تاثر حقیقت سے زیادہ موثر ہوتا ہے

تاثر حقیقت سے زیادہ موثر ہوتا ہے
تاثر حقیقت سے زیادہ موثر ہوتا ہے

  


ہم گلوبل ویلیج میں رہ رہے ہیں، دور دراز کے ایک ملک نیوزی لینڈ میں ایک عیسائی جنونی مسجد میں فائرنگ کر کے51نمازیوں کو شہید اور49 کو مجروح کرتاہے تو پلک جھپکتے ہی یہ خبر الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہوتی ہے، پوری دُنیا کو پتہ چل جاتا ہے کہ ایک سانحہ ہوا، پھر نیوزی لینڈ کی لیبر پارٹی کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک زبردست بیان کے ذریعے نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کے ساتھ ایسا اظہارِ یکجہتی کیا کہ پورے عالم اسلام میں اس نوجوان عیسائی سیاست دان کے بارے میں عزت و احترام کے جذبات کی لہر نہیں سونامی آ گئی،اس نوجوان لڑکی(وزیراعظم نیوزی لینڈ) نے انسانی اخلاقیات اور عالمی انسانی حقوق کے مطابق اس سانحہ کے متاثرین کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح کھڑا کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ عالم اسلام میں ایک محترم شخصیت قرار پا گئی، ایک لاکھ مریع میل سے کچھ ہی زیادہ رقبے پر پھیلا یہ ملک48 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، اس کی قومی پیداوار کا حجم206 ارب ڈالر کے برابر ہے، ہمارے ہاں نیوزی لینڈ کو اس کی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے جانا جاتا ہے زیادہ صاحب ِ علم ”کیوی“ کے حوالے سے بھی اس ملک کا نام جانتے ہیں، لیکن سانحہ مسجد نور کے حوالے سے اس ملک کی وزیراعظم کی گفتگو اور اظہارِ یکجہتی نے اس خاتون اور اس کے ملک کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا اور یہ تاثر پلک جھپکنے میں قائم ہوا کہ جیسنڈا آرڈرن کا نیوزی لینڈ مسلمانوں کے لئے محفوظ ترین ملک ہے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اہل ِ حرم کے لئے یہ خطہ زمین محفوظ اور مامون ہے،حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہاں سفید نسل پرستوں نے درجنوں مسلمانوں کو مسجد میں گھس کر قتل کیا تھا اور وہ اپنے اس مکروہ فعل پر فخر بھی کرتے تھے۔ یہ تاثر کہ نیوزی لینڈ مسلمانوں کے لئے محفوظ جگہ ہے، اس حقیقت پر غالب آ گیا کہ وہاں مسجد میں درجنوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے۔

تاثر (Perception) اور حقیقت (Reality) کا یہ کھیل اور ان کے درمیان معرکہ آرائی ایک عرصے سے جاری ہے، اسلام کے قانون شہادت میں گواہ کے بارے میں ”عمومی تاثر“ بہت اہمیت رکھتا ہے،کیونکہ جس شخص کے بارے میں تاثر منفی پایا جائے اسے عمومی طور پر جھوٹا اور خائن سمجھا جائے تو اس کی گواہی قابل ِ قبول نہیں سمجھی جاتی ہے، دور حاضر میں اسے ”Repute“ بھی کہا جاتا ہے……امریکہ دورِ حاضر کی سپریم معاشی و ملٹری پاور ہے امریکہ کی قوی ہیکل اور وسیع الجثہ معیشت پوری دُنیا کی معیشت کے لئے انجن اور رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ پوری دُنیا کی معیشت کا رخ متعین کرتاہے امریکی معاشی سرگرمیوں میں سرعت اور گری پوری دُنیا میں معاشی سرگرمیوں کی تحریک دیتی ہے، گرم کرتی ہے امریکی معیشت میں کمزوری اور کمی کے اثرات پوری دُنیا کی معیشتوں پر دیکھے جاتے ہیں، محسوس کئے جاتے ہیں یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے لیکن تاثر یہ ہے کہ چین چھا رہا ہے چینی معیشت چھا گئی ہے ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے چین براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ کو اپنے پروں تلے لے رہا ہے، عالمی معیشت پر چھا گیا ہے۔ امریکہ بارے حقیقت اور چین بارے تاثر کے درمیان مخاصمت اور جنگ جاری ہے اور یہ ہمارے عہد کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مفر ممکن نہیں ہے۔کبھی کبھی تاثر، حقیقت و سچائی کے قریب ہوتا ہے، کبھی کبھی تاثر قائم کرنے اور اسے پختہ کرنے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں،لیکن ایک سچائی دیکھتے ہی دیکھتے اس تاثر کو ایسے غائب کر دیتی ہے جیسے بارش کا پانی، عورت کے میک اپ کو زائل کر کے اس کا حقیقی چہرے سامنے لے آتا ہے۔

پی ٹی آئی نے عمران خان کی قیادت میں دو باتیں مستحکم کر دی تھیں،انہوں نے ایک تاثریہ قائم کیا کہ جاری نظام اور اس سے فوائد حاصل کرنے والوں کی تبدیلی کے بغیر ہمارا ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تبدیلی کے اس تاثر کو22/23 سال میں خوب پختہ کیا، حکمران جماعتوں اور خاندانوں پر تابڑ توڑ تنقیدی حملوں کے ذریعے ان کی نااہلی اور کرپٹ ہونے کے تاثر کو پختہ کیا۔دوسرا تاثر انہوں نے اپنے بارے میں پیدا کیا کہ وہ بے داغ اور کرشماتی شخصیت کے حامل ہیں، ان کی پذیرائی عالمی سطح پر ہے، بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ان کی جیب کی گھڑی ہیں اور اگر عمران خان صاحب کو اقتدار مل جائے تو پاکستان دُنیا کی عظیم الشان ریاست بن جائے گا۔ ایسے ہی تاثرات کے ذریعے وہ ہر شے اور ہر شخص کو بلڈوز کرتے ہوئے مسند ِ اقتدار کی طرف بڑھتے چلے گئے،حتیٰ کہ انہیں اس پر بٹھا دیا گیا،ان کے اپنے ہی قائم کردہ تاثر کے باعث عامتہ لناس نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ اب ان کے معاشی، معاشرتی اور دیگر مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے، عمران خان کی کرشماتی شخصیت بس پلک جھپکتے ہی سارے مسائل حل کر دے گی۔ پی ٹی آئی حکومت نے 100 دِنوں میں معاملات کی ڈائریکشن طے کرنے اور بہتری کی سمت لے جانے کے وعدے کئے۔عمران خان نے حکمران خاندانوں اور صاحب ِ اقتدار سیاست دانوں کے بارے میں یہ تاثر بھی قائم کیا کہ وہ سب کرپٹ ہیں ہیں اور قومی دولت کے لٹیرے ہیں۔مسائل انہی کی کرپشن کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کھل کھلا کر یہ تاثر قائم کیا کہ ان کرپٹ افرا کو پکڑ کر احتساب کے کٹہرے میں لا کر نہ صرف لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی، بلکہ اس طرح کرپشن کے خاتمے سے ملک تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا، بلکہ چھلانگیں لگاتا ہوا آگے بڑھتا چلا جائے گا،ایسے ہی تاثرات کے زیر اثر عمران خان اور ان کی تحریک کو زمام اقتدار دی گئی،لیکن ایک ہی سال کے اندر اندر ان کا 22/23سال میں تراشیدہ ”تاثر“ ان کی کارکردگی کے سچ میں دب گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہماری معیشت نے ہماری معاشرت کو بے حال، بلکہ بدحال کر کے رکھ دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کار سرکار چل نہیں رہا، سرکاری معاملات آگے بڑھنا تو دور کی بات،چل بھی نہیں رہے ہیں، فیصلہ سازی نہیں ہو رہی ہے اور جو فیصلے ہو رہے ہیں ان میں وزڈم اور استقلال کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ پنجاب میں آئی جی کی تعیناتی ہو یا پولیس ریفارمز کے نعرے، معاملات بارے تاثر یہی ہے کہ سب ٹھیک نہیں،معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔

محرم الحرام ایک انتہائی اہم مہینہ، شہادت فاروق اعظمؓ ہو یا شہادت حسینؓ اس مہینے کو مسلمانوں کے لئے اہم بناتے ہیں، شہادت حسینؓ بالخصوص مسلمانوں کے لئے اہم ہے،کیونکہ اسے معرکہ حق و باطل کے حوالے سے اہمیت دی جاتی ہے،مسلمان عاشورہ کے موقع پر دِل کھول کر نذر نیاز کرتے ہیں اس دفعہ کی اطلاعات ہیں کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی تھی، اِس لئے لنگر میں کمی دیکھنے کو ملی۔ٹی وی سروے رپورٹس کے مطابق اس دفعہ8 روپے والا نان12روپے اور 3000 روپے والی حلیم کی دیگ4500-5000 روپے کی مل رہی تھی، تاثر ہے کہ لنگر میں کمی کا باعث مہنگائی ہے، ممکن ہے کچھ دیگر عوام نے بھی کردار ادا کیا ہو،لیکن تاثر مہنگائی ہے۔سونے پہ سہاگہ چیف جسٹس آف پاکستان کا جاری احتساب کے بارے میں بیان ”سیاسی انجینئرڈ احتساب کا بڑھتا تاثر خطرناک ہے“ حکومت نے کرپشن کے خاتمے اور احتساب کو بلاتفریق جاری رکھنے اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کے بارے میں بار بار عزم کا اظہار ”سیاسی انتقام“ کے تاثر میں ڈھل چکا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ حکومت شریف اور زرداری خاندان اور ان سے متعلق افراد کو احتساب کے ذریعے جھنجھوڑنا اور بھنبھوڑنا چاہتی ہے،کیونکہ گزرے ایک سال کے دوران حکومتی اقدامات اور بیانات سے یہی تاثر پیدا ہوا ہے۔گزرے ایک سال کے دوران بحیثیت مجموعی حکومتی کارکردگی سے جو تاثر پیدا ہوا ہے وہ منفی ہے نا کارکردگی اور نااہلیت کا ہے، کاروبار سکڑا ہے، کاروباری حضرات ناامید ہیں، پریشان ہیں، سرمایہ کاری کہیں نظر نہیں آ رہی، لوکل سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے،جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار، مارکیٹ سے بھاگ گئے ہیں،آپ پاکستانی سٹاک مارکیٹ کی صورتِ حال دیکھ لیں۔ وہاں ناامیدی کا راج نظر آتا ہے، سرمایہ کار روٹھ گیا ہے اسے بہتری کی امید نہیں رہی، ناامیدی کے تاثر نے مارکیٹ برباد کر کے رکھ دی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...