السیسی کی درندگی

السیسی کی درندگی
السیسی کی درندگی

  

مصری فوج کے سابق سربراہ عبدالفتح السیسی نے ملک کے پہلے منتخب صدر محمد مْرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا۔ السیسی 2011ء میں مصر کے سابق حکمران حْسنی مبارک کی کئی دہائیوں پر مشتمل حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کے دوسرے صدر ہیں۔ حْسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں ہوا تھا جسے عرب اسپرنگ کا نام دیا جاتا ہے۔

مْرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمون نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس اسلام پسند جماعت کو قبل ازیں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ عبدالفتح السیسی ملک کے پانچویں ایسے صدر ہیں جو فوجی عہدوں کے بعد ملک کے صدر بنے ہیں۔ توقع کے مطابق انہوں نے بھی سیاست پر فوج کے گرفت مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

2013ء میں اخوان المسلمون کی جانب سے دیئے گئے دو دھرنوں کے کیمپوں کو منتشر کرنے کے دوران خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں اس دھرنے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔ ان افراد پر قاہرہ کے ربہ ادعاویہ اسکوائر میں ایک دھرنے کے دوران قتل اور تشدد کو ابھارنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مصری حکومت نے کہا ہے کہ 2013ء کے اس دھرنے میں زیادہ تر مظاہرین مسلح تھے اور پر تشدد جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

انہی ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر مصری عدالت اخوان کے کارکنوں کو سزائے موت دے رہی ہے۔ مصر ی عدالت نے اخوان المسلمون کے رہنماؤں عصام العریان ، محمد البلتاجی اور صفوت حجازی سمیت 75 افراد کو موت کی سزا جب کہ 47 دیگر کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ سزائیں حتمی نہیں ان پر اپیل ہوسکتی ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اورایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اِنہیں 'ذلت آمیز' اور ملک کے آئین کے خلاف قرار دیدیا۔

اخوان المسلمون کے رہنماؤں سمیت ان تمام افراد کے مقدمات ملک کے مفتی اعظم کو بھی بھیجے گئے ہیں۔مفتی اعظم سے رائے لینے کا مقصد جج کو فیصلے میں تبدیلی کا ایک اور موقع دینا ہوتا ہے، تاہم ان سزاؤں کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔اسی کیس میں شامل مزید 660 افراد کو 8 ستمبر کو سزائیں سنائی جائیں گی جن کے خلاف بھی اپیل کی جاسکتی ہے۔

2013ء کے دھرنے میں شامل ہونے پر اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع اور فوٹو جرنلسٹ محمد ابو زید سمیت 739 افراد کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ان افراد کے خلاف اقدام قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا، تاہم اس کیس میں محمد بدیع اور ابو زید میں سے کسی کو بھی سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔

مصر کی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد ان کے خلاف بے دردی سے کارروائیاں کیں اور کئی رہنماؤں سمیت ہزاروں کارکنوں کو جیل میں ڈالا اور سزائے موت دی۔

مصر کی ایک عدالت کے جج نے 2014ء میں محمد مرسی کے 529 حامیوں کو سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے محض دو سماعتوں کے بعد ہی اپنا فیصلہ جاری کر دیا انہیں اپنے دفاع کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہاکہ سزایافتہ تمام افراد دہشت گرد تنظیم اخوان المسلمون کے کارکن ہیں۔ سزا پانے والے ملزمان پر پولیس افسر اور دیگر دو افراد کے قتل، پولیس سٹیشن پر حملے اور دیگر پرتشدد واقعات کا الزام ہے۔

مرسی اور ان کی اخوان المسلمون کے پینتیس دوسرے ساتھیوں اور رہنماؤں پر اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم اور فلسطین کی حماس تحریک کے عسکری بازو کے لئے جاسوسی کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

ان پر ملک میں دہشت گردی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور اداروں اور ان کے ملازمین کو ورغلانے کا الزام پہلے ہی عائد کیا جاچکا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے افراد پر جان لیوا حملوں کا الزام بھی مرسی اور ان کی جماعت پر عائد کیا گیا ہے۔ اگر وہ مجرم پائے گئے تو انہیں موت کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

گو کہ 75 افراد کو سزائے موت کا حکم مصر کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن اتنے افراد کو ناجائز طریقے سے پھانسی لگا دی جائے اس پر عالمی برادری کی خاموشی کو ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ سیاسی مخالفت پر بدترین انتقام مہذب معاشروں میں روا نہیں ہے۔

اگر75 افراد ایسے جرائم میں ملوث میں، جس کی سزا موت ہے تو بھی انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ محض ایک دو سماعتوں میں سزا سنا دینا انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ مصر کے فوجی حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جبر و تشدد اور قوت کے بل پر مصر کے عوام کی جمہوری جدوجہد اور صدر مرسی کے حق میں جاری لہر کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

مصر میں ساڑھے تین ہزار سالوں بعد جمہوریت آئی تھی ۔ باون فیصد ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب صدر مرسی نے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کیلئے فوج کی خوشنودی سے بے نیاز وہ اقدامات کیے جو فوج کے لئے ناقابل قبول اور امریکہ و اسرائیل کے لئے ناپسندیدہ تھے۔

مصر کا نیا آئین جسے اپوزیشن نے ’’اسلامی آئین‘‘ کا نام دیکر مخالفت کی، ریفرنڈم میں عوام کی جانب سے 60 فیصد حمایت حاصل کرنے والی حکومت نے بنایا اس پر عملدرآمد اس کا جمہوری حق بن گیا۔

فوج نے انتخاب کے بعد اقتدار کی منتقلی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور بعض یقین دہانیاں حاصل کیں پھر عدلیہ نے ایک غیر اہم قانونی نکتہ کی بنیاد پر پارلیمنٹ کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا ۔ صدر مرسی نے جو پالیسیاں تشکیل دیں اس سے اپنے اور غیر معاشی ماہرین حیران رہ گئے، نان روٹی کے مسئلہ پر مصری عوام کو امریکی غلامی سے نکال کر 70 فیصد خود کفالت حاصل کی۔

بحری جہازوں کی مرمت کے منصوبے پر سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ اس منصوبے سے اسرائیل اور دوبئی غضبناک ہوئے۔ مصری عوام کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع ملے ‘ کئی بیرونی کمپنیوں نے مصر میں اپنی برانچیں کھولیں۔ روزگار کے مزید مواقع کے لئے فیکٹری ایریا کی بنیاد رکھی۔ اس منصوبے کے لئے ترکی نے مالی امداد فراہم کی۔

حسنی مبارک دور میں 300 کھرب تک پہنچنے والے اندرونی و بیرونی قرضوں کی واپسی کے لئے عملی اقدامات پر سوچ بچار کا آغاز کیا۔ ملک میں سیکولر قوتوں کے ہاتھوں 60 سال کی مدت میں تباہی و بربادی ختم کرنے کے لئے اصلاحات کا آغاز کیا۔

ہزاروں بے گناہ قیدیوں کو ظلم و عذاب سے نجات دلائی۔ مصر کے صنعتی ہنرمندوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے۔ سب سے بڑھ کر فوج جو ملک کی 40 فیصد معیشت کو کنٹرول کرتی ہے اسے اپنی گرفت ڈھیلی ہونے کی فکر پڑ گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ماخذ پر عشروں سے قابض نادیدہ عناصر اور بیرونی قوتوں نے مل کر اپنا کھیل کھیلا ہے، جو مصر کے عوام کی شکست کا ذریعہ بنا۔ فوج کے سربراہ جنرل السیسی کے امریکہ اور اسرائیل سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عدلی منصور و عبوری صدر کا تعلق یہودیوں کے ’’سہتی‘‘ فرقہ سے ہے ،جبکہ وزیراعظم کا تعلق عیسائی قطبی فرقے سے ہے۔ صدر مرسی کے خلاف جو ہستیاں عوامی ’’بغاوت‘‘ کی قیادت کر رہی ہیں۔ ان میں سرفہرست البرادعی ہیں، جس نے عراق کی تباہی میں شرمناک کردار ادا کیا۔

مزید : رائے /کالم