کیا دنیا آج زیا دہ محفوظ ہے؟

کیا دنیا آج زیا دہ محفوظ ہے؟
کیا دنیا آج زیا دہ محفوظ ہے؟

  


تاریخ عالم بتا تی ہے کہ ہماری دنیا میں کئی ایسے بڑے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے نہ صرف دنیا پر انمٹ نقوش چھوڑے، بلکہ ایسے بڑے واقعات کے بعد دنیا ہی بدل گئی۔قرون وسطیٰ کے عہدکے بعد یورپ میں بر پا ہونے والی نشا ۃ ثا نیہ اور اس جیسی کئی تحر یکوں کے نتیجے میں جنم لینے والے سیاسی واقعات نے سماجی، معاشی اور سائنسی اعتبار سے جہاں یورپ کو براہ راست متا ثر کیا۔ یورپ میں بہت سے انقلابات برپا ہوئے تو یورپ کے ان انقلابات کے اثرات براعظم ایشیا،افریقہ اور امریکہ میں بھی پھیلے۔ زیادہ پرانی تاریخ میں جائے بغیر اگر 20ویں صدی کے چند بڑے واقعات ہی کو سامنے رکھیں تو پہلی جنگ عظیم (1918-1914ء) انقلاب روس (1917ء)، دوسری جنگ عظیم (1945-1939ء) سرد جنگ کا زمانہ، اور پھر1991ء میں دیوار برلن کا انہدام یہ ایسے بڑے واقعات تھے، جنہوں نے دنیا کے بڑے حصوں کو متا ثر کیا۔اسی طرح اگر ہم 21ویں صدی کو دیکھیں تو اب تک جس بڑے واقعہ نے دنیا کو سب سے زیادہ متا ثر کیا اورجس واقعہ کے بعد دنیا پہلے والی دنیا نہیں رہی، وہ 9/11کا واقعہ ہے۔9/11کے واقعے کو اب 18سال گزر چکے ہیں۔ اس واقعہ کی دنیا بھر سے بھر پور مذمت کی گئی…… کیا مشرق، کیا مغرب سنجیدہ طبقات نے اس واقعہ کو انسانیت سوز قرار دیا، جس میں 3ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے۔اسی واقعہ کو جواز بنا کر امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔9/11کے واقعہ کو 18سال گزر جانے پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج کی دنیا 9/11سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پُر امن ہے؟ آئیں اس بارے میں دنیا کے اہم تحقیقی اداروں، تھنک ٹینکس اور اخبا رات میں شائع ہونے والے چند اعداد و شمار سے سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں۔ان اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2001ء سے دسمبر 2017ء تک اوسط کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا بھر میں روزانہ دہشت گردی کے 19حملے ہوئے، جبکہ 1970ء سے2001ء کے 31سال کو دیکھا جائے تو اوسط کے اعتبار سے روزانہ صرف 6حملے ہو ئے۔واٹسن ادارے کی”براون یونی ورسٹی“ کے مطابق نومبر2018ء تک دہشت گردی کے خلاف اس جنگ سے صرف تین ممالک یعنی پاکستان، عراق اور افغانستان میں 244,000 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ شام، یمن اور لیبیا میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔یوں یہ اعداد و شمار واضح طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ ان ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ ایک پاکستانی کے طور پر ہمیں آج بھی یاد ہے کہ چار، پا نچ سال پہلے تک ہر روز اخبارات اور نیوز چینلز پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گرد حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبروں سے بھرے ہوتے تھے۔

9/11کے حوالے سے بہت سے سازشی نظریات پائے جاتے ہیں، جن میں سے اکثر بالکل غیر منطقی ہیں ان سازشی نظریات کو علمی ذہن تو دور کی بات ”کامن سنس“ بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتی، مگر یہ بات کسی بھی طرح کے شک سے بالاتر ہے کہ امریکی حکمران طبقات نے 9/11کو بنیا د بنا کر بہت سے مقاصد حاصل کئے۔امریکہ میں شخصی آزادی کے تصور کو محدود کیا گیا۔امریکہ نے اسی واقعہ کو بنیا دبنا کر اپنے سامراجی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔2001ء میں افغانستان پر حملہ کیا گیا، 2003ء میں عراق پر حملہ کیا گیا۔دنیا کے کئی ملکوں میں ”سی آئی اے“ کے خفیہ آپریشنز کے ذریعے کئی افراد کو ہلاک کیا گیا۔لیبیا اور شام میں اپنی حامی حکومتیں لانے کے لئے ان ملکوں پر جنگیں مسلط کی گئیں۔امریکہ کے معروف صحافی سیمور ہرش اپنی کتاب Reporter: A Memoirمیں دستا ویزی ثبوتوں کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں کہ کیسے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے عراق پر حملہ کرنے کے لئے پورا ڈرامہ رچایااور میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے یہ جھوٹا پراپیگنڈہ کروایا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ عراق پر قبضے سے امریکہ نے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ مشرق وسطیٰ میں ہر ایسی آوازکو دبا دیا جائے، جو امریکہ کے سامراجی عزائم کے راستے میں رکا وٹ ہو۔ سیمور ہرش کے مطابق عراق پر قبضے کا بڑا مقصد نہ صرف روس اور چین کے مفا دات کو نقصان پہنچا نا تھا، بلکہ عراق کا کنٹرول حاصل کر کے امریکہ نے یہ کوشش بھی کی کہ یورپ کو توانائی اور تجارتی راستوں کے لئے بھی اپنا محتاج بنایا جائے، مگر امریکہ کی ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“کے غبارے سے اس وقت ہوا نکلنے لگی جب امریکہ نے لیبیا اور شام میں القاعدہ کے حامی گروپوں کو ہی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا، یعنی ایک مرتبہ پھر انہی اسلامی جہادیوں کی حمایت کر نا شروع کر دی جن جہادیوں کے خلاف اس نے 9/11 کے بعد اعلان جنگ کیا تھا۔ گزشتہ سال 2018ء میں پینٹاگون نے اپنی قومی دفاعی حکمت عملی کے ڈاکو منٹ میں واضح کیا کہ اب امریکہ کا بنیا دی مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں، بلکہ روس اور چین جیسی ابھرتی ہوئی طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ 9/11 کے اٹھارہ سال پورے ہونے پر سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈاریکٹر مائیکل موریل کا ٰ آرٹیکل بھی اہمیت کا حامل ہے، جس کے مطابق اب امریکہ کو روس اور چین جیسی طا قتوں سے نمٹنے کے لئے پوری حکمت عملی تیار کرنا پڑے گی۔

اس آرٹیکل کے مطابق روس اور چین مشرق وسطیٰ میں امریکی کنٹرول برداشت کر نے کے لئے تیار نہیں ہیں، اس لئے امریکہ کو اب براہ ر است روس اور چین سے نمٹنا پڑے گا۔ روس اور چین بھی امریکی عزائم سے مکمل طور پر با خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیا روں میں اضا فہ کر رہا ہے۔ روس نے حال ہی میں 37سال کے بعد سب سے بڑی فوجی مشقیں کیں۔ ان فوجی مشقوں میں 300,000 روسی فوجیوں نے شرکت کی اور دلچسپ با ت یہ ہے کہ چین کی فوج نے بھی روس کی فوجی مشقوں میں حصہ لیا۔ روس اور چین جیسی بڑی ایٹمی طا قتوں کے ساتھ امریکہ کا برا ہ راست ”اٹ کھڑکا“ بڑی تباہی کو جنم دے سکتا ہے۔ اس صورت حال سے عالمی امن شدید طرح سے متا ثر ہو سکتا ہے ……یہ حقیقت تاریخ کے کسی بھی طالب علم سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ سامراج جب بھی”امن“ کا نعرہ لگا کر کسی ملک کے خلاف جنگ کرتا ہے تو اس کے اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہی دعویٰ کرتے تھے کہ امریکہ اب پرائی جنگوں میں کودنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کو بہتر کرے گا، مگر امریکی سیاست پر ہلکی سی نظر رکھنے والے کسی بھی انسان کے لئے یہ بات جاننا مشکل نہیں کہ امریکی نظام کے اندر ایسا ہونا ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی صدر اپنے طور پر امریکہ کے سامراجی کردار کو ختم کر پائے۔ ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے اور طا لبا ن پر زیادہ شدید حملوں کے اعلان سے واضح ہو گیا کہ امریکی حکمران طبقات نے ما ضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ سامراجی ممالک کے عزائم کے باعث دنیا 20ویں اور اب 21ویں صدی میں بہت تباہی دیکھ چکی ہے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ سامراجی پالیسیوں سے براہ راست ایسے افراد متاثر ہو تے ہیں، جن کا نہ اپنے ملک اور نہ ہی سامراجی ممالک کی پالیسیوں سے کچھ لینادیناہو تا ہے۔ موجودہ دور میں شام، عراق، لیبیا، یمن اور افغانستان اس کی اہم مثالیں ہیں۔کیا ہی اچھا ہو اگر مستقبل میں 21 ویں صدی کے باقی رہ جانے والے مزید 81سالوں کو جنگی سالوں اور دہشت گردی کے بڑے واقعات سے یاد رکھنے کی بجائے ایسے واقعات سے یاد رکھا جائے، جن واقعات کے باعث انسان کو فکری، سیاسی، سماجی، سائنسی اور معاشی ترقی نصیب ہو۔

مزید : رائے /کالم


loading...