ریفرنس دائر کرنے کا شوق نہ پالیں

ریفرنس دائر کرنے کا شوق نہ پالیں

وفاقی حکومت نے صدر کی جانب سے نامزد کردہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے ارکان سے حلف نہ لینے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار محمد رضا خان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا، البتہ اپوزیشن جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ حکومت کا غیر آئینی فیصلہ نہ ماننے پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمن کا کہنا ہے کہ ایسا لگتاہے کہ غیرآئینی اقدامات کے سلسلے میں شریف الدین پیرزادہ کی روح اس حکومت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے حکومت کا غیر آئینی فیصلہ نہیں مانا تو اُن پر ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے حکومت اداروں کو تباہ کر رہی ہے۔

سندھ اور بلوچستان کے جن دو ارکان کا نوٹیفکیشن حکومت نے جاری کیا تھا وہ جب حلف اٹھانے کے لئے الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تو چیف الیکشن کمشنر نے اُن سے حلف نہیں لیا اور موقف اختیار کیا کہ ان دونوں ارکان کا تقرر چونکہ آئین میں طے شدہ طریقِ کار کے مطابق نہیں ہوا اِس لئے اُن سے حلف نہیں لیا جا سکتا، چیف الیکشن کمشنر کے اِس فیصلے کی توصیف و تحسین ہونی چاہئے تھی،کیونکہ ایک آئینی عہدیدار نے آئین کی پاسداری کی تھی،حالانکہ2018ء کے الیکشن کے دن بعض ایسے اقدامات سامنے آئے تھے جن پر چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے باقی ارکان عوام کو مطمئن کرنے کی بجائے خاموش ہو گئے تھے اور اُس وقت کے چیف جسٹس کو برسر عام کہنا پڑا تھا کہ آدھی رات کو جب ٹی وی سٹیشنوں سے رزلٹ آنا بند ہو گئے تو انہوں نے خود چیف الیکشن کمشنر کو کئی بار فون کیا،لیکن شاید وہ سو گئے تھے۔

نتائج کی تاخیر اور ووٹوں کی گنتی کے موقع پر امیدواروں کے نمائندوں (پولنگ ایجنٹوں) کو باہر نکالنے کی شکایات پر بھی چیف الیکشن کمشنر کو ہدفِ تنقید بننا پڑا تھا، لیکن اب کی بار انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ تو سیدھا سادہ اور عین آئین کے مطابق تھا کہ دونوں نئے ارکان کا تقرر آئین کی منشا کے مطابق نہیں ہوا اور قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت کے بغیر ہی صدر نے اپنے مبینہ صوابدیدی اختیار کے تحت ارکان کا تقرر کر دیا،حالانکہ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ صدرکو اِس سلسلے میں کوئی صوابدیدی اختیار حاصل نہیں رہا، لیکن حکومت کے قانونی اور غیر قانونی ہر قسم کے دماغوں نے اپنی سرکار کے اس اقدام کا نہ صرف دفاع شروع کر دیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ حلف نہ لینے کے اقدام کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گے اب جبکہ یہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے تو الیکشن کمیشن نے وہاں بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ صدر نے دو ارکان کا تقرر کر کے آئین کی خلاف ورزی کی۔

عمومی طور پر قانونی ماہرین کی رائے بھی یہی ہے کہ بادی النظر میں صدر کا یہ اقدام خلاف آئین ہے اگر ریاست کے ایک اہم ادارے نے بھی عدالت میں یہی موقف اختیار کیا ہے تو اس کی تحسین ہونی چاہئے، کیونکہ الیکشن کمیشن کا مجروح اعتبار اسی طرح بحال ہو گا کہ وہ غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کر دے اس نوٹیفکیشن سے حکومت کی عزت و وقار میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا،بلکہ لوگوں نے یہی سمجھا کہ ضد اور اناؤں کے ٹکراؤ کی وجہ سے حکومت خواہ مخواہ ایک غیر آئینی اقدام کا دفاع کرنے پر تُل گئی ہے اور صدر کو اُن کے اعلیٰ منصب کے تقاضوں کے منافی اقدام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے،اب اگر یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے تو حکومت کو صبرو تحمل کے ساتھ فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔اگر حکومت نے اپنا مقدمہ اچھی طرح لڑا اور اپنے حق میں فیصلہ کرانے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اپنے من پسند ارکان کو حلف اُٹھوا سکتی ہے،لیکن اگر فیصلہ یہی ہوا کہ اس معاملے میں آئین کا پاس لحاظ نہیں کیا گیا تو پھر ویسے بھی نہ صرف حکومت کی سُبکی ہو گی،بلکہ اس معاملے پر عملدرآمد بھی نہ ہو سکے گا،اِس لئے جلد بازی میں کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جو حکومت کو مزید دباؤ میں لے آئے، ریفرنس کا کیا ہے وہ تو کسی وقت بھی دائر ہو سکتا ہے۔

حکومت کو ویسے بھی شاید ریفرنسوں کا شوق ہے۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کے خلاف بھی ایک ریفرنس پہلے ہی سپریم جوڈیشل کو نسل میں دائر کیا گیا تھا۔ ان ریفرنسوں کی سماعت اس بنیاد پر رُک گئی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے،جس پر سات رکنی لارجر بنچ بن چکا ہے،جو پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کی سماعت کرے گا اور بعد میں اگر ضرورت ہوئی تو کونسل ریفرنس کی سماعت کرے گی اِس لئے حکومت کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بھی جلد بازی میں کوئی ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہئے۔حکمت اور دانائی کا تقاضا تو یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کی ثقاہت پر ٹھنڈے دِل سے غور کیا جائے اور پھر جو آئین کی منشا ہو اس کے مطابق فیصلہ ہو جائے ضد اور اناؤں کی تسکین سے ریاستوں کے فیصلے نہیں ہوتے، آئین کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے ہی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ حکومت اگر آج روشن روایات قائم کرے گی تو کل کو اسے ہی ان کا فائدہ ہو گا اگر ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنے کی روش اپنائی گئی تو وقتی طور پر شاید اس میں کوئی کامیابی مل جائے،مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات ہمیشہ فائر بیک کرتے ہیں اور ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے،حکمرانوں کے پاس کچھ وقت ہو تو اپنے سے پہلے ہو گزرے”کامیاب“ حکمرانوں کی کامیابیوں کی تفصیل پڑھ لیں۔اُن کے سامنے سب کچھ الم نشرح ہو جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...