مہنگائی اور مارکیٹ اکانومی

مہنگائی اور مارکیٹ اکانومی

حکومتی مشینری مارکیٹ میں اپنے اقدامات سے ہونے والی مہنگائی کو کم نہیں کر سکتی،لیکن اس وجہ سے جو مصنوعی مہنگائی ہوئی اور ہو رہی ہے اس پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا اور منافع خور جی بھر کر پیداواری شعبہ اور خریداروں کا استحصال کر رہے ہیں،جبکہ شوگر ملز مالکان اور بجلی تقسیم کرنے والے ادارے عوام کی کمر توڑ رہے ہیں،پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے بتایا کہ چینی ملوں کے مالکان کسانوں کو ان کی واجب الادا رقوم ادا نہیں کرتے اور نہ ہی گنے کے نرخوں میں اضافہ کا مطالبہ مانتے ہیں۔ یہاں تک کہ گنے کے مقررہ نرخوں پر بھی سودے بازی کی جاتی ہے یہ مالکان عوام کا مسلسل استحصال بھی کر رہے ہیں اور چینی کے نرخ بڑھاتے چلے گئے، جو اب40روپے فی کلو سے بڑھ کر80روپے فی کلو تک پہنچ چکی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے محکمہ شماریات کے اعداد و شمار دفتر میں بیٹھ کر تیار ہوتے ہیں، ان کا حقیقی مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں،جہاں سبزیوں، پھلوں، دالوں، گھی اور تیل تک کے نرخ کئی گنا بڑھ گئے۔ حکومت نے افراط زر کی شرح 6فیصد مقرر کی،لیکن یہ اب 11.68فیصد ہو چکی ہے اور اس کے اثرات بھی بازار پر مرتب ہوئے ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے بجا فرمایا،مارکیٹ سروے سے اندازہ ہوا کہ حکومت کے تمام شعبے روایتی انداز سے ہی کام چلا رہے ہیں، مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے فروٹ اور سبزیوں کے نرخنامے غیر یقینی ہوتے ہیں، اسی طرح ضلعی انتظامیہ اجناس خوردنی (گھی، تیل،دال وغیرہ) کے جو نرخ نامے جاری کرتی ہے اس پر بھی اجناس خوردنی دستیاب نہیں ہیں، دکاندار فہرست لگا کر گاہکوں کو اس سے ماورا قیمت پر سودا دیتے اور فہرست کا ذکر کرنے پر بتاتے ہیں کہ اس قیمت پر تھوک فروشوں سے اشیاء لے کر دیں تو ہم بھی دے دیں گے۔بعض دکاندار فہرست والی قیمت پر جو اشیاء فروخت کرتے ہیں وہ استعمال ہی کے قابل نہیں ہوتیں۔ضلعی انتظامیہ، مارکیٹ کمیٹیوں اور محکمہ زراعت وغیرہ نے کبھی پیداوار اور کھپت (ضرورت+آمد) کا حساب ہی نہیں لگایا اور نہ ہی معیار کی بات کی اور نرخنامہ جاری کر دیا جاتا ہے، اسی کے مطابق چھاپے مارے جاتے ہیں اور پھر احتجاج ہوتا ہے،اس سلسلے میں کسان/ کاشتکار بھی مضطرب ہیں کہ ان کو منڈی میں پیداواری لاگت کے مطابق قیمت نہیں ملتی، اور فائدہ میں مڈل مین رہتا ہے، حکومتی ادارے جب تک حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار نہیں کریں گے یہ تنازعہ جاری رہے گا،حکمرانوں کو خود اپنے اقدامات کا جائزہ لے کر پیداواری ذرائع کا موقف اور ان کی ضرورتوں اور لاگت کا اندازہ لگانا اور پھر آڑھتی(مڈل مین) اور ذخیرہ اندوزوں کا محاسبہ کرنا چاہئے،اس کے بعد مارکیٹ کمیٹیوں اور ضلعی انتظامیہ کو اجناس خوردنی اور سبزی،پھلوں کے نرخوں کا تعین معیار کے مطابق درجہ اول، دوم کے حوالے سے خود کر دینا چاہئے تاکہ خوردہ فروش کا عذر ختم ہو، یہ سب سائنسی انداز کا کام ہے اور اسے مارکیٹ اکانومی ہی کے اصولوں کے تحت حل کرنا ہو گا تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...