نفسیاتی مسائل میں گھری لڑکی کی کہانی ڈرامہ سیریل’’پگلی ‘‘

نفسیاتی مسائل میں گھری لڑکی کی کہانی ڈرامہ سیریل’’پگلی ‘‘

  

حسن عباس زیدی

نجی ٹی وی سے نشر ہونے والی نئی ڈرامہ سیریل ’’پگلی‘‘ کی کہانی ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد ‘ گل رخ ‘ زبیدہ اور ارجمند کے گرد گھو متی ہے ۔ ڈاکٹر خالد اور گل رخ کی ملاقات ایک سفر کے دوران ہوتی ہے جوگل رخ کی بے تکلفانہ فطرت کے باعث فوراً دوستی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ڈاکٹر خالد اسے اپنی متوقع شادی کے بارے میں بتاتا ہے جس کیلئے وہ لاہور کا جارہا ہے۔وہ اسے اپنی منگیتر زبیدہ کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے ۔گل رخ اسے اپنا ہم مزاج و ہم خیال جان کر اس سے کہتی ہے کہ ڈاکٹر خالد کا اپنی منگیتر کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکے گا کیونکہ وہ ایک سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی ہے ‘ ساتھ ہی وہ اسے چیلنج کرتی ہے کہ اگر وہ اسے اپنے ہمراہ حویلی لے جائے تو وہ 15ہی دن میں اپنے دعوے کو سچ ثابت کرسکتی ہے۔کہانی اس وقت ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے جب حکیم کرامت علی اپنے بھتیجے ارجمند کے ہمراہ اپنی بیٹی کو تلاش کرتے ہوئے خالد کی حویلی تک پہنچ جاتا ہے اور جہاں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ گل رخ اس کی بیٹی اور نفسیاتی مریضہ ہے ۔اتنی زندہ دل اور ذہین لڑکی نفسیاتی مریضہ کیسے بن گئی؟کیا خالد اپنی منگیتر کو چھوڑ کر اسے اپنا لے گا یا پھر اس حادثے کو بھول کر اپنی زندگی میں مگن ہوجائے گا؟جاننے کیلئے دیکھئے ڈرامہ سیریل ’’پگلی ‘‘خرم عباس کی تحریر کردہ ڈرامہ سیریل ’’پگلی‘‘کوعلی مسعود نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ مومنہ درید پروڈکشنز کی اس پیشکش کے نمایاں اداکاروں میں سید نور الحسن رضوی‘ حرا سلمان)حرا مانی(‘ حنا الطاف‘ عاصم اظہر‘ محمود اسلم‘ ساجدہ سید ‘ صبا فیصل ‘ لبنی اسلم‘ راشد فاروقی اور دیگر شامل ہیں۔اس میگا پراجیکٹ کے میڈیا کو آرڈینیٹر منہاس صغیر ہیں۔تمام فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے دوران ریکارڈنگ فنکاروں نے کئی جذباتی سین اس خوبصورتی سے کئے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ان دنوں نجی چینل سے کامیابی کے ساتھ دکھائی جانے والی اس ڈرامہ سیریل بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہیں۔حرا سلمان نے کہا کہ میرارول پاور فل ہونے کے ساتھ ساتھ پرفارمنس سے بھرپور ہے۔میں ہمیشہ سے ان پراجیکٹس میں اداکاری کو ترجیح دیتی ہوں جن میں میرا کردار پاور فل ہو۔راشد فاروقی نے کہا کہ لوگ آج بھی اچھا کام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دن دور نہیں ہے جب فلمی صنعت ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہوجائے گی ۔’’پگلی‘‘کی کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ۔’’پگلی ‘‘میں میرا رول روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے۔سید نور الحسن نے کہا کہ جتنا زوال فلم انڈسٹری پر آیا ہے اس سے کہیں زیادہ عروج ڈرامہ انڈسٹری کو حاصل ہے ۔محمود اسلم نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فلم انڈسٹری بھی دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔راشد فاروقی نے کہا ہے کہ کامیابی کے لئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے ۔عاصم اظہرنے کہا ہے کہ میں صرف منتخب ڈراموں میں اداکاری کر رہا ہوں ۔جب تک میرے پرستار مجھے سکرین پر دیکھنا چاہیں گے میں اداکاری کرتا رہوں گا‘ کام کے ساتھ میری محبت جنون کی حد تک ہے‘ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکارہ اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔ محمود اسلم نے کہا کہ ’’پگلی‘‘میرے کیرئیر کا یادگار ڈرامہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے چاہنے والے میرے کیرئیر کے آغازسے لے کر آج تک میری پرفارمنس کو پسند کرتے چلے آ رہے ہیں اور میری کوشش بھی یہی رہی ہے کہ میں بہتر سے بہتر کام کر سکوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ کردار پسند ہیں ۔ صباء فیصل نے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ڈرامے پیش کرنے چاہئیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔ڈائریکٹر علی مسعود نے کہا کہ ’’پگلی‘‘ جیسے پراجیکٹ روز روز نہیں بنتے۔مجھ سمیت تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -