اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 38

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 38

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اب گھڑ سوار دستے کی آواز سنائی دی۔ ریت پر گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں قریب سے قریب تر آرہی تھیں۔ میں کھائی کی دیوار کے ساتھ چمٹ کر چھپ گیا۔ میں اگرچہ اپنی طرف سے اندھیرے میں تھا مگر گھڑ سوار دستہ قریب آیا تو ایک سپاہی کی نظر مجھ پر پڑگئی اور ساتھ ہی ایک تیر سن کر کے آیا اور میرے گردن کے قریب ریت میں دھنس گیا۔ میں کھائی کے دوسرے کنارے کی طرف بھاگا۔ اب مجھ پر تیروں کی بارش ہونے لگی۔ ساتھ ہی سپاہیوں کی آوازیں آنے لگیں اور ایک سپاہی نے کھائی میں گھوڑا ڈال دیا۔ اتنی دیر میں کھائی سے نکل کر دوسری طرف ریت کے ٹیلوں کی طرف بے تحاشہ بھاگا جا رہا تھا۔ گھوڑا میرے پیچھے لگا ہوا تھا لیکن میری تین طاقتوں میں ایک طاقت برق رفتاری بھی تھی ۔میں گھوڑے سے تیز بھاگا جا رہا تھا۔ میرا مقصد گھڑ سوار کی قیدی کیمپ اور اس کے ساتھیوں سے دو رلے جانا تھا۔ جب مجھے اندازہ ہوگیا کہ ہم ریت کے ٹیلوں میں کافی دور نکل آئے ہیں تو میں نے اپنی رفتار ہلکی کردی۔ مجھ پر پیچھے سے برابر تیر آرہے تھے۔ میں ٹیلوں کے درمیان رات کے ہلکے ہلکے نیلے اندھیرے میں کھڑا ہوگیا۔

گھڑسوار نیزہ تانے گھوڑا دوڑاتا میری طرف آیا۔ وہ مجھے نیزے میں پرو دینا چاہتا تھا مگر میں نے اچھل کر اس کی گردن دبوچ لی۔ وہ مجھ پر تلوار کے وار کر رہا تھا اور میں اس کا گلا دبا رہا تھا۔ اس کی تلوار میرے جسم سے ٹکرا کر چھن چھن کر آواز پیدا کر رہی تھی جیسے کسی چٹان سے ٹکرا رہی ہو۔ سوائے اس کے کہ میرا لمبا کرتہ جگہ جگہ سے کٹ گیا تھا۔ مجھ پر تلوار کا ایک زخم بھی نہ لگا تھا۔ گھڑ سوار بابلی سپاہی پہلے تو میرے برق رفتاری پر حیران تھا اب میرے ہاتھ کی گرفت پر ششدر رہ گیا۔ اس کی آنکھیں باہر کی ابل آئیں اور چند سیکنڈ کے اندر اندروہ میرے ہاتھوں میں مردہ لاش کی طرح لٹکنے لگا۔ میں نے اسے وہیں ریت پر پھینکا۔ اس کا گھوڑا قریب ہی ایک ٹیلے کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے اس کی باگ پکڑی۔ اس پر سوار ہوا اور نیم روشن ستاروں بھری رات میں ایک طرف روانہ ہوگیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 37پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں گھوڑے کو سرپٹ دوڑائے جا رہا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ بابلی سپاہی اپنے ساتھی کی تلاش میں وہاں آسکتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے میرا گھوڑا کیمپ سے کوسوں دور نکل گیا اور میں مشرقی صحرا سے ہو کر دریائے فرات کے کنارے پہنچ کر رک گیا۔

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ دور تک صحرا میں سناٹا اور گہری خاموشی تھی۔ ایک سایہ بھی کہیں حرکت کرتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور دریا پار کر کے ایک بار پھر گھوڑے کو صحرا میں پوری رفتار سے چھوڑ دیا۔ میں دریائے فرات کے دوسرے کنارے بابل کے صحراؤں میں کافی دور نکل آیا تھا کہ ایک جگہ گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں اچھل کر زمین کے بل گر پڑا۔ گھوڑے کی گردن ٹوٹ گئی تھی اور وہ ریت پر پڑا آخری سانس لے رہا تھا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ گھوڑا مر گیا۔ میں ٹھنڈی ریت پر پیدل ہی ایک طرف روانہ ہوگیا۔ کچھ فاصلے پر مجھے ایک گاؤں کے سفید مکانوں کی جھلکیاں سی اندھیرے میں نظر آرہی تھیں۔ میں اس بستی کی طرف بڑھا ۔ قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں فاصلے فاصلے پر چند ایک کچے مکان بنے ہوئے ہین اور ان میں اندھیراچھایا ہوا ہے۔ میرے لئے اس بستی میں ٹھہرنا بے کار تھا۔

