کشمیر کا مسئلہ (3)

کشمیر کا مسئلہ (3)
کشمیر کا مسئلہ (3)

  


سوال: ابھی آپ نے کہا کہ لوگوں نے آپ کو اپنی حمایت پیش کی تھی، جب آپ نے ان سے کوئی discussionہی نہیں کیا تھا تو پھر انہوں نے حمایت کس بات پر کی تھی؟

جواب:(قہقہہ لگاتے ہوئے) مجھے ایسے ہی سپورٹ کیا، صورتحال یہ تھی کہ ایئر کموڈور جنجوعہ جو ایئر فورس کے افسر تھے بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے تھے وہ بھی حکومت کے مخالف تھے۔ زیادہ تر لوگ حکومت کے مخالف تھے اور میرے بارے میں انہیں علم تھا کہ میں حکومت کا مخالف ہوں۔

سوال: آپ حکومت کے مخالف کیوں ہوگئے تھے جبکہ اس وقت تو ملک نیا نیا بنا تھا؟

جواب: نیا ملک تو بنا تھا لیکن کشمیر کے سلسلے میں اختلافات ہوگئے تھے، کیوں کہ ہم نے کشمیر جاکر لڑائی لڑی تھی، وہاں محاذ آرائی کی تھی۔ مختلف قبائل کو جمع کرکے انکی راہنمائی کی تھی اور پھر ہم سے پوچھے بغیر جنگ بندی قبول کرلی گئی اور ایسی شرائط پر جو کہ ہمارے favourableنہیں تھیں۔ اس وجہ سے ہمارے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ میں لیاقت علی خان کا مخالف ہوگیا تھا کہ انہوں نے آئین سازی میں بہت تاخیر کردی تھی۔

سوال: اس موضوع پر آپ کی لیاقت علی خان سے کبھی روبرو بات چیت ہوئی تھی؟

جواب: نہیں، نہیں۔ کشمیر کے مسئلہ پر تو ہوئی تھی۔

سوال: آئین سازی کے مسئلہ پر نہیں ؟

جواب: آئین کے مسئلہ پر کبھی گفتگو نہیں ہوئی۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ تاخیر کیوں ہوئی تھی ؟

جواب: لیاقت علی خان چاہتے تھے کہ انہوں نے جو ”قرارداد مقاصد“ پاس کیا تھا وہ میرا لیاقت علی خان صاحب کے ساتھ جو ذاتی اختلاف تھا وہ یہ تھا کہ انہوں نے کشمیر کے سلسلے میں کوئی موزوں کارروائی نہیں کی تھی جیسا کہ ہونا چاہئے تھا۔

سوال: آپ نے کبھی کوئی تجویