ایم کیو ایم کا سندھ میں دوبارہ مردم شماری کامطالبہ

ایم کیو ایم کا سندھ میں دوبارہ مردم شماری کامطالبہ
ایم کیو ایم کا سندھ میں دوبارہ مردم شماری کامطالبہ

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کو کم گنا جانا صرف مہاجروں یا اردو بولنے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سندھ میں رہنے والے ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے، ایم کیو ایم پاکستان مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے سندھ میں دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

دوسری نیشنل جوڈیشل کانفرنس کل کراچی میں منعقد ہو گی، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مہمان خصوصی ہوں گے

شہر قائد کے مقامی ہوٹل میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت مردم شماری سے متعلق مکالمے کی تقریب کا انقعاد کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو مسلسل معاشی و سماجی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، مردم شماری نے سندھ کے عوام کو دیوار میں چنوا دیا ہے، جان بوجھ کر کراچی کی آبادی کو کم شمار کیا گیا، مسلسل ناانصافیوں کی وجہ سے سندھ کے عوام میں احساس محرومی بڑھ کر احساس بیگانگی اور احساس عدم تحفظ پیدا کر رہا ہے۔

فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتی ہے، امن کراچی میں قائم ہوتا ہے اور کرکٹ میچز لاہور میں ہوتے ہیں، وسیم اختر نے کراچی میں ریسلنگ کا مقابلہ کرایا، اگر کوئی کراچی میں کرکٹ میچ نہیں کرا سکتا تو شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ کرانے کی ذمہ داری بھی لے سکتے ہیں۔

اس موقع پر میئر کراچی وسیم اخترکا کہنا تھا کہ جو مردم شماری میں بددیانتی کرے اور جو مقامی حکومتوں کو ان کے اختیارات نہ دے اس پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہئے۔

مزید :

کراچی -