میں ایک کچے مکان کے قریب سے ہو کر آگے بڑھا ہی تھا کہ مجھے پھنکار سے ملتی جلتی آواز سنائی دی۔ میں رک گیا۔ آواز میرے پیچھے سے آئی تھی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ اندھیرے میں مجھے ایک سیاہ رنگ کا سات فٹ لمبا سانپ نظر آیا جس کے سر پر سفید کلغی تھی جس میں سے ستاروں کی طرح شعاعیں نکل رہی تھیں۔ یہ سانپ اس قدر خوبصورت اور پرجلال تھا کہ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس سے ڈرنے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں تھی کہ مجھ پر خطرناک سے خطرناک سانپ کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا تھا۔ سانپ بھی مجھے دیکھ کر رک گیا تھا اور اپنی سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کی دوشاخہ زبان بار بار اس کے منہ سے باہر نکل رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر زور سے پھنکار ماری اور مکان کے بند کواڑوں کے دو سوراخوں میں سے اندر گھس گیا۔ مجھے ایک دم شدید خطرے کا احساس ہوا۔ ضرور یہ سانپ اس مکان میں سونے والی کسی عورت یا آدمی کو ڈس لے گا۔ میں نے زور زور سے کواڑ کو دھڑدھڑایا۔ کسی نے اندر سے کنڈی کھولی اور کواڑ کا ایک پٹ کھول کر مجھے دیکھا۔ یہ ایک سانولے رنگ کا حسین تیکھے نین نقش اور پرکشش آنکھوں والا نوجوان تھا۔ جس کے سر کے سیاہ بال گھنگھریالے تھے۔ اس کی آنکھوں میں بلا کی مقناطیسی کشش تھی۔ اس نے بڑی پر سکون آواز میں پوچھا کہ میں کون ہوں اور کس لئے اس کا دروازہ پیٹ رہا ہوں؟ میں نے گھبرائی ہوئی آواز میں اسے بتایا کہ ابھی ابھی اس کوٹھری میں ایک بڑا ہی خطرناک قسم کا سانپ گھسا ہے۔ اسے اس سے خبردار رہنا چاہیے۔ اس سانولے نوجوان نے زیتون کے تیل کا دیا روشن کر دیا اور کوٹھری میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ یہ ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی جس میں ایک تخت پر پھٹا پرانا نمدہ بچھا تھا اور کونے میں پانی کا مٹکا رکھا تھا جس پر مٹی کا آبخورہ اوندھا پڑ اتھا۔ وہ بولا۔ ’’یہاں تو کوئی سانپ نہیں ہے۔‘‘ میں نے اسے تبایا کہ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے ابھی ابھی ایک سات فت لمبے کالے سانپ کو اندر داخل ہوتے دیکھا ہے جس کے سر پر سفید چمکدار کلغی تھی ۔ وہ نوجوان مسکرایا۔

’’ تم کو وہم ہوا ہوگا۔ اگر سانپ اندر آیا ہوتا تو یہیں کہیں ہوتا۔ مگر تم خود دیکھ رہے ہو کہ کوٹھری خالی پڑی ہے۔‘‘

پھر اس نوجوان نے میرے سامنے کوٹھری میں ایک ایک شے اٹھا کر دیکھی۔ تخت پر پڑے نمدے کو بھی جھاڑا ۔ پانی کے مٹکے اور خالی آبخورے کو دیکھا۔ واقعی سانپ کہیں نہیں تھا۔ نہ جانے اسے زمین کھا گئی یا وہ خفیہ بل میں گھس گیا تھا میں سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ میرا وہم ہو اور میرے قوت متخیلہ نے میرے سامنے سانپ پیدا کر دیا ہو۔

نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں اور رات کے وت کہاں جا رہا ہوں؟ میں نے اسے جھوٹ موٹ کہانی جوڑ کا سنا دی کہ میں ملک مصر کا رہنے والا ہوں۔ میرے ماں باپ مر چکے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں بابل آیا تھا لیکن یہاں پھیلی ہوئی افراتفری سے گھبرا کر اب واپس جا رہا ہوں۔

نوجوان میری طرف گہری نظروں سے تک رہا تھا۔ وہ ذرا سا مسکرایا اور بولا۔ ’’ اگر تم پسند کرو تو میرے کوٹھری میں رات بسر کر سکتے ہو۔ کل شام کو یہاں سے قافلہ گذرے گا جو ملک شام کی طرف جا رہا ہوگا۔ تم اس قافلے میں شامل ہو کر اپنے وطن مصر پہنچ سکتے ہو۔ ‘‘

میں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ اس نوجوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے؟ اور وہ کیا کام کرتا ہے؟ نوجوان نے پر اسرار انداز میں مسکرا کر کہا۔

’’ میرا نام قنطور ہے۔ یہاں سے تھوڑی دور ایک تخلستان میں انگور کا باغ ہے۔ میں وہاں محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھی مزدوری کرو گے؟ میں باغ کے مالک سے بات کر سکتا ہوں؟‘‘

مجھے وہاں نوکری کرنے کی کیا ضرورت تھی میں تو چاہتا تھا کہ کسی طرح سے دوسرے کپڑے حاصل کرلوں اور تھوڑا سا بھیس بدل کر واپس بابل شہر میں جا کر ۔۔۔ نفتانی کو تلاش کروں اور پھر اسے اس شہر سے نکال کر کسی دوسرے ملک چلا جاؤں۔ میں نے کہا۔ ’’ ابھی تو میرا دل واپس جانے کو چاہتا ہے۔ وطن کی یاد بہت ستا رہی ہے‘‘ قنطور نامی سانولے نوجوان نے کوئی جوان نہ دیا۔ اس نے مجھے تخت پر سلایا اور خود ایک کپڑا بچھا کر زمین پر لیٹ گیا۔ مجھے نیند کی نہ تو ضرورت تھی اور نہ ہی مجھے نیند آتی تھی۔ نہ مجھے تھکن اور احساس تھا۔

میں بچھونے پر آنکھیں بند کئے پڑا رہا۔ میرا میزبان قنطور بھی زمین پر لیٹا رہا۔ کوٹھری کا دیا بجھا دیا گیا تھا۔ اندھیرے میں مجھے احساس ہوا کہ میرا میزبان بھی جاگ رہا ہے مگر میں نے اسے بلانے اور اس سے باتیں کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ میں اس طرح لیٹا رہا۔ رات بہت تھوڑی باقی رہ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد بند کواڑوں کے سوراخ میں سے صبح کی نیلی روشنی اندر آنے لگی ۔میرا میزبان اٹھ بیٹھا۔ اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ میرا میزبان آبخورے میں پانی لئے دانت صاف کر رہا تھا۔ میں نے بھی ہاتھ منہ دھویا ۔ اس نے کہا۔ ‘‘ میرے پاس مٹکے میں دودھ ہے۔ میں تمہارے لئے لاتا ہوں۔‘‘ یہ مٹکا اس نے مکان کے پیچھے ریت میں دبایا ہوا تھا۔ وہ مٹکا نکال کر لایا۔ دودھ آبخورے میں ڈال کر مجھے دیا۔ دودھ ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ میں نے دودھ پی کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے بھی تھوڑا سا دودھ پیا اور کرتے پر تلواروں کے وار نے جو جگہ جگہ شگاف بنا رکھے تھے ان کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’ یہ تمہارے کرتے کو کس نے پھاڑا ہے؟‘‘ میں نے جواب میں کہا ’’ غریب آدمی ہوں۔ پھٹاپرانا لباس ہی پہن سکتا ہوں۔ کئی روز سے ایک ہی کرتہ پہنے ہوئے ہوں۔ پھٹ گیا ہے۔‘‘

ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک دم چھ سات بابلی سپاہی گھوڑوں پر سوار سامنے آن نمودار ہوئے۔ میرا میزبان انہیں حیرانی سے تکنے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے گرفتار کرنے آئے ہیں۔ آناً فاناً انہوں نے مجھے دبوچا۔ میری گردن میں رسہ ڈالا اور گھسیٹتے ہوئے کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے لے گئے اور رسہ درخت کی ٹہنی پر ڈال کر کھینچا۔ میں درخت کے ساتھ اس طرح لٹک گیا کہ جیسے پھانسی پر چڑھا ہوں۔ میری گردن میں رسہ پڑا تھا اور میں ہوا میں معلق جھول رہا تھا۔ سپاہیوں نے ایک میخ زمین میں گاڑ کر رسہ اس کے گرد لپیٹ دیا اور میرے اردگرد چیختے چلاتے گھوڑے دوڑانے اور مجھ پر تیر برسانے لگے۔ میرا میزبان قنطور بت بنا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ یہ اتنی جلدی ہوگیا کہ اسے بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ میں پھانسی چڑھا دیا گیا ہوں۔ میں نے جان بوجھ کر اداکاری شروع کردی اور اپنے جسم کو دو ایک بار زور سے پھڑ پھڑا کو یوں ساکت کر دیا اور گردن لٹکا دی جیسے میری جان نکل گئی ہو۔ کم بخت سپاہی میرے اردگرد گھوڑے دوڑائے ابھی تک مجھ پر تیر برسائے جا رہے تھے اور تیر میرے جسم سے لگ لگ کر نیچے گر رہے تھے۔ میری طاقت کا راز فاش ہو سکتا تھا مگر اس غضب ناکی اور جوش انتقام میں کسی سپاہی کو یہ خیال نہ آیا کہ آخر تیر میرے جسم میں کھب کیوں نہیں رہے۔ وہ شاید یہی سمجھ رہے تھے کہ نشانہ چوک رہا ہے۔ جب میں نے اپنے جسم کو دو ایک بار چھٹکا دے کر آخری ہچکی لیتے ہوئے اپنے جسم کو ایک لاش کی طرح ساکت کر دیا تو وہ وحشیانہ نعرے لگاتے ہوئے وہاں سے واپس چلے گئے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار