نیشنل ایکشن پلان پرجس طرح پاک فوج نے عمل درآمد کیا، سول اداروں نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی: خواجہ آصف

نیشنل ایکشن پلان پرجس طرح پاک فوج نے عمل درآمد کیا، سول اداروں نے وہ کارکردگی ...
نیشنل ایکشن پلان پرجس طرح پاک فوج نے عمل درآمد کیا، سول اداروں نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی: خواجہ آصف

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فوج نے جیسے پرفام کیا دنیا کی کسی فوج نے نہیں کیا، نیشنل ایکشن پلان پر جیسے پاک فوج نے عمل درآمد کیا اور قربانیاں دیں اس طرح سول اداروں نے اپنی کارکردگی نہیں دکھائی، بیرونی خطرات کوپاکستان جانتاہے اور وہاں جو طاقتیں ہیں ہم سب کے سامنے ہیں مگر ہمارے اندرونی دشمن پوشید ہ ہیں اس وجہ سے اندرونی خطرات زیادہ خطرناک ہیں، اس لئے ہمیں اندورنی دشمنوں سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے ہاﺅس کو ان آرڈر کرنا ہوگا۔

اصغر خان کیس پرمیرا بیان چوہدری نثار سے دوری کا باعث بنا: خواجہ آصف

نجی ٹی و ی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی امدا د کا محتاج نہیں ہے، ہم نے اپنے وسائل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان مستعدی سے دہشتگردی کےخلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی حوالے سے میں نے چین ، ایران اور ترکی کا دورہ کیا، تینوں ممالک نے پاکستان کے مﺅقف کی بھرپور کی ہے ، پاکستان کی طرح تینوں ممالک کی رائے ہے کہ افغان مسئلے کے حل کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی قابل عمل نہیں ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ افغانستان کے 45فیصد حصے پر عملا طالبان کا قبضہ ہے۔ امریکہ پاکستان کو الزام دینے کی بجائے افغانستان میں بہتری لائے۔افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی ہے کیوں کے16سالوں سے امریکی فوج افغانستان کے مسئلے کو عسکری طور پر حل نہیں کرسکی ہے اور پاکستان اس مسئلے کے سیاسی حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان نے دنیا کے مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں کی کانفرنس منعقد کی اور ان سے اس حوالے سے مشاروت کی۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیرونی ممالک کے دورے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین،ایران،ترکی میں افغانستان،باہمی تعلقات پربھی بات ہوئی،چین میں ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر ، مسئلہ افغانستان اور دوطرفہ معاملات پر گفتگو کی، چینی وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کی اور افغانستان کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔چین کے بعد ایران کا دورہ کیا، وہاں بھی امریکی پالیسی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایران میں صدرحسن روحانی ،نائب صدر،وزیرخارجہ سے افغان معاملے پر ہم آہنگی پائی گئی۔ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مﺅقف کی حمایت کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ترکی کے دورے میں ترک صدر اور دیگر قیادت سے انتہائی بامقصد اور نتیجہ خیز گفتگو ہوئی جبکہ انہوں نے بھی دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے مﺅقف کی بھرپور حمایت کی۔

اقوام متحدہ کے اجلاس کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ان کا تیرہ دنوں تک امریکہ میں قیام ہوگا ۔ اس قیام کے دوران وہ امریکی حکام ، روسی وزیر خارجہ، افغان وزیر خارجہ اور دیگر ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کریں گے اور ان تمام ملاقاتوں کے دوران دنیا کو پاکستان کے مﺅقف اور دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتایا جائے گا کیوں کہ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اپنی کوششیں دنیا کو بتانا ہے۔

بھارت کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت چین کے خلاف بھارت کو استعمال کر رہا ہے اور بھارت کے لئے دو سرحدوں پر الجھنا ناممکن نظر آتا ہے اس لئے اس نے پاکستانی افواج کو بلوچستان اور لائن آف کنڑول پر الجھا رکھا ہے اور وہ اس کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کشمیر میں مظالم کی انتہا کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر کے ساتھ میری ذاتی اور جذباتی وابستگی ہے۔کشمیر ی عوام کو پیلٹ گنوں کے ذریعے معذور کر رہا ہے جبکہ چین ، ایران اور ترکی نے کشمیریوں کو حق خود اردایت دینے کے پاکستانی مﺅقف کی بھرپور حمایت کی ہے ۔ پاکستان نے ایران اور ترکی کا کشمیر کے مﺅقف کی حمایت کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے المیے کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک انسانی المیہ ہے، پوری دنیا برمی حکومت کے خلاف ہے اور چین بھی میانمار حکومت کو سپورٹ نہیں کر رہا ، برما مسئلے پر ترک حکام سے گفتگو ہوئی ہے اور ترکی اس مسئلے کو لیڈ کر رہا ہے ۔ ترک صدر نے اس حوالے سے ایک فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے جس میں بنگلہ دیش سے ہی سامان خرید کر روہنگیا مسلمانوں کی بنیادی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ پاکستان نے کئی بار بنگلہ دیشی حکام سے رابطہ کرکے ریلیف کا سامان بھیجنے کی اجازت طلب کی لیکن بنگلہ دیش نے اجازت نہیں دی ، ڈھاکہ اس حوالے سے احتیاط سے کام لے رہا ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہ رہا کہ پاکستان کی طرح انہیں بھی ہمیشہ کے لئے مہاجرین کی میزبانی برداشت کرنا پڑے۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ چیرمین نیب کی تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہوگی اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی سے مشاورت جاری ہے انہوں نے تحریک انصاف کے الزامات کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ اگر سبکدوشی کے بعد چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان کو کسی ملک میں سفیر لگایا گیا تو مجھے پکڑ لینا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -