ہائیر ایجوکیشن کمیشن مطلوبہ نتائج حاصل کرسکا؟

ہائیر ایجوکیشن کمیشن مطلوبہ نتائج حاصل کرسکا؟

  

ستمبر 2002ء میں پاکستان میں ہایئر ایجو کیشن کمیشن کی بنیاد رکھی گئی ۔ پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا مقصد ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ اور ترقی کیلئے کردار ادا کرنا تھا تاکہ ملک تعلیم یافتہ اقوام کی صف اور مضبوط معیشت کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔ اکتوبر 2002 میں ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بطور بانی چیئر مین ہایئر ایجو کیشن کمیشن کی کمان سنبھالی ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کی بطور ماہر تعلیم خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے جب ہایئر ایجو کیشن کمیشن پاکستان کے پہلے چیئر مین کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تو اس وقت پاکستان کی جامعات کسمپر سی کا شکار تھی اور کوئی ایک جامعہ بھی دنیا کی 500یا 1000بہترین جامعات کی فہرست میں شامل نہیں تھی ۔جامعات میں تحقیقی کلچر نام کی کوئی چیز موجو د نہ تھی لیکن چند سالوں میں بطور چیئر مین ہایئرایجو کیشن کمیشن ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ایچ ای سی کو اپنے پاؤں پر لا کھڑا کیا یہ وہ وقت تھا جب ایچ ای سی کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ جامعات تعلیم و تحقیق اور بہتری کی منازل طے کرنا شروع ہوچکی تھی ۔چھ سال کے قلیل عرصہ میں پاکستان کی جامعات کا شمار دنیا کی صف اول 250,300,اور 400جامعات میں ہونے لگا جوکہ معجزہ سے کم نہیں تھا یقیناًاس کے پس پشت ڈاکٹر عطاء الرحمن کی شبانہ روز محنت لگن اور دلچسپی کار فرما تھی جس نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی شعبہ کو ایک نئے راہ دکھلائی ۔ جامعات کا معیار ان کی عمارتوں سے نہیں بلکہ اعلیٰ تخلیقی صلا حیتوں کے حامل اساتذہ سے ہوتا ہے جوبین الاقوامی مقابلے کیلئے تحقیقی ماحول پیدا کر سکیں ۔جامعات کی درجہ بندی ان کی تحقیقاتی پیداوری صلا حیت پر منحصر ہوتی ہے بلکہ یہ شمار بندی پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد اور معیا ر پر کی جاتی ہے ۔جامعات کے عالمی شماریات کے اہم جزو ، جامعات میں کی جانے والی تحقیقات کے بین الاقوامی حوالے ،ان جریدوں کا معیار جن میں ان جامعات کی تحقیقات شامل ہوں ، ایجادات پر بین الاقوامی اسناد ، پی ایچ ڈی کرنے والے طلباء کی تعداد،پی ایچ ڈی اساتذہ کا تناسب ،بین الاقوامی اعزازات او ر دیگر عوامل شامل ہیں ۔ بطور چیئر مین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمن کو کئی بار عدم حکومتی تعاون سے دلبرداشتہ ہوکر استعفیٰ دینے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی اور وہ درست بھی تھے ۔ اکتوبر2008ء میں انہوں نے احتجاجاََ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا کیونکہ ایچ ای سی کے وظیفوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلباء کے وضائف پچھلی حکومت نے بند کردئے تھے اور وہ طلباء بیرونِ ممالک بے سر و سامانی کے عالم میں پاکستان کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کے استعفیٰ کے بعد پیپلز پارٹی حکومت نے سندھ کے شہر حید رآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید لغاری کو ہایئر ایجو کیشن کمیشن کا نیا چیئر مین کا عہدہ سونپ دیا ۔ ڈاکٹر جاوید لغاری کا شمار بی بی شہید کے قریبی ساتھیوں میں ہوتاتھا۔وہ اس وقت نیویارک کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھے جب انہیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے پاکستان واپس بلایا تھا ۔اس سے قبل وہ بینظیر شہید کے مشیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی رہ چکے تھے ۔ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور بنانے میں بھی بی بی شہید کی معاونت کرتے رہے انہیں 2006میں پیپلز پارٹی کی جانب سے چھ سال کیلئے سینیٹ کا رکن منتخب کر لیا گیا وہ قائم مقام چیئر مین سینیٹ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے ۔ ڈاکٹر جاوید لغاری کا بطور چیئر مین ہایئر ایجو کیشن کمیشن کردار انتہائی دلچسپ رہا انہوں نے جب کمیشن کی ذمہ داری سنبھالی تو اس وقت جعلی ڈگریوں کا شور اور واویلا جاری تھا چناچہ ڈاکٹر جاوید لغاری نے اپنی ہی حکومت کیخلاف قدم اٹھا یا اور جعلی ڈگریوں کے حامل اراکین اسمبلی کے نام ظاہر کئے جس پر انہیں شدید سیاسی مخالفت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ڈٹے رہے ۔انہوں نے بلا امتیاز تمام جعلی ڈگری ہولڈر اراکین اور وزراہ کی ڈگریاں معطل کردیں۔ پاکستان میں جعلی ڈگری کے حامل افراد سے چھٹکارا حاصل کرنے کا سہرا یقیناًڈاکٹر جاوید لغاری کے سر جاتا ہے وہ حق اور سچ پر ڈٹ گئے گو کہ انہیں اسی جرم کی پاداش میں سینیٹ سے احتجاجا مستعفی اور اپنے خاندان کی مخالفت بھی مول لینا پڑی لیکن انہوں نے یہ کارنامہ بڑی اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔وہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کے بعد دوسری شخصیت تھے جنہوں نے سرکاری دباؤ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور عوام میں بڑی پذیرائی ملی ۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے کے ساتھ ساتھ یہ وقت پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لئے عظیم وقت وقت تھا ۔ٹائمز ہایئر ایجو کیشن کی رینکنگ میں پاکستان جامعات دن بدن بہتری کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ پاکستان کی جامعات کا شمار دنیا کی صف اول کی 100بہترین جامعات میں ہوچکا تھا ۔ جامعات کو اپنے معاملات میں مکمل خود مختاری حاصل تھی ۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے کیلئے یہ واحد چیئر مین تھے جنہوں نے ایچ ای سی کا مکمل بجٹ تحقیق اور ترقی کیلئے جامعات کو سونپا اور خرچ کیا ۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ چار سال بعد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ دن بدن تنزلی کی جانب گامزن ہے اور جامعات کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ماننے سے انکار نے اس ساری صورت حال کو جنم دیا ۔اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد جامعات براہ راست صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ 20اپریل 2010کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کے بعد پاکستان کے گزٹ کاحصہ بنادیاگیا تھا اس �آئینی ترمیم کے تحت 280آرٹیکل میں سے 102میں ضروری ترامیم کی گئی تھیں جس کی روشنی میں اڑتالیس وفاقی قوانین بشمول ایچ ای سی ایکٹ 2002میں آئین کے مطابق ترامیم اور وفاقی مقننہ کی لسٹ 2 کے تحت نئے ادارے کمیشن برائے سٹینڈرڈز ان ہائر ایجوکیشن کاقیام تھا جس پر چھ سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ۔اٹھارہویں آئینی ترمیم پر تنقید کرنے والوں نے اسے تقسیم در تقسیم کا فارمولہ قرار دیا لیکن اگر بین الاقوامی ممالک کا جائزہ لیا جائے توکینیڈا کے معروف بین الاقوامی ادارے ’’ فورم آف فیڈریشن ‘‘ کے مطابق 12میں سے 10وفاقی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں انتظامی معاملات ، مالیاتی معاملات سمیت اکیڈ یمک پروگرامز کی منظوری کی ذمہ داری وفاقی اکائیوں کے پاس ہے جبکہ وفاقی حکومت کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے پنجاب اور سندھ نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور صو بوں میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے صو بائی ہائیر ایجو کیشن کا قیام کیا۔ مگر صو بائی ہائیر ایجو کیشن کے قیام کے بعد اختیارات کی منتقلی میں وفاقی ایچ ای سی کا 2002ء کا آرڈیننس گلے کی ہڈی بن چکا ہے ، اس آرڈیننس کے مطابق وفاقی ہائیر ایجو کیشن جامعات کے قیام ، وائس چانسلرز کی تقرری اور مالیاتی امور کی خو د نگرانی کرے گا لیکن چیئر مین سینٹ رضا ربانی کی سربراہی میں اٹھارہویں ترمیم کے عملد رآمد کمیشن نے وفاقی ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002ء کو آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم قرار دیا ہے کمیشن کے مطابق مذکو رہ بالا تمام اختیارات ترمیم کے بعد براہ راست صوبوں کے اختیارات ہیں جس میں وفاقی ایچ ای سی کی مداخلت مناسب نہیں ۔یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ اگر اختیارات کی عدم منتقلی سے صوبائی حکومتیں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے اپنا فعال کردار ادا کرنے سے قاصر رہیں گی ۔ اگر وفاقی ہائیر ایجو کیشن کی سال 2016/17ء کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نوحہ کناں ہونے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا ۔معروف بین االا قوامی ادارے ٹا ئمز ہا ئیر ایجو کیشن کی جانب سے جاری کردہ جامعات کی عالمی درجہ بند ی 2016ْ17/میں بھی ایک بھی پاکستانی جامعہ دنیا کی بہترین 600جامعات اور ایشیاء کی 100بہترین جامعات میں شامل نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں کی رینکنگ کے مطابق پاکستان کے بر عکس 600صف اول کی جامعات میں 21کاتعلق چین،3سعودی عرب،2ملائیشیا ،8انڈیا،1ایران ،8تا ئیوان جبکہ 12کاتعلق ترکی سے ہے ،پاکستانی جامعات پہلی صرف 980 یونیورسٹیوں میں شامل ہیں کا مسیٹس انسی ٹیوٹ آف انفار میشن ٹیکنا لوجی اسلام آباد، نیشنل یو نیورسٹی آف سا ئنس اینڈ ٹیکنا لو جی ، یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی جبکہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد 601-800جبکہ یونیو رسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد ، بہا والدین زکریا یونیورسٹی ملتان ، ر،انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور،کراچی یونیورسٹی،یونیورسٹی آف لاہور 701ویں نمبر پر ہیں جبکہ ایشیاء کی 100بہترین جامعات میں بھارت کی 10جامعات شامل ہیں۔ درجہ بندی میں اکیڈمک اور ملازمین کی شہرت ،فیکلٹی طالب علم کی شرح ،بین الاقوامی طلباء کی تعداداور بین الاقوامی فیکلٹی کی موجودگی سمیت تحقیقی موادکی اشاعت کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی ادارے مایوس کن رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں جیسا کہ گلوبل کمپیٹیٹونس رپورٹ کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں 140میں سے 124ویں نمبر پرہے جبکہ ہمسایہ ممالک بھارت 90،چین28 اور ایران 69 نمبر پر ہیں ۔ افسو سناک امر یہ ہے کہ 90ارب سے زائدسالانہ بجٹ کا حامل اور 183 سرکاری جامعا ت کے معاملات کا نگران ادارہ ہائیر ایجو کیشن جس کی بہتری کیلئے جا ری اربوں کے فنڈز میں سے گزشتہ برس 48 فیصد فنڈز خرچ ہی نہیں کئے جا سکے ۔ ہائیر ایجو کیشن کمیشن کو مختلف منصو بوں کی مد میں 2762.30ملین جاری کئے گئے جس میں سے صرف1437.63ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ ملک کے سب سے زیادہ 27جامعات اور 22سب کیمپسسز والے صوبہ پنجاب کیلئے وفا قی ایچ ای سی کی جانب سے کل بجٹ کا صرف 11فیصد بجٹ جاری کیا گیا، جو جامعات کے ترقیا تی اور ریسر چ پر وگراموں کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ۔ قومی خزانے سے کروڑوں کے فنڈز استعمال کرکے کانفرسسز کا انقعا د بے سود ہے تاوقتیکہ کے اصل مسائل کی طرف توجہ نہ دی جائے ۔حیران کن طور پر وفاقی ایچ ای سی کے کمیشن ممبران کی تعداد تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کی جاسکی جسے کی وجہ سے اکتوبر 2016ء کے بعد تاحال ہائیر ایجو کیشن کمیشن کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ فاقی ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002ء کے آرٹیکل 6کے مطابق ایچ ای سی کا کمیشن 18ممبران پر مشتمل ہے جس میں چیئرمین ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی ،دو وفاقی سیکرٹریز ، چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سمیت دس ماہرین پر شامل ہوتے ہیں ۔آڈیٹر جنرل آ ف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کیمطابق مالیاتی سال 2015/16میں ایچ ای سی اپنی مجموعی بجٹ 1903.127ملین کا صرف 21فیصد ہی ترقیاتی کاموں پر لگا سکی ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کیلئے مختص 65فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کیا جا سکا یعنی جن منصوبہ جات کیلئے فنڈز مختص کئے گئے تھے ان پر عملدرآمد ہی یقینی نہیں بنایا جاسکا جو ایچ ای سی کی کار کر دگی پر سوالیہ نشان ہے ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ وفاقی ایچ ای سی کے پاس اعلیٰ تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے کوئی کوئی خاطر خواہ پالیسی اور وژن نہیں ۔تعلیم تو ضروری ہے اور اعلیٰ تعلیم اس سے بڑھ کر اسکے بغیر ترقی اور مضبوط معیشت کا خواب دیکھنا ممکن نہیں ۔اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرناہوگا وفاقی ہایئر ایجو کیشن کو صوبائی ہایئر ایجو کیشن کی آئینی حیثیت انہیں دینا اور تسلیم کرنا پڑے گا اور بین الاقوامی سطح پر ماضی کی طرح اپنا لوہا منوانے کیلئے اسی طرز کے میرٹ شدہ قابل سربراہ تلاش کرناہونگے جو پالیسی اور وژن رکھتے ہوں اور سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر خالصتا اعلی تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے کام کرسکیں ۔ جامعات میں اسوقت بیس ہزار سے زائد پی ایچ ڈی اساتذہ تو موجود ہیں لیکن تحقیق سے عاری ۔ہم عالمی جامعات کے ہم پلہ آنا چاہتے ہیں تو ہر سال دو ہزار طلباء کو بیرون ممالک دنیا کی بہترین جامعات میں تحقیق کیلئے بھیجا جانا چاہیے اور واپس وطن لوٹنے پر ان کے شعبہ جات سے متعلق انہیں روزگار فراہم کیا جانا چاہئے ۔ ملک کی چند مخصوص اور اہم قابل ذکر جامعات میں تحقیقی مراکز بین الاقوامی طرز پر بنانا ہونگے جہاں تحقیق کے کلچر کو عام کرنے میں مدد مل سکے اور سینکڑوں طلباء تحقیقی کام پر مگن رہیں ۔ جبکہ قومی سطح پر تحقیق کیلئے بھی مراکز قائم ہونے چاہئے جن پر اہم سہولیات بہم موجود ہوں تاکہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے کیلئے بین الاقوامی طرز پر تحقیقی مراکز سے اس کمی کو بھی پورا کیا جاسکے جسکا سالانہ بجٹ ایک ارب سے زائد مختص کیا جائے ۔ جامعات کی گرانٹ کو ہر سال بڑھا کر انکی خود مختاری کو تسلیم کرنا یقیناًاعلی تعلیمی شعبہ کیلئے ترقی کا ضامن ہے ۔15سال مکمل ہونے کے بعد بھی ہم نوجوان نسل کو ریسرچ کی جانب راغب کرنے سے محروم ہیں جسکا آسا ن اور بنیادی حل قابل اور تحقیق کا شوق رکھنے والے طلبا ء کو مناسب روزگار کے ذریعے انکی معاشی پسماندگی سے آزاد کرنا ہے تاکہ نئے آنیوالے طلبا ء روزگار نہ ہونے کے خوف سے بالاتر ہوکر تحقیق کو اپنا پیشہ بنائیں ۔آج جبکہ ایچ ای سی اپنے پندرہ سال مکمل کر رہی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اس اہم اعلی تعلیمی شعبہ کے ساتھ کئے گئے وعدے اور دعوے پورے کرسکے اگر ہاں تو پھر آئے روز طلباء اور اساتذہ اپنی ڈگریاں بیچنے اور سڑکوں پر آنے کیلئے کیوں مجبور ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کونسی غلطیاں اور کوتاہیوں ہیں جنکا سدباب کرکے پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبہ کو بہتر بنا یا جا سکتا ہے ۔ارباب اقتدار کو سر جوڑنا ہونگے کہ پاکستان میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے بیرون ملک سے طلباء کب آئیں گے کب ہمیں انکی جامعات میں تحقیق کے طلباء بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی انہیں سوچنا ہوگا کیونکہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہو اکرتی ہے ۔ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس شعبہ میں ملکی مفاد اور بقا کی خاطر سیاست نہیں کرینگے یہاں میرٹ کی بالا دستی قائم کرینگے کیونکہ یہ پاکستان کا معاملہ ہے ۔اگر ہم واقعی ان اصولوں پر 15سال گزرنے کے بعد بھی عمل پیرا ہونے کا عہد کرلیں تو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ تابناک پاکستان کی تاریخ لکھنے مورخ منتظر ہے ۔

***

 

مزید :

ایڈیشن 1 -