3 سال میں دوہری ہوجاتی ہیں۔ مقابلہ جاتی دور ہے، روایتی تعلیمی قابلیت کے ساتھskills اور communicationپر بھی زور دیا جارہا ہے۔ ہر شعبے میں specializationاور super-specialization شروع ہوچکا ہے۔ کمپنی میں پہلے ایک فرد ایک یا دو ذمہ داریاں سنبھالتا تھا، اب وہ کئی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے اسے Tasking Multi کہتے ہیں۔

کچھ ماڈرن کریئر جیسےInternet Journalism، roboticsاور Retail مستقبل میں بھی اچھے ثابت ہوسکتے ہیں۔

مستقبل کے کریئر

Future Careers))

یہ وہ کریئر ہیں جو آنے والے دس سالوں میں ترقی پاسکتے ہیں، اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے کریئر میں مستقبل نہیں ہے۔ یہ صرف ٹکنالوجی کی ترقی کے باعث فروغ پانے والے کریئرہیں۔ مستقبل کے جن کریئر کی یہاں نشاندہی کی گئی ہے ان میں کریئر بنانے کے لیے طلباء طالبات کو پروفیشنل کریئر کاؤنسلرز سے رابطہ قائم کرنا چاہیے کیونکہ ان کیریئرز میں طلباو طالبات کی صلاحیتوں کا بڑا دخل ہے۔ یہ کریئر کڑی محنت چاہتے ہیں۔آنے والے دن ایک نئی روشنی لے کر آنے والے ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو تیار رکھیں تاکہ وہ نئے بدلتے حالات کا مقابلہ کرسکیں۔خواب اْنہی کے پورے ہوتے ہیں جنہیں اپنے خوابوں پر اور خود پر یقین ہوتا ہے۔ جو شخص خود پر یقین نہیں کرتا اور سب کچھ وقت، حالات اور دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ جس کام کو آپ کریں اْسے پوری ایمانداری کے ساتھ کریں، خود پراعتماد رکھیں اورتمام تر توجہ کے ساتھ خود کو اْس کام کیلئے وقف کر دیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ بیشتر افراد اپنے پیشے اور کام سے مطمئن نہیں ہوتے، ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بہت کم ہے جنہیں یہ اطمینان اور خوشی ہے کہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ اْن کی پسند کے عین مطابق ہے۔ اگر آپ کا شوق یا پسند ہی آپ کے ذریعہ معاش میں تبدیل ہو جائے تو اِس میں کوئی شک نہیں کہ آپ دِل لگا کر اپنا کام کریں گے اور نسبتاًبہترین کام کر پائیں گے۔ لیکن ایسے خوش نصیب بہت کم ہوتے ہیں جن کاشوق ہی اْن کا پیشہ بنتا ہے اور اِس کی اہم وجہ ہے ہمارے اطراف موجود لوگوں کی ذہنیت۔ ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سب سے ذہین بچّہ 10 ویں کے بعد سائنس کا مضمون لے گا، اْس سے کم نمبر حاصل کرنے والے بچّے کے لئے کامرس، اور اْس سے بھی کم نمبرلانے والے طالب علم کے لئے آرٹس ہوتا ہے۔ معاملہ یہیں نہیں رْکتا اور یہ سلسلہ آگے تک چلتا رہتا ہے۔ ہر جگہ تو نہیں لیکن بیشتر شہروں میں یہی رجحان ہے۔پسندیدہ مضمون کا انتخاب کرنے کے معاملے میں بچّے کی ذاتی دلچسپی سے زیادہ اْس کے حاصل کردہ نمبربچّے کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ طالب علموں کو مختلف متبادل کی معلومات بھی نہیں ہوتی اور وہ روایتی طور پر مروّج موضوعات کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ طالب علموں کو اْن کی صلاحیت و قابلیت کا احساس دِلانے کے لئے اور مضامین کے معاملے میں اْن کی ذاتی دلچسپی سے انہیں متعارف کروانے کے لئے’کیریئر کونسلنگ بے حد ضروری ہے۔بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لیے وہ بدتر ہو۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -