تھیٹر ڈرامہ ’’ہیر رانجھا‘‘کا کراچی میں شاندارانعقاد

تھیٹر ڈرامہ ’’ہیر رانجھا‘‘کا کراچی میں شاندارانعقاد

  

حسن عباس زیدی

دی سٹیزنز فاونڈیشن the citizen foundation)) اور زین احمدنے پیار ،محبت اور عشق کی لازوال داستان تھیٹر میں ’’ہیر رانجھا ‘‘پیش کی۔ یہ یادگار ، تاریخی کہانی جو کہ تھیٹر ڈرامے کے ذریعے بیان کی گئی،تھیٹر کے ذریعے ہونے والی آمدنی غریب بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کی جائے گی۔ 7ستمبر سے شروع ہونے والا تھیٹر ڈرامہ 11ستمبر تک جاری رہا۔ ہیر رانجھا کی کہانی مشہور صوفی شاعر وارث شاہ کے کلام سے متاثر ہے ، جسے بعد میں اُردو کے نامور ادیب کیفی عظمی نے تحریر کیا ۔زین احمدکا تعلق نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹز (NAPA) سے ہے جو کہ اس ڈرامے کے ڈائریکٹرتھے جبکہ معروف اداکارہ صنم سعید( ہیر) ، ثمینہ احمد (ہیر کی ماں) اور ارشد محمود (ہیر کے باپ) کا کردار ادا کرہے ہیں، ڈرامے کے شرکاء صنم سعید کے براہ راست گانوں سے بھی لطف اندوز ہوئے، ڈرامے میں 1970کی مشہور بالی ووڈ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘کے میوزک کو نیگل بوبی نے جدت کے ساتھ پیش کیں، کراچی میں جاری تھیٹر ڈرامے کو رواں ماہ لاہور اور فیصل آباد میں بھی پیش کیا جائے گا۔’’ہیر رانجھا ‘‘کے ڈائریکٹر زین احمد کا کہنا تھا کہ لوک داستان پر مبنی اس کہانی کو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ سٹیج اور سینما پر پیش کیا جاچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس بار لوگوں کی توقعات سے بڑھ کر پیش کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،کیفی اعظمی کے لکھے اس ڈرامے کو جب میں نے کرنے کا فیصلہ کیا تو پنجابی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘کے گانے کا انتخاب کیا، اس میوزیکل اردو ڈرامے کو پیش کرنے میں مجھ سمیت میری پوری کاسٹ کی سخت محنت شامل تھی، امید ہے ناظرین کو ہماری یہ کاوشش ضرور پسند آئی ہوگی، زین احمد نے بتایا کہ یہ لوک کہانیاں ہمارا ثقا فتی اثاثہ ہیں ،اس ڈرامے کا مقصد ہما ری نئی نسل کو ان کہانیوں سے روشناس کروانا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے غریب بچوں کی تعلیم کے لئے امداد جمع کرنا ہے۔دی سٹیزنز فاونڈیشن (TCF) ایک فلاحی ادارہ ہے جس کی تعلیم کے شعبہ میں بے پناہ خدمات ہیں اس ادارے کے ساتھ منسلک ہونا یقیناًمیری اور میری ٹیم کے لئے فخر کی بات ہے ۔ ہیر رانجھا ایک لازوال محبت کی کہانی ہے جس کی مثا ل آج کل مشکل سے ہی ملتی ہے اور آج بھی لوگ اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ قصہ جھنگ کی ہیر اور تختِ ہزارہ کے رانجھا کا ہے جنہیں محبت میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ رانجھا کو پہلی نظر میں ہی ہیر سے محبت ہو جاتی ہے، ہیر کو بھی رنجھا اچھا لگتا ہے ۔ لیکن جب اسے یہ پتالگتا ہے کہ رانجھا دشمن قبیلے کا ہے تو وہ پیچھے ہٹتی ہے مگر پھر محبت کے ہاتھوں ہار جاتی ہے۔ دونو ں ایک دوسرے کے بغیرنہیں رہ پاتے اور وعدہ کرتے ہیں کہ آخری وقت تک اپنی محبت کے لئے لڑیں گے ۔ ٹی سی ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسرسید اسد ایوب احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ' TCF کو فخر ہے کہ پاکستان کی فنکار برادی اس کے مشن کو سپورٹ کرتی ہے۔ ٹی سی ایف نے اپنا طویل سفر کراچی کی کچی آبادیوں کے 5 سکولوں سے شروع کیا جو کہ اب بیس سال میں پورے پاکستان میں 1441 اسکولوں تک پہنچ چکا ہے ۔ آج یہ ادارہ جہاں کھڑا ہے یہ صرف زین اور ان کے ساتھی فنکار جیسے ہمارے حامیوں اور خیر خواہوں کی حمایت اور جذبے کا نتیجہ ہے ۔ دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف ) پیشہ وارانہ طور پر چلائے جانے والا ایک منظم ادارہ ہے ۔ 1995میں شہریوں کے ایک گروہ نے اس فلاحی ادارے کے قیام کی مہم شروع کی جو تعلیم کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں 20 سالوں کے دوران ٹی سی ایف تعلیمی ادارے کے طور پر اپنی ایک پہچان بنا چکا ہے جو پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہا ہے ۔ ٹی سی ایف کی تمام تر توجہ معیاری تعلیم کی فراہمی پر مرکوز ہے ۔ اس مقصد کے تحت ٹی سی ایف کے اسکول پاکستان کے شہروں کے گردونواح کی کچی آبادیوں اور دیہی بستیوں میں واقع ہیں جہاں 1441 اسکولوں میں دو لاکھ چار ہزار بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ مجموعی طور پر ٹی سی ایف کے اسکولوں میں 50% لڑکیاں زیر تعلیم ہیں ۔ ٹی سی ایف نے نہ صرف اپنے کام کا دائرہ کار بچوں کی تعداد میں اضافے اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں بڑھایا ہے بلکہ اب پاکستان میں گورنمنٹ اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بھی بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے

مزید :

ایڈیشن 2 -