تیل کا جہاز زیادہ دیر بندرگاہ پر کھڑا رہا، 20ملین ڈالر ہرجانہ اداکیا ،پی ایس او

تیل کا جہاز زیادہ دیر بندرگاہ پر کھڑا رہا، 20ملین ڈالر ہرجانہ اداکیا ،پی ایس ...
تیل کا جہاز زیادہ دیر بندرگاہ پر کھڑا رہا، 20ملین ڈالر ہرجانہ اداکیا ،پی ایس او

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سینیٹ قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ تیل کاجہاز زیادہ دیر تک کھڑا رکھنے کی وجہ سے پی ایس او نے گزشتہ سال بندرگاہ انتظامیہ کو 20 ملین ڈالر کا ڈیمرج(بندر گاہ میں جہاز کے زیادہ ٹھہرانے کا کرایہ) کی مد میں اداکیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس او کا تیل کا کل ذخیرہ 1 ملین میٹرک ٹن ہے اور 2لاکھ 70 ہزار کے سٹوریج کے لئے ٹینڈر کردیا ہے۔قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی جن کمپنیوں کی پائپ لائن کی مرمت کی جاتی ہے وہی کمپنیاں ان کے اخراجات بھی برادشت کریں کمیٹی کا اجلاس محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا، قائمہ کمیٹی کو ایم ڈی پی ایس او جہانگیر علی شاہ نے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 50 سے60 ہزار میٹرک ٹن آئل بڑے جہاز میں آتا ہے اور کم سٹوریج کپیسٹی اور پائپ لائن کنکشن نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے جہاز کو بندرگاہ پر زیادہ دیر تک ٹھہرنے کے باعث ہرجانے کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔آئل کی طلب جس حساب سے بڑھ رہی ہے اس حساب سے سہولیات نہیں ہیں ایک ماہ میں 15 جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ تیل کی درآمد پورٹ قاسم اور کیماڑی پورٹ پر کی جاتی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں 4.6 ملین میٹرک ٹن درآمد میں اضافہ ہوا جو 19.3 سے بڑھ کر23.9 ملین میٹرک ٹن ہوئی۔ کچھ کمپنیاں 20 ہزار میٹرک ٹن چھوٹے جہاز سے درآمد کرتی ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ صرف پی ایس او کا مسئلہ نہیں پوری انڈسٹری کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ملک کے اندر سٹوریج کپیسٹی کم ہے ان کے جہاز بندرگاہ پہ کھڑے رہتے ہیں۔ہرجانے کی ادائیگی سے بچنے کے لئے پی ایس او کا پورٹ پر 90 ہزار میٹرک ٹن کا سٹوریج موجود ہے اور کیماڑی اور پورٹ قاسم کے درمیان پائپ لاِئن کی تعمیر کے حوالے سے کام کررہے ہیں۔2013 میں انڈسٹری کی جانب سے تیل کے 331 جہاز منگوائے گئے اور2013 میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 2.5 ملین ڈالر ہرجانہ اداکیاتھاجبکہ 2016-17 میں473 جہاز آئے اور25.3 ملین ڈالرڈیمرج ادا کرنا پڑا۔

پی ایس او نے گزشتہ سال بندرگاہ انتظامیہ کو 20 ملین ڈالر کا ڈیمرج اداکیا ہے۔ ہرجانے کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے آئل کمپنیوں کی جانب سے ہرجانے کی ادائیگی کی شرح میں مسلسل اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 2013-14 میں آئل کی درآمدپر 0.03 فیصدڈیمرج ادا کیا جو 2016-17 میں بڑھ کر 0.62 فیصد ہوگیا جو ملک وقو م کیلئے نقصان دے ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 3 پیڑولیم مصنوعات ڈیزل ، پیٹرول اور فرنس آئل کی ترسیل زیادہ ہے۔ڈیزل پائپ لائن کے ساتھ پیڑولیم پائپ لائن بھی منسلک کر رہے ہیں جس سے بہتری آئے گی۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ اوگرا، پی ایس او اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع پلان مرتب کر کے کمیٹی کو فراہم کریں جس سے ڈییمرج کو کم سے کم کیا جائے اور چھوٹے جہازوں کی بجائے بڑے جہازوں سے آئل برآمد کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تیل کی ترسیل کے لئے ٹینکرز کی کیو(que) سسٹم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اورپی ایس او معیار پرپورااترنے والی گاڑیوں کو استعمال کرتا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ پی ایس او آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق 2019 تک کام کریں پھر نئے معاہدے کے تحت گاڑیوں کے موثر معیار کو شامل کیا جائے اور وہ ٹینکرجن کا معیار انتہائی خراب ہیں ان سے اجتناب کیاجائے۔ آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے چئیرمین اسلم خان نیازی ، رحیم یوسفزئی ، حاجی حنیف کاکڑنے کہا کہ منظور نظر ٹھیکداروں کے ٹینکرز کو ترجیح دی جاتی ہے کیو سسٹم ہمارا بنیادی حق ہے آہستہ آہستہ ہمیں نکالا جا رہا ہے اور پائپ لائن نیٹ ورک کی وجہ سے ہماری صنعت تباہ ہو جائے گی جس پر وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے یقین دہانی کرائی کہ نئی اور پرانی گاڑیوں کے چکر کی بجائے کیو سسٹم پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایئر پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے ڈی سی موسیٰ خیل سے میٹنگ کی ہے جگہ کا ایشو ہے دو ہفتے بعد میٹنگ کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے ایل پی ایس کے واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے ہدایت کی کہ کمپنی کی فیکٹری کو 2007 میں آگ لگ گئی تھی لہذا خصوصی ہمدردی کرتے ہوئے ادائیگی رقم کم کی جائے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد /بزنس