حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس ،اپیل 40ماہ زائد المیعاد ہے ،نیب کو سپریم کورٹ میں ایک ایک دن کی تاخیر کا حساب دینا ہوگا،قانونی ماہرین

حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس ،اپیل 40ماہ زائد المیعاد ہے ،نیب کو سپریم کورٹ میں ایک ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) نیب نے شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس ری اوپن کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ کے 11مارچ 2014ءکے فیصلے کے خلاف دائرکی جائے گی ،لاہور ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں نا صرف حدیبیہ پیپر ملز کے اخراج کا حکم دیا تھا بلکہ اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کو بھی غیرقانونی قرار دیا تھا ۔قانون کے تحت نیب اس فیصلے کے بعد60روز کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتا تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔یہ اپیل 10مئی2014ءتک فائل ہوسکتی تھی ،آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ اپیل زائد المیعاد ہے اور قانون کے تحت میعاد گزرنے کے بعد ہر ایک دن کی وجہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اپیل دائر کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی ۔اعظم نذیر تارڑ سمیت ممتاز آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے بیسیوں فیصلے موجود ہیں جن میں ملزموں کے خلاف ایک دن کی زائد المیعاد اپیل بھی ناقابل پذیرائی قرار دی گئی تاہم ملزموں کو اپیل کے حوالے سے عدالتوں میں مدت کے حوالے سے رعایت دینے کی روایت موجود ہے ۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا ذکر بھی آیا تھا اور نیب کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اس بابت لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی جائے گی ۔ حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 2000ءمیں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا جس میں میاں محمد نواز شریف اور میاں محمدشہباز شریف کے علاوہ ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد بشمول خواتین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا ،دسمبر2000ءمیں شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد یہ ریفرنس داخل دفتر کردیا گیا تھا اور عدم شہادتوںکے باعث اس کی تفتیش روک دی گئی تھی۔یہ ریفرنس موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیان کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا جوانہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے 25اپریل 2000ءکو دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ 1990ءکی دہائی میں حدیبیہ پیپر ملز کو شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا اس بابت قاضی فیملی کا نام بھی لیا گیا تاہم بعد میں اسحاق ڈار کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بیان مشرف حکومت نے دباﺅ ڈال کر حاصل کیا تھا۔2007ءمیں میاں محمدنواز شریف کی وطن واپسی کے بعد داخل دفتر کئے گئے اس ریفرنس کو ری اوپن کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔18اکتوبر 2011ءکو میاں محمد نواز شریف کی والدہ شمیم اختر اوردیگرملزموں نے اس ریفرنس کو بدنیتی ،عدم شہادتوں،بلاجوازاور سیاسی انتقام کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور پہلی ہی پیشی پرلاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کے حوالے سے نیب کو کارروائی سے روک دیا ،اس کیس کی سماعت مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔دونوں ججوں نے یہ ریفرنس خارج کرنے کا حکم جاری کردیا تاہم مسٹرجسٹس خواجہ امتیاز احمد نے ریفرنس خارج کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی دیا کہ نیب کے پاس اگر شہادتیں موجود ہیں تو وہ اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کرسکتا ہے جبکہ جسٹس فرخ عرفان خان نے قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد دوبارہ انکوائری نہیں ہوسکتی۔انکوائری کی حد تک ڈویژن بنچ کے اختلاف کے باعث یہ معاملہ ریفری جج کو بھیج دیا گیا ،فاضل ریفری جج نے نہ صرف ریفرنس خارج کرنے سے متعلق ڈویژن بنچ کے فیصلے سے اتفاق کیا بلکہ اپنے 11مارچ 2014ءکے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد نیب کو دوبارہ معاملے کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں ہے جس کے بعد27مئی 2014ءکو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد اکبر تارڑ نے تحریری طور پراپنی قانونی رائے دی کہ لاہور ہائی کورٹ کے 3ججوں کا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس خارج کرنے پر اتفاق ہے اور اس بابت ان کا تفصیلی فیصلہ موجود ہے ،ان کی طرف سے قانونی طور پر نیب کے کمزور ہونے کی بنا ءپر اپیل دائرنہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ،پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے چیئر مین کے نام تحریری نوٹ میں یہ بھی کہا کہ اس کیس کے ایک ملزم میاں محمد شریف انتقال کرچکے ہیں ،اگر 15سال بعد اس معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کی گئیں تو یہ کارروائی نیب کے لئے بدنامی کا باعث بنے گی اور اسے انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا جائے گا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر کی قانونی رائے سے اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل کے۔کے آغا (موجودہ جج سندھ ہائی کورٹ )نے اتفاق کیا اور اسے منظوری کے لئے چیئرمین نیب چودھری قمرالزمان کو بھیج دیا۔اس قانونی رائے کی روشنی میں چیئرمین نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا حکم صادر کیا۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا ذکر بھی آیا تھا اور نیب کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اس بابت لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی جائے گی ۔ اب لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،قانونی ماہرین کے نزدیک یہ اپیل زائد المیعاد اور ناقابل شنوائی ہے ،اس تاخیر کے ایک ایک دن کے بارے میں نیب کو سپریم کورٹ کو مطمئن کرنا پڑے گا کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ اپیل بروقت فائل نہیں کی جاسکی تھی ۔

مزید :

لاہور -