مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دور

مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دور
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دور

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیگم کلثوم نواز کی رحلت کی خبر جب پاکستانی میڈیا چینلوں پر بریک ہوئی تو ایک عجیب عالم تھا۔ مرحومہ کے شوہر، بیٹی اور داماد اڈیالہ جیل میں تھے۔ ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی اس کا ادراک خون کے رشتوں کے سوا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ان کے دونوں بیٹے حسین اور حسن اگرچہ لندن ہی میں تھے اور مرحومہ کی نظروں کے سامنے آتے جاتے رہتے تھے لیکن گلے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث وہ اپنے جگر گوشوں سے کھل کر کوئی بات بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ اپنی اولاد کے غموں اور ابتلاؤں میں شریک ہونا بے حس سے بے حس ماؤں کے لئے بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی صحت مند زندگی میں جس دلیری، بے خوفی اور بہادری کا مظاہرہ کیا، اس سے ایک زمانہ واقف ہے۔ نون لیگ کے شدید ترین نقاد بھی بیگم صاحبہ کو ’’ایک بہادر خاتون‘‘ کہنے پر یک زبان ہیں۔ میں جب بھی ان کو کسی ٹی وی چینل پر ہسپتال کے بستر پر لیٹے دیکھتا تھا تو ان کی آنکھیں عموماً یا تو بند ہوتی تھیں یا ادھ کھلی ہوتی تھیں۔ لیکن ان نیم وا آنکھوں میں بھی بے بسی اور بے چارگی کی جگہ مستقل مزاجی اور جرات مندی کے ڈورے نظر آتے تھے۔ وہ اگرچہ پہلو تک بھی بدل نہیں سکتی تھیں لیکن ان کے دل کی دنیا میں نجانے کتنے پہلو تبدیل ہو رہے ہوتے تھے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ آنکھیں ، دل کی غماز ہوتی ہیں لیکن مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ نہ صرف آنکھیں بلکہ چہرے کا رواں رواں بھی حالِ دل سنا رہا ہوتا ہے۔

مجھے دو تین بار اس کیفیت کے ذاتی تجربے سے گزرنا پڑا۔ پہلی بار اس وقت جب آپریشن کے بعد میری اہلیہ کے خون میں ایک باریک سا قطرہ (کلاٹ) جم گیا اور ان کی سانس اکھڑنے لگی تو میں ان کو اسلام آباد سے CMH راولپنڈی لے گیا۔ ایمبولینس میں لیٹے لیٹے ان کی حالت کئی بار غیر ہوئی اور پھر جب وہ چھ ماہ تک ہسپتال میں ’’DIL‘‘ (Dangeriously ill List)پر رہیں تو مجھے کئی بار آدھی رات کو اسلام آباد سے راولپنڈی آنا پڑا۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والی نرسیں اور ڈاکٹربتایا کرتے تھے کہ اب صرف اللہ سے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ میں جب ان کے چہرے کو دیکھتا تو اگرچہ ونٹی لیٹر پر تھیں اور آنکھیں بند ہوتی تھیں لیکن پھر بھی میری نگاہیں سانس لینے والی مشین کے نشیب و فراز پر مرکوز رہا کرتی تھیں۔۔۔۔ وہ بڑا صبرآزما وقت تھا!

بیگم کلثوم نواز صاحبہ کا وہ ویڈیو کلپ جس میں ان کے شوہر ان سے وداع ہوتے وقت ان کو آواز دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: ’’کلثوم! آنکھیں کھولو اور میری طرف دیکھو‘‘ تو ان کی بھرائی ہوئی آواز کی کچھ بھی خبر بیگم صاحبہ کو نہیں تھی۔ وہ بالکل خاموش اور چپ چاپ لیٹی رہیں اور میاں صاحب ان کو ہسپتال میں چھوڑ کر پاکستان آ گئے۔ وہ منظر بھی بہت ہی دلگداز تھا۔ کسی بھی صاحبِ دل کی آنکھیں اسے دیکھ کر نم ہونے سے بچ نہیں سکتیں۔

او رجب سوچتا ہوں کہ اپنی اہلیہ کو اس عالم میں چھوڑ کر نوازشریف صاحب کا پاکستان کے لئے رختِ سفر باندھنا اور ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز صاحبہ کا اپنے والد کے ساتھ ہمسفر ہونا، ان کی والدہ کی مستقل مزاجی کی وہ تربیت تھی جو مرحومہ نے اپنی اولاد کے پروان چڑھانے میں کی تھی۔ بلاشبہ سیاست ایک سفاک کھیل ہے۔ میاں صاحب تین بار پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے۔ اس طویل سفر میں بے اختیاری کے مرحلے بھی تین بار آئے۔ لیکن ان مراحل کو میاں صاحب نے جس پامردی سے طے کیا وہ ان کے بھی آہنی اعصاب کی دلیل ہیں۔

ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور عدلیہ اور فوج کے بارے میں ان کے بیانیوں کی مخالفت بھی کی جا سکتی ہے لیکن ان کے عزمِ صمیم کے جذبے سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بڑے لیڈر کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکل اوقات میں بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے۔

مجھے اس بات میں کچھ شبہ نہیں کہ وہ ایک بار نہیں کئی بار اکیلے میں روئے ہوں گے۔ بیگم صاحبہ سے ان کی رفاقت نصف صدی (1971ء سے 2018ء تک) کا قصہ تھا، دوچار برس کی بات نہیں تھی۔ لیکن میاں صاحب کے جذباتی استقلال کو سلام کہ انہوں نے اپنے خلوت خانہ ء دل کو اس انداز میں جلوت خانوں سے پوشیدہ رکھا کہ جس طرح مولانا ابوالکلام آزاد نے جیل میں اپنی اہلیہ کی وفات کی خبر پانے پر رکھا تھا۔ وہ بھی برصغیر کی تحریکِ آزادی کا ایک بہت بڑا اور جاندار کردار تھے۔ ’غبار خاطر‘ میں انہوں نے اہلیہ کے انتقال پر اپنے دل کی جن کیفیات کو سپردِ قلم کیا ہے، وہ نوازشریف صاحب کی اڈیالہ جیل میں کیفیاتِ قلبی سے کچھ مختلف نہیں ہوں گی۔۔۔ لیکن انسان آخر انسان ہے، پیالہ و ساغر تو نہیں کہ گردشِ مدام سے گھبرانہ جائے۔ جب ان کو پیرول پر رہائی ملی اور جاتی عمرہ پہنچے تو وہ سارے لمحات اور مناظر ان کو یاد آ رہے ہوں گے جو انہوں نے بیگم صاحبہ کے ساتھ گزارے۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہوگی کہ ان کی حالت غیر ہو گئی اور ڈاکٹروں نے ان کو آرام کا مشورہ دیا۔ میں جہاں بیگم کلثوم نواز مرحومہ کے بارے میں دعا گو ہوں کہ اللہ کریم ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے وہاں میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی مریم نواز صاحبہ کے لئے بھی دست بدعا ہوں کہ وہ ان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ایک باوفا اور دور اندیش بیوی کا مل جانا کسی بھی شوہر کی ترقی کا پہلا اور آخری زینہ شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا بعض پودے جھکتے نہیں ٹوٹ جاتے ہیں۔ میں نے اپنی سروس کا نصف عرصہ پاکستان کے کوہستانی علاقوں اور مرغزاروں میں گزارا ہے۔ سروو صنوبر کے کئی جنگلات دیکھے ہیں اور کئی بار ان میں سیر کرتے ہوئے سوچا ہے کہ بارشوں، آندھیوں اور تیز ہواؤں کے جھکڑوں میں یہ درخت بالکل سیدھے کھڑے رہتے ہیں۔ جھکنا ان کی فطرت نہیں ہوتی! وہ ٹوٹ جاتے ہیں لیکن خم نہیں ہوتے۔۔۔

ملٹری کمانڈروں کی دو خوبیاں مشہور ہیں جو بظاہر ایک دوسری کی ضد ہیں۔ یعنی لچک پذیری اور مستقل مزاجی!نوازشریف صاحب نے اقتدار کے دوران بھی اور اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بھی ان دونوں اوصاف کا کئی بار مظاہرہ کیا۔ جنرل مشرف نے جب ان کو سپردِ زنداں کر دیا تو وہ پھر بھی کسی رعائت کے طالب نہ ہوئے اور اب بھی پیرول پر رہائی پانے کی درخواست پر نہ سابق وزیراعظم نے دستخط کئے اور نہ ان کی صاحبزادی نے۔۔۔وہ جب لچک پذیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودیہ چلے گئے تو یہ بھی کسی کمزوریء کردار کی علامت نہیں تھی۔ یہ دونوں قائدانہ صلاحیتیں ہیں جو ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دنیا کی عسکری تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھی لبریز ہے کہ بڑے بڑے لیڈروں نے مشکل وقت میں اپنی زندگی کے ساتھی سے مشورہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔

آنحضورؐ کی زندگی ء مبارکہ کا وہ واقعہ یاد کیجئے جب سن 6ہجری میں آپ عمرہ کی غرض سے مدینہ سے مکہ پہنچے۔ لیکن قریشِ مکہ نے ان کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی۔ ایسے میں چاروں خلفائے راشدین نے مشورہ دیا کہ آپ کفار سے جنگ کا آغاز کردیں۔ لیکن آپؐ کا وجدان کہہ رہا تھا کہ ابھی اس جنگ کا وقت نہیں آیا۔ آنحضورؐ سخت کشمکش میں تھے۔ آخر ام المومنین ام سلمہ کے پاس گئے اور ان سے مشورہ مانگا۔۔۔ ذرا غور فرمایئے خدا کا سب سے برگزیدہ پیغمبر اور خاتم النبیّن کس سے مشورہ طلب کر رہا ہے؟۔۔۔ لیکن چونکہ وہ زندگی کی ساتھی تھیں اس لئے ان سے مشورہ مانگا گیاتو انہوں نے فرمایا: ’’آپ نے اگر واپس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اونٹوں کی قربانی کیجئے اور اکیلے واپس جانے کا قصد فرمایئے۔ جو صحابی آپ کی اس واپسی کو اپنی شکست سمجھ کر لڑنے مرنے کو تیار ہیں، ان کی پرواہ نہ کیجئے‘‘۔

چنانچہ آپ واپس مدینہ روانہ ہوئے تو ایک ایک کرکے تمام جیدّ صحابہ کرامؓ نے بھی ان کے پیچھے پیچھے آنا شروع کردیا۔۔۔ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ وہ سورۂ مبارکہ نازل ہوئی جس کو خدا نے ’’فتحِ مبین‘‘ قرار دیا۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ مرحومہ بیگم صاحبہ نے اپنے شوہر کے کسی فیصلے کو سپورٹ کیا ہو اور میاں صاحب نے نہ مانا ہو اور کسی کو اپوز (Oppose) کیا ہو تو میاں صاحب نے ان کے مشورے کے خلاف عمل کیا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ نواز شریف صاحب کے تمام کامیاب یا ناکام فیصلوں کو مرحومہ کی 100% تائید حاصل تھی۔

اگر جولائی میں آخری بار میاں صاحب بسترِ مرگ پر پڑی اہلیہ کے پاس الوداع کہنے گئے تھے تو ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اگر ہوش میں ہوتیں تو ان کا جواب کیا ہوتا۔۔۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان ضرور واپس جائیں گے۔

میاں صاحب کے مخالفین کچھ بھی کہتے رہیں، ان کے استقلالِ طبع کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ میں نے خود ان کالموں میں کئی بار ان پر تنقید کی اور لکھا کہ ان کو فلاں مسئلے میں لچک کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور فلاں باب میں فوج کے ’ڈاکٹرین‘ کو تسلیم کرلینا چاہئے تھا لیکن وہ اپنے دھن میں مست رہے۔ میرے جیسے بے نوا کالم نگاروں کے کسی کالم کی کوئی بھی بھنک بھلا ان کے کانوں تک کب پہنچی ہوگی کہ ان کے چاروں طرف جن مشیروں کا گھیرا تھا، وہ بہت منہ زور اور فصیح البیان تھے۔ تاہم آج بھی میری گزارش ان سے یہی ہے کہ وہ فوج اور عدلیہ سے تصادم کی راہ ترک کردیں۔۔۔ یہ لچک پذیری دکھانے کا موقع ہے، اب ان کی وہ ساتھی راہیء ملک بقا ہو چکی ہیں جو ان کے ہر فیصلے کی پشت پناہ ہوتی تھیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ وہ آج پاکستان کے کسی ہسپتال میں زیر علاج ہوتیں اور ان کو اپنے خاندان کے یوں بکھرنے ، زیرِ عتاب آنے اور پسِ دیوارِ زنداں چلے جانے کے مناظر دیکھنا یا سننا پڑتے تو ان کے حالت کیا ہوتی!۔۔۔ بقولِ غالب اچھا ہوا کہ خدا نے اس بہادر خاتون اور باوفا بیوی کو دیارِ غیر میں موت دے کر ان کی بے بسی کی لاج رکھ لی :

مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دور

رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم

مزید : رائے /کالم