ٹیکسٹائل ، چمڑے کی مصنوعات کو امریکی جی ایس پی سکیم میں شامل کیا جائے : ایف پی سی سی آئی

ٹیکسٹائل ، چمڑے کی مصنوعات کو امریکی جی ایس پی سکیم میں شامل کیا جائے : ایف پی ...

  

اسلام آباد (اے پی پی) وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر عرفان احمد سروانہ نے پاکستان اور امریکا کے تجا رتی وفود کے با ہمی تعاون اور رابطہ کی ضروت پر زور دیتے ہو ئے کہاکہ اس سے با ہمی تجا رت اور معاشی تر قی کو فروغ حا صل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی سفارتخانے کے چھ رکنی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وفد نے ایف پی سی سی آئی کی سٹینڈ نگ کمیٹی برا ئے ڈپلومیٹک افیئرز کے چیئرمین عالمگیر فیروز کی دعوت پر سیا سی اور معاشی امداد کے شعبے کے سر برا ہ جان روبنسن کی قیادت میں ایف پی سی سی آئی کا دورہ کیا۔ عرفان احمد سروانہ نے کہا کہ اگر چہ امریکی حکومت نے پاکستان کو امریکی جی ایس پی سکیم تک رسائی دی ہو ئی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات ڈیو ٹی کے بغیر یا ڈیوٹی میں رعایت کے ساتھ برآمد کی جا سکتی ہیں مگر اس میں پاکستان کی بنیا دی صنعتوں (ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنو عات شا مل نہیں) کی مصنوعات پر 7 فیصد سے 32 فیصد تک ڈیوٹی عا ئد کی جا تی ہے۔ انہوں نے امریکی سفارتی وفد سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کو امریکی جی ایس پی سکیم میں شامل کرانے کیلئے پاکستان کی کو ششوں میں تعاون کریں۔ اسی طرح جی ایس پی سکیم کی مدت جو کہ دسمبر 2017ء میں ختم ہو رہی ہے، میں مزید 3 سال کی توسیع کیلئے سفارش کریں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گر دی کے خلا ف جنگ پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ کی حیثیت سے لڑ ی اور ما رچ 2016ء تک اس نے تقر یباً 123ارب ڈالر کا نقصان اٹھا یا،اس کے علاوہ ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے۔ پاکستان اس مطا لبہ میں حق بجانب ہے کہ اس کو تجا رت میں سہو لت ، رعایت اور فروغ دیا جا ئے تا کہ ملک سے غر بت کا خا تمہ ممکن ہو سکے اور پاکستا ن معا شی طو ر پر تیز ی سے ترقی کر ے ۔انھوں نے پاکستان میں گر تی ہو ئی امریکی سر مایہ کا ری پر تشو یش کا اظہا ر کیا اور کہاکہ 2007ء میں پاکستان میں 1.3 ارب ڈالر امریکی سرمایہ کا ری ہو ئی جو 2016ء میں کم ہوکر صرف 71ملین ڈالر رہ گئی ہے جبکہ پاکستان میں امریکی سر مایہ کا ری کیلئے وسیع مواقع بھی میسر ہیں۔ اس موقع پر جان روبنسن نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ میں صنعتی ومعاشی با ہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ اٹھانے کیلئے وہ اپنی حکومت پر زور دیں گے۔

مزید :

کامرس -