اکادمی ادبیات کا لوک ادب کی اہمیت و افادیت پر لیکچر کا انعقاد

اکادمی ادبیات کا لوک ادب کی اہمیت و افادیت پر لیکچر کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام لوک ادب کی اہمیت و افادیت کے عنوان سے لیکچر کا انعقاد کیا گیا جبکہ آخر میں ’’ مشاعرہ ‘‘کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ جس کی صدارت ملک کے نامور ادیب شاعرمحسُن اعظم محسُن ملیح آبادی نے کی جبکہ مہمان خاص پروین حیدر، اعزاز ی مہمان لاہور آئے ہوئے جاوید آفتاب،سعودی عرب سے آئے ہوئے شوکت جمال اورافروز رضوی تھیں اور خصوصی لیکچر وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ سندھی کے سربراہ ڈاکٹر عنایت لغاری نے دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عنایت لغاری نے کہا کہ ادب اور ثقافت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزم ہیں۔ کوئی بھی تہذیب کتنی ہی قدیم کیوں نہ ہو جب اس پر تحقیق کی جائے گی تو اس کا ادب ضرور ملے گا ۔ لوک ادب المیہ حنرنیہ بھی ہوتا ہے اور طربیہ بھی یہ عوام کی ذھانت کا تخلیق کا ربھی ہوتا ہے اور ان کی تفریح و تفنن کا ذریعہ بھی جہاں تک لوک شاعری کا تعلق ہے اس میں حقیقی مصنوں میں بڑا ادب تخلیق ہواہے۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرونے کہاکہ لوک ادب ہمارا اثاثہ ہیں ۔ لوک شاعری کی معنٰی عوامی شاعری کی ہیں لیکن اسے ان معنوں میں عوامی سمجھاجاتا ہے کہیہ عوام کے دکھوں اور خوشیوں کا جذباتی ابال ہے۔لوک ادب انسان کے ذہنی ارتقا کا علامیہ ہے دراصل تو ہمات کو ذہنی ارتقا میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور ان توہمات سے ابھرنے والے احساس اور آزادی کی جستجو نے لوک ادب کو جنم دیا ہے اس وقت تمام زبانوں کے لوک ادب کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقعے پر مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا جن شعراء نے کلام سنایا ان میں محسن اعظم محسن ملیح آباد، رونق حیات،افروزرضوی،جاویدآفتاب،شوکت جمال،عرفان علی عابدی،پروین حیدر، نصیر سومرو، شہناز رضوی، زینت کوثرلاکھانی،فہمیدہ مقبول، سید اوسط علی جعفری، ضیاء شہزاد، نجیب عمر، وقار زیدی، عشرت حبیب،نشاط غوری، نواز علی ڈومکی،قمرجہاں قمر،تنویر حسین سخن،طاہر سلیم سوز، غازی بھوپالی، آصف علی آصف صدیق راز ایڈوکیٹ، عارف شیخ عارف،محسن سلیم، اقبال آفریدی غوری، اقبال رضوی، گوہر فاروقی، دلشاد احمد دہلوی، پروفیسر مجیب ظفر حمیدی،عمرانی ہمدانی سوایرہ سجاد، محمد قادر ، مہر جمالی،کاشف علی کاشف، تاج علی رعنا،سید مشرف علی، شفیق الرحمن،شاہن خان گبول، سید مہتاب شاھ، دلنواز دل، نے اپنا کلام قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -