برکس اعلامیہ والی باتیں ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس میں بھی تھیں ، ڈاکٹر عاصم کو سپریم کورٹ نے باہر جانے کی اجازت دی : احسن اقبال

برکس اعلامیہ والی باتیں ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس میں بھی تھیں ، ڈاکٹر عاصم کو ...

  

اسلام آباد(اے این این ،این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کراچی میں خواجہ اظہار پر حملے میں ملوث نو زائیدہ دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ کے سربراہ سمیت اس کے تمام دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے ،اس تنظیم کا باب بند ،پابندی عائد کی جا رہی ہے،یم کیوایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست کی مکمل آزادی ہے،ڈاکٹر عاصم کو باہر جانے کا حکم سپریم کورٹ نے دیا،ہم نے قومی ایکشن پلان پر موثر عمل کا فیصلہ کیا،صوبوں کیساتھ اجلاس میں طے ہوا ہے وفاق المدارس کا بنایا گیا طلباء فارم لازمی پر کرایا جائے گا، دنیا ٹرمپ کیساتھ نہیں، روس، چین اوریورپی ممالک نے پاکستان کی تائید کی جو خوش آئند ہے،برکس اعلامیہ والی باتیں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں بھی تھیں ۔بدھ کو اسلام آباد میں سینیٹ کی داخلہ کمیٹی میں بریفنگ اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران احسن اقبال نے بتایا کہ کراچی میں انصار الشریعہ کے تمام لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس تنظیم پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ایم کیوایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست کی مکمل آزادی ہے جب کہ ڈاکٹر عاصم کو سپریم کورٹ کے حکم پر باہر جانے دیا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ایکشن پلان کو بہتر طریقے سے چلانا اور پڑھے لکھے نوجوانوں کودہشت گردی کی لعنت میں پڑنے سے روکنا ہے، ہم نے تمام وزرا ئے اعلی کی میٹنگ کی جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ وفاق المدارس کا بنایا گیا طلبا کا فارم تمام صوبوں سے لازمی پرکروایا جائے گا۔امریکہ کے اندر بھی کثیر تعداد میں پاکستان کی قربانیوں کی حمایت موجود ہے۔ برکس میں چین نے کوئی یو ٹرن نہیں لیا ۔ نیشنل ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عمل درآمد ترجیح ہے۔ انتہا پسندی جنم دینے والے اسباب روکنے کے لیے متبادل بیانیہ اجاگر کرنا بنیادی مقصد ہے۔ وزراء اعلیٰ کیساتھ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ تمام صوبوں کے وزراء داخلہ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہو کرے گا۔ وفاق المدارس کے طلباء کے رجسٹریشن فارم پر صوبائی وزراء اعلیٰ نے اتفاق کیا ہے۔دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی دی گئی قربانیوں کی تفصیل پر مشتمل کتابچہ دنیا بھر میں پاکستان کے سفیروں کو بھجوایا جائے گا۔سینیٹر جاوید عباسی نے بین الاقوامی سمگلر اور منی لانڈرنگ کرنیوالے غیر ملکی شہری کی پاکستانی شہریت کی دستاویزات تیار کرنے میں سفارتخانے کے عملے کے ملوث ہونے اور غیر ملکی شہری کو پاکستان لانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ جس پر ایف آئی اے حکام نے آگا ہ کیا کہ جعلسازی اور غیر قانونی کام میں ملوث سرکاری اہلکار شامل تفتیش کرلیے گئے ہیں۔ جس پر کمیٹی نے ہدایت دی کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی سفیر کو واپس بلوایا جائے۔ اگلے اجلاس میں سیکرٹری وزارت خارجہ کو طلب کرلیا گیا۔ سینیٹر محمد سیف نے کہا کہ محکمانہ کارروائی کی جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سفارتخانے کے ملازمین نے مجرمانہ غفلت کی ایف آئی اے کے ذریعے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ ۔ سینیٹر جاوید عباسی نے ایف آئی اے کی تفتیش پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قومی خدمت سرانجام دینے والے افسران کو ایوارڈ دیئے جائیں۔ سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز مواد کے بارے میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں اور ان کے خاندانوں کو بھی ذلیل کیا جاتا ہے۔ مریم نواز ہماری بیٹی ہے ۔ ان کے بارے میں بہت غلط باتیں کی گئیں ۔ ایف آئی اے جعلی فیس بک اکاؤنٹس کا پتہ چلائے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مضبوط بنانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ سینیٹر کریم احمد خواجہ کی طرف سے خودکشی کی کوشش کرنے والے کی ایک سال کی سزا کو ختم کرنے کے بل پر بحث ہوئی۔ سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ خودکشی کرنے والے ذہنی مریض ہیں ۔ سزا کی بجائے علاج کرانا چاہیے ۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ایسے لوگو ں کو ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سینیٹر اسرارللہ زہری نے کہا کہ بدعنوانی کے بعد لوگ خودکشی کیوں نہیں کرتے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل پر اعتراض نہیں شہری لحاظ سے دیکھنا ہوگا مجھے اسلامی نظریاتی کونسل حکام نے آگا ہ کیا ہے کہ خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہیں ہوتا۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ کیا خودکش حملہ کرنے والوں کے جنازے ہوتے ہیں اور ورثاء کو مبارکبادیں بھی نہیں دی جاتیں۔ سینیٹر صالح شاہ نے کہا کہ خودکشی کرنے والے کا جنازہ پوشیدہ طریقے سے پڑھنا ہوتا ہے۔ شریعت میں ایسا نہیں کہ اس کا جنازہ پڑھا ہی نہیں جاتا ۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ غیر متوازن نظام کی وجہ سے ڈپریشن عام ہے ۔ اس کے خاتمے کے لیے آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے۔ سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ کونسل کا چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے کونسل کی طرف سے رائے نہیں دے سکتے ۔ اس بارے میں نہ تو کوئی آیت اور نہ ہی کوئی حدیث موجود ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سائیکاٹرک کونسل ، لاء ڈویژن سے رائے لینے کے علاوہ عوامی سماعت بھی کرائی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ اگر سزا ہے تو قانون کی اہمیت کے لحاظ سے رکھی گئی ہے۔ طالب علم فیل ہوجائے تو خودکشی کرلیتا ہے ۔اس حوالے سے اگر قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو خودکشی کی کوشش کرنے والے کے لیے سزا ہونی چاہیے۔ سینیٹر اسراراللہ زہری نے اپنی پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ میری پارٹی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے ۔ پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے ۔ لیکن صوبہ بلوچستان میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا پنجگور میں اجلاس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی جو امتیازی سلوک ہے ۔ احسن اقبال نے اسلام آباد میں عوامی مرکزکی آتشزدگی کے حوالے سے کہا کہ عوامی مرکزمیں آتشزدگی سے دو افراد کے جاں بحق ہونے پر انہیں افسوس ہے، پولیس نے انہیں چھلانگ نہ لگانے کا کہا تھا تاہم انتظامیہ نے ہیلی کاپٹر یا کوئی اورمدد نہیں مانگی۔واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے بلند و بالا عمارات کے حوالے سے کہا کہ آگ سے بچاؤ کے آلات کی تنصیب ضروری ہے ۔ پورے ملک سے شکایات آرہی ہیں۔ زیادہ تر عمارتوں میں آلات موجود نہیں ۔اداروں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے تمام فریقین سے مشاورت کے بعد جامع بل منظور کرلیا ہے ۔ قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔سی ڈی اے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد طاہر کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کی رپورٹ چیئرمین سینٹ کو بھجوائی گئی۔ عوامی عرضداشت پر محمد طاہر نے بتایا کہ فیصل مسجد اسلام آبادمیں صفائی میں فنڈزکی کمی بنیادی وجہ ہے۔ حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں لیکن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر بہرام ظہیر نے قادیانی کا الزام لگادیا ہے اور کہا ہے کہ یونیورسٹی کے 30ہزار طلباء نے میرا کیوں بندوبست نہیں کیا ۔ ایف آئی اے ، چیئرمین سینٹ ، چیئرمین قائمہ کمیٹی کابینہ ڈویژن سینیٹر طلحہ محمود کو درخواستیں دی ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اسلام آبا دپولیس سے انکوائری ایف آئی اے کے پاس آگئی ہے۔ فیس بک انتظامیہ سے بھی تفصیل مانگی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ ایس پی پولیس اسلام آباد محمد طاہر کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے ۔ ایف آئی اے 10دنوں میں رپورٹ پیش کرے ۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سخت جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔ ایمان بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔ سخت کارروائی کی ضرورت ہے ۔ ایک اور مشال واقعہ نہ ہوجائے۔ اجلا س میں برما کے مسلمانوں اور عوامی مرکز اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا کی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال ، سینیٹرز شاہی سید ، صالح شاہ، جاوید عباسی ، محمد علی سیف کے علاوہ سیکرٹری داخلہ ، ایف آئی ا ے حکام نے شرکت کی۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ اول -