وزیر اعظم عمران خان اور حکمرانی کے نئے اہداف

وزیر اعظم عمران خان اور حکمرانی کے نئے اہداف
وزیر اعظم عمران خان اور حکمرانی کے نئے اہداف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کسی بھی محاذ آرائی یا مسائل میں اُلجھے بغیر اپنے ویژن کے مطابق آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ نان ایشوز میں اُلجھ گئے تو پھر وہ منزل نہیں پاسکیں گے، جس کا انہوں نے خواب دیکھ رکھا ہے۔ آج کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے سیاسی عدم مقبولیت کے خوف سے قوانین کو پس پشت ڈالا ہے اور نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو اتنے طویل پیرول پر رہائی دی ہے کہ اس کی پہلے کبھی نظیر نہیں ملتی، اس طرح تو باقی قیدی بھی اتنا ہی لمبا عرصہ مانگیں گے۔ عموماً پیرول پر رہائی 12گھنٹے کے لئے ہوتی ہے، یہاں چھ دن کے لئے دی گئی ہے۔۔۔ قانون کی باتیں اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ پیرول پر اس رہائی کو سراہا جارہا ہے۔ اسے حکومت کا ایک اچھا فیصلہ قرار دے کر تعریف کی جا رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ بات بھی اس نکتے کو ظاہر کرتی ہے، جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ عمران خان کسی ایسے ایشو میں اُلجھنا نہیں چاہتے جو سیاسی مخالفین کو کسی انتقامی کارروائی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی گنجائش فراہم کرے۔ نواز شریف چھ دن کے لئے جیل سے باہر آگئے ہیں تو کیا ہوا، انہیں دو یا تین دن کا پیرول تو ملنا ہی تھا، جس کی قانون بھی اجازت دیتا ہے۔ گویا اس معاملے کو کھچاؤ تناؤ کی طرف جانے سے پہلے ہی وزیر اعظم عمران خان نے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کردیا۔

گزشتہ دنوں سب نے دیکھا کہ ایک عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد قادیانی میاں عاطف کو وزیر اعظم کی اقتصادی ریفارمز کمیٹی کا رکن نامزد کیاگیا تو گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ حکومت کا استدلال تھا کہ انہیں کسی کمیٹی کا سربراہ نہیں، بلکہ ممبر بنایا گیا ہے اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ایک تو عاطف میاں بہت قابل آدمی ہیں اور دوسرا اقلیتوں کو نمائندگی دینے کے نقطۂ نظر سے اُن کا نام شامل کیا گیا ہے، لیکن جلد ہی حکومت کو احساس ہوگیا کہ فضا ایسی نہیں کہ وہ لوگوں کو ان تاویلات سے مطمئن کرسکے۔ اس کے خلاف مظاہرے ہونے لگے، بے چینی پھیلتی گئی، اب ایک راستہ تو یہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے اس فیصلے پر ڈٹ جاتے اور دفاع کرتے اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ حکومت آغاز ہی میں کسی ایسے مسئلے کو اپنے گرد کمبل کی صورت لپیٹنے کی بجائے، اس فیصلے کو واپس لے لے، سو عمران خان نے فیصلہ کیا کہ فی الوقت عاطف میاں کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا جاسکتا، یوں اُن سے مستعفی ہونے کو کہہ دیا۔ اُن کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والے بھی بعدازاں نکل آئے، حالانکہ اُس وقت وہ خاموش رہے، جب حکومت کو اس معاملے پر سپورٹ کی ضرورت تھی۔ اب یہ انکشاف بھی ہو چکا ہے کہ عاطف میاں کو سعودی عرب نے ماہر معیشت کے طور پر اپنی قومی اقتصادی کانفرنس میں کلیدی خطاب کے لئے بلایا تھا اور یہ کانفرنس سعودی عرب کی وزارت کے تحت ہوئی تھی، گویا عاطف میاں کا ایک بڑے اقتصادی ماہر کے طور پر انتخاب بُرا نہیں تھا، مگر قادیانی ہونے کی وجہ سے جو مخالفت ہوئی اس کے اثرات سے بچنے اور بلا وجہ کی ایک سرگرمی میں توانائیاں ضائع کرنے کے حکومت نے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھ گئی۔

ان چھوٹے چھوٹے ایشوز سے نمٹنے کی حکمتِ عملی سے لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان وقت ضائع کئے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے 6 ستمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بڑی بات یہ کہی کہ فوج اور سول حکومت میں کوئی محاذ آرائی نہیں، کوئی اختلاف نہیں، یہ بہت بڑی حکمتِ عملی ہے جو حکومت کو بے فکری کے ساتھ کام کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ پچھلی حکومتوں کی بیشتر توجہ تو اس بات پر رہی کہ فوج کو کیسے سنبھالیں، اسے قومی معاملات میں مداخلت سے کیسے روکیں یا حکومتی بالا دستی اس پر کیسے قائم کریں؟ اس کشمکش میں جو کچھ ہوتا رہا، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس معاملے کو جس وزیر اعظم نے بھی اپنا خبط بنایا، وہ یکسوئی سے حکومت نہیں کر سکا۔ وزیر اعظم عمران خان غالباً اس خبط سے باہر ہیں۔ انہیں فوج خود اپنے قریب کر رہی ہے، اور اس طرح قریب کر رہی ہے، جیسے کسی بڑے کو کیا جاتا ہے۔ پہلے جی ایچ کیو میں بریفنگ دی گئی، پھر چھ ستمبر کی تقریب میں مثالی پروٹوکول دیا گیا اور اب آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل نوید مختار نے بریفنگ دی۔

یہ سب باتیں بہت مثبت اشارے ہیں۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی وزیر اعظم فوج کے ساتھ اتنے مضبوط روابط رکھے اور اس پر بعض حلقوں کی طرف سے تنقید نہ ہو۔ سو کوئی وزیر اعظم کو کٹھ پتلی کہہ رہا ہے، کسی کے خیال میں فوج اپنے مہرے کو چلا رہی ہے۔ کوئی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے کو سول بالا دستی کی توہین قرار دے رہا ہے،اعلیٰ ہذالقیاس، جتنے منہ اتنی باتیں، مگر ملک کی اگر عمومی صورتِ حال دیکھی جائے تو صاف لگ رہا ہے کہ ایک سکون کی فضا ہے، حکومت پوری طرح اپنا کام کر رہی ہے۔ کابینہ کے مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں۔ کمیٹیاں اپنا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فیصلے ہو رہے ہیں اور ان پر عملدرآمد کی رفتار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، گویا واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ملک میں ایک حکومت موجود ہے، جو اپنا کام کر رہی ہے۔

پچھلی حکومت کے دور میں ملک کے تین بڑے اداروں کے درمیان ایک واضح جنگ کا سماں تھا۔ حکومت، عدلیہ اور فوج ایک دوسرے کے متحارب کھڑے تھے۔ روزانہ عدلیہ اور فوج پر چڑھائی ہوتی تھی۔ صورتِ حال کس قدر کشیدہ تھی اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ پچھلی حکومت کے تین اہم لوگوں کو توہین عدالت پر نااہل قرار دیا گیا۔ ایک کو تو جیل بھی بھیجنا پڑا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ فوج کی طرف سے بار ہا کئی باتوں پر وضاحتی پریس کانفرنسیں کی گئیں اور یہ یقین دلایا گیا کہ فوج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کا سیاسی امور میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں، مگر اس کے باوجود یہ کہا جاتا رہا کہ فوج جمہوریت کو چلنے نہیں دے رہی۔ پہلے نوازشریف، پھر شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم کی حیثیت سے آئے اور یہ کہتے رہے کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا اور ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء کی صورتِ حال ہے۔ ریاستی اداروں کے درمیان یہ بدترین عدم اعتمادی تھی جو کسی بھی طرح قومی سلامتی کے لئے سود مند ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔

ابھی تک حقیقی معنوں میں یہ راز فاش نہیں ہوا کہ آخر وہ کیا ایشوز تھے، جن پر حکومت کے عدلیہ اور فوج سے اس قدر سنگین اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ملاقاتیں تو نوازشریف کی بھی آرمی چیف سے ہوتی تھیں اور شاہد خاقان عباسی بھی قومی سیکیورٹی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملتے تھے۔ پھر مسائل کو حل کیوں نہیں کیا گیا اور کون سی انا کی دیواریں تھیں جو گر نہ پائیں اور بالآخر حکومت اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہو گئی۔

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو قبول کرنے کی سوچ ختم ہو چکی تھی۔ غلط فہمیاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ اچھی باتیں اور اچھے اقدامات بھی ان کے نیچے دب کر دم توڑ دیتے تھے۔ وگرنہ یہ تو بڑا اچھا موقع تھا جب جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نوازشریف کے انتخاب پر چیف آف آرمی سٹاف بنے تو ایک اچھی اور باہمی احترام کی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جاتی۔ کچھ لچک نوازشریف پیدا کرتے اور کچھ فوج سول حکومت کی طرف قدم بڑھاتی، مگر یہ سب خواب ہی رہا، اس کو تعبیر نہ مل سکی یہ سب کچھ عمران خان کے سامنے ہے۔ وہ اس حقیقت کو پا چکے ہیں کہ پاکستان میں فوج اور عدلیہ ایک بڑی حقیقت ہیں، جنہیں آئینی تحفظ بھی حاصل ہے، انہیں حکومت اپنے ساتھ لے کر چلے گی تو کامیاب رہے گی، اگر ان کے ساتھ نان ایشوز میں الجھ جائے گی تو اس کے اصل کام رک جائیں گے۔

سو اس سوچ کے مظاہر ہمیں نظر آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان پوری طرح حکومتی امور نمٹانے میں مصروف ہیں، بلکہ ان کی مصروفیات کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ وہ چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم محاذ آرائی میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے ایک ایک لمحے کو حکومتی امور نبھانے میں صرف کر رہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن نان ایشوز میں الجھی ہوئی ہے اور آج کا سب سے بڑا نان ایشو یہ پکڑا ہوا ہے کہ ڈیم بنانے کے لئے چندہ مہم کی مخالفت کر رہی ہے، حالانکہ پوری قوم یہ چاہتی ہے کہ ملک میں ڈیم بنیں تاکہ مستقبل میں خشک سالی ہمارا مقدر نہ بنے، مگر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے پھر بھی اپنی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں، جنہیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

مزید : رائے /کالم