چار ماہ کے بچے کی ختنہ کے بعد خون نہ رُکنے سے جان چلی گئی

چار ماہ کے بچے کی ختنہ کے بعد خون نہ رُکنے سے جان چلی گئی

  

شیرگڑھ (نامہ نگار) لوند خوڑ ٹاپ ڈی ہسپتال میں چار ماہ کے بچے کی ختنہ کے بعد خون نہ رُکنے سے جان چلی گئی ڈسپنسرہمایون نے گزشتہ روز عیسیٰ ولد اشفاق کا ہسپتال میں ختنہ کیاتھا لواحقین کا شدید احتجاج کے بعد لوند خوڑ پولیس نے ڈسپنسرہمایون کے خلاف روزنامچہ میں رپورٹ درج کی جبکہ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر گل آمین نے بھی محکمانہ کاروائی کی یقین دہانی کرائی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سلو بانڈہ لوند خوڑ کے رہائشی اشفاق نے اپنے چار ماہ کے بچے عیسیٰ کو ختنہ کرانے کے لئے لوند خوڑ ٹاپ ڈی ہسپتال لے آیا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈسپنسر ہمایون نے ان کا ختنہ کرایا عیسیٰ جیسے ہی گھر پہنچا تو ان کے زخم سے خون بہناشروع ہوگیا تو ان کے والد نے قریبی میڈیکل سٹور لایا انہوں نے خون روکنے کی کوشش کی بعد میں واپس لوند خوڑ ہسپتال لایاگیا جہاں مزید ایک ٹانکا لگایا گیا دوبارہ گھر پہنچنے پر خون کا بہنا شروع ہوگیا جس کو بعد ازاں مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کو بتایا گیا کہ ختنہ صحیح نہیں ہوا ہے خون زیادہ بہنے سے عیسیٰ کی موت واقع ہوگئی ان کو بدھ کی صبح اپنے گاؤں میں سپردخاک کردیا گیا نماز جنازہ کے بعد ان کے لواحقین نے پہلے ہسپتال میں اور بعد میں سڑک پر زبردست احتجاج کیا اور تقریباََ 40منٹ تک ہر قسم ٹریفک کے لئے روڈ کو بند کیا اس موقع پر ایس ایچ او لوند خوڑ نوردراز خان نے احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی اور ڈسپنسر ہمایون کے خلاف بچے کی موت کا روزنامچہ درج کرایا جبکہ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر گل آمین نے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی یقین دہانی کرائی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -