موسم سرما میں ایل پی جی مافیا کی ممکنہ بلیک مارکیٹنگ، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

موسم سرما میں ایل پی جی مافیا کی ممکنہ بلیک مارکیٹنگ، بڑے پیمانے پر کریک ...

  

لاہور(لیاقت کھرل)موسم سرما میں ایل پی جی مافیا کی ممکنہ بلیک مارکیٹنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیلئے ’’پلان‘‘ ترتیب دے دیا گیا ہے۔ غیر معیاری سلنڈر، ناپ تول میں کمی و بیشی اور ناجائز منافع خوری سمیت قیمتوں میں لوٹ مار پر باقاعدہ مقدمے درج ہوں گے۔ پہلے مرحلہ میں ڈی سی او لاہور کی نگرانی میں کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے جس کے لئے سروے مکمل ہونے پر چھاپہ مار ٹیموں کو ڈیلروں اور دکانداروں کی فہرست فراہم کر دی جائے گی۔ ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو اوگرا ذرائع نے بتا یاہے کہ وزیر اعظم کے حکم پر اوگرا نے ایل پی جی مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلہ میں ضلعی سطح پر کریک ڈاؤن کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلہ میں ضلعی سطح پر کریک ڈاؤن کیلئے باقاعدہ ’’پلان‘‘ ترتیب دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مافیا کی من مانیوں کی لوٹ مار کے خلاف اوگرا کو ایل پی جی ڈسٹی بیوشن اور صارفین کی جانب سے باقاعدہ خطوط کی شکل میں متعدد شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ شکایات پر مبنی 71خطوط بھی ملے ہیں۔ جس میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ موسم سرما سے قبل ہی ایل پی جی مافیا سرگرم ہو گیا اور اوگرا سے منظوری کیلئے بغیر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، گزشتہ دس سے بارہ دنوں کے اندر ایل پی جی کی قیمتوں میں تین بار اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ایل پی جی 80سے بڑھ کر 100روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے اس میں مارکیٹنگ کمپنیوں کے بعد دکانداروں نے الگ سے لوٹ مار شروع کر رکھی ہے جس میں 100روپے کی جگہ 105روپے کلو تک فروخت کی جا رہی ہے اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف ’’پلان‘‘ ترتیب دے دیا گیا ہے جس میں ڈی سی اوز اور مقامی پولیس کے ذریعے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، پہلے مرحلہ میں ڈی سی او لاہور کی نگرانی میں ایل پی جی کی ناجائز منافع خوری اور قیمتوں میں لوٹ مار کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے جس میں ٹاؤنز کی سطح پر خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جس میں ضلعی حکام کے ساتھ مقامی پولیس اور محکمہ لیبر کی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں چیئرمین اوگرا عظمیٰ عادل کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ چھاپہ کے دوران ایل پی جی سلنڈرز کا معیار ناپ تول کے پیمانوں سمیت قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ جس میں اوگرا کے مقرر کردہ کمپنی کے تیار شدہ سلنڈر کی جگہ غیر معیاری سلنڈرز ضبط کئے جائیں گے، مقدمہ درج کرایا جائے گا، ناپ تول کے پیمانوں میں گڑ بڑ پر محکمہ لیبر اور محکمہ انڈسٹریز کا ڈی او مانیٹرنگ موقع پر جرمانہ کرے گا اور جرمانہ کیلئے چالان تیار کر کے سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بھی پیش کیا جائیگا، اسی طرح ایل پی جی مقررہ قیمتوں سے زائد نرخوں اور منافع خوری پر اوگرا کے قانون کے تحت ضلعی حکام مقدمہ درج کرائیں گے۔ جس میں ناجائز منافع خور اور ایل پی جی کی زائد قیمتیں وصول کرنے والے ڈیلر اور دکاندار کو موقع سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جائے گا اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ اسی سلسلہ ڈیلروں اور دکانداروں کی فہرست فراہم کی جائے گی۔ جس کے ساتھ چھاپہ مار ٹیمیں کریک ڈاؤن شروع کر دیں گی اس حوالے سے ڈسٹی بیوشن ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین محمد عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ دکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی بجائے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ ایل پی جی مافیا کا خاتمہ ہو جائے گا تو ایل پی جی کبلیک میں فروخت نہیں ہو سکے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -