امریکی سپریم کورٹ کا پناہ گزینوں کی آمدپر عائد پابندی بحال کرنے کا حکم

امریکی سپریم کورٹ کا پناہ گزینوں کی آمدپر عائد پابندی بحال کرنے کا حکم

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)امریکہ کی سپریم کورٹ نے حکومت کو دنیا بھر سے آنیوالے پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحا ل کرتے ہوئے صد ا ر تی حکم نامے پر عملدرآمد کی اجازت دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سپریم کورٹ کو درخواست دی تھی کہ وفاقی ا پیلز کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس کے تحت امریکہ میں 24000 مزید پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دی جانی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جزوی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں ہائیکورٹ نے سفری پابندیوں سے متعلق صدر ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے 6 مارچ کو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن سے آنیوالے پناہ گزینوں کی آمد پر 120 روز کیلئے پابندی عائد کی گئی تھی،صدر ٹرمپ نے کا دعویٰ تھااس اقدام کا مقصد دہشتگردی کے واقعات کو روکنا ہے۔امریکی عدالتوں نے صدارتی حکم نامے کے دائرہ اختیار میں کمی کی ہے، جیسے گزشتہ ہفتے ایک عدالت نے حکم دیا کہ قانونی طور پر امریکہ میں مقیم لوگوں کے دادا، دادی، نانا، نانی، والدین کے بہن بھائیوں اور ان کے بچوں پر یہ سفری پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے اس فیصلے کیخلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم عدالت کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پناہ گزینوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی انتہائی وسیع ہے اور عدالت نے اْن پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دیدی جن کے پاس کی ری سیٹلمنٹ ایجنسی کی جانب سے باقاعدہ پیشکش موجود تھی۔انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کے اس حصہ کیخلاف اپیل کی اور سپریم کورٹ نے ایک جملے کے حکم نامے میں حکومت کا موقف درست قرار دیا۔صدر ٹرمپ کے حکم نامے کو ریاست ہوائی کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے دفتر سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں ہوا ۔

پابندی بحالی حکم

مزید :

کراچی صفحہ اول -