صدارتی انتخابات میں شکست، ہیلری نے خود کو ذمہ دار قرار دیدیا

صدارتی انتخابات میں شکست، ہیلری نے خود کو ذمہ دار قرار دیدیا
صدارتی انتخابات میں شکست، ہیلری نے خود کو ذمہ دار قرار دیدیا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) 2016ء کے صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا ہے انتخابات کے بعد تقریباً ہر روز میں نے اپنی شکست کے اسباب پر غور کیا ہے اور قطع نظر اس کے کہ ایسا کیوں ہوا میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اس کی حتمی ذمہ داری میری اپنی ذات پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سابق وزیر خارجہ اور سابق خاتون اول نے یہ تجزیہ اپنی نئی کتاب "What Happened" (کیا ہوا؟) میں پیش کیا ہے، جو منگل کے روز مارکیٹ میں آئی ہے، جب انہوں نے نیو یارک سٹی کے ایک بک سٹور میں اپنے مداحوں کیلئے کتاب پر دستخط کئے۔ ہیلری کلنٹن نے لکھا ہے چونکہ یہ میری صدارتی مہم تھی اور میرے اپنے فیصلے تھے، اس لئے سب سے زیادہ میں خود اپنی شکست کی ذمہ دار ہوں۔ انہوں نے لکھا ہے میں نے 2008ء میں بارک اوباما کیخلاف صدارتی انتخاب سے بہت سبق سیکھے تھے اور ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مہم زیادہ بہتر طریقے سے چلائی تھی، لیکن میں امریکیوں کی گہری ناراضی اور اس تصور کو ختم کرنے میں ناکام رہی کہ میں Status Quo یعنی ’’حسب سابق صورتحال‘‘ کی نمائندہ ہوں۔ وہ کہتی ہیں میرے لئے یہ بات تکلیف دہ تھی کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، لیکن میرے عورت ہونے نے بھی انتخابات کو متاثر کیا۔ وہ کہتی ہیں 2016ء کا صدارتی انتخاب میرے لئے تکلیف دہ تھا اور نشاط انگیز بھی، یہ تاریخی بھی تھا اور المناک بھی، جس میں مجھے بہت اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ہیلری کلنٹن نے اگرچہ شکست کی بنیادی ذمہ داری اپنے آپ پر عائد کی ہے تاہم انہوں نے دوسرے افراد اور اداروں کا ذکر بھی کیا ہے جنہوں نے ان کی انتخاب جیتنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ای میلز کو اپنے نجی کمپیوٹر پر وصول کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی، لیکن اسوقت کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے مجھے سخت نقصان پہنچایا۔ اس نے صدارتی انتخاب سے صرف 11 دن قبل 28جولائی کو ڈرامائی طور پر ای میلز کی انکوائری شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس نازک مرحلے میں ٹرمپ اور روس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کومی کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس ضر و ر ہوا لیکن اس نے جو نقصان پہنچا دیا تھا وہ واپس نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ وہ آئیووا کی ریاست میں اپنی انتخابی ریلی شروع کرنے والی تھیں جب یہ اطلاع آئی کہ جیمز کومی نے ای میلز تحقیقات کے حوالے سے کانگریس کو خط لکھا ہے۔ ہیلری کلنٹن نے 2016ء کے انتخا با ت میں روس کی مبینہ مداخلت کا بھی تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ روسی صدر پیوٹن کو اس کیساتھ ذاتی پرخاش تھی جس کا بدلہ اس نے انتخابات میں مداخلت کرکے مجھ سے لیا۔ پیوٹن کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات اور نزم گوشہ میرے لئے پریشانی کا باعث بنا۔ ٹرمپ کے بارے میں ہیلری لکھتی ہیں ’’وہ صدر پیوٹن کو صرف پسند ہی نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی طرح کا ایک سفید فام آمر بننا چاہتا تھا جو اختلاف کرنیوالوں اور اقلیتوں کو دبانے، ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے، پریس کو دبانے اور چھپ چھپا کر اربوں ڈالر جمع کرنیوالا شخص تھا۔ وہ پوٹامیک دریا کے قریب رہ کر روس کا سوچتا تھا۔ پیوٹن کا ذکر کرتے ہوئے ہیلری لکھتی ہیں ’’ہمارے تعلقات طویل عرصے سے خراب چلے آرہے تھے ۔ پیوٹن خواتین کا احترام نہیں کرتا اور اپنے خلاف بات کرنیوالے ہر شخص کو دبا کر رکھتا ہے۔ اس طرح میرے لئے دہرا مسئلہ پیدا ہوگیا۔‘‘وہ کہتی ہیں جب میں نے پیوٹن کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تو جواب میں اس نے میڈیا کو بتایا بہتر ہے وہ عورتوں کیساتھ بحث نہ کرے، جو مجھے مسلسل کمزور قرار دیتا رہا۔ ایک مرتبہ اس نے مذاق میں کہا ’’ممکن ہے ایک عورت کی سب سے خراب برائی اس کی کمزوری نہ ہو‘‘ ہیلری نے اپنی شکست میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے امیدوار برنی سینڈرس کے کردار کا بھی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ا گر چہ با لآ خر میں نے اسے شکست دی اور اس نے میری توثیق بھی کر دی لیکن مختلف مسائل پر اتفاق کے باوجود اس نے مجھے کافی نقصان پہنچانے کی کو شش کی۔ برنی سینڈرس نے ہیلری کلنٹن کے بارے میں تاثر دیا کہ اس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ وہ خود کو ’’ترقی پسند چیمپیئن‘‘ قرار دیتا رہا۔ ہیلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا وہ پیوٹن کیلئے ایک مکمل ’’ٹروجن گھوڑا‘‘ (Trujan Horse) کی صو ر ت اختیار کرگیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’ٹرمپ واضح طور پر ’’امریکہ اور دنیا کیلئے ایک خطرہ ہے‘‘ اور سوال کرتی ہیں کیا وہ صدارت کو واقعی سنجیدگی سے لیتا ہے؟ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ جتنا وقت وہ گاف کھیلنے، ٹوئٹر پیغام لکھنے اور کیبل نیوز دیکھنے میں صرف کرتا ہے اس کے بعد صدارت کیلئے کام کرنے کا کہاں وقت بچتا ہے۔ہیلری کلنٹن نے یہ بھی اعتراف کیا ہے صدارتی مہم میں اس نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ سخت مقابلے والی ریاستوں میں اس نے اتنا وقت صرف نہیں کیا جس کی اصل میں ضرورت تھی۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں اگرچہ واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ کسی سرکاری عہدے کیلئے امیدوار نہیں ہوں گی لیکن ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ عوام کی بہرصورت نظروں میں رہے گی اور اس وقت میں یہاں موجود ہوں۔ہیلری کلنٹن نے اپنے ای میلز کے مسئلے پر میڈیا کے رویے پر بھی تنقید کی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ جس طرح میڈیا نے اور خاص طور پر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے اسے اچھالا ،وہ میری مہم کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوا۔ وہ اب افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ جب ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ایک نازک وقت پر ای میلز کے مسئلے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تو اسی نے فو ر ی طور پر اس کا سخت جواب کیوں نہیں دیا۔ ہیلری نے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کا اپنی کتاب میں خصوصی ذکر کیا کہ اس نے ای میلز کے مسئلے کو بہت اچھالا اور بڑھا چڑھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ میں نے بطور وزیر خارجہ ’’کلاسیفائیڈ انفارمیشن‘‘ کو ہینڈ کرنے کیلئے احتیاط نہیں برتی اور اسے اپنے ذاتی کمپیوٹر پر سنبھال کر رکھا۔

مزید :

صفحہ آخر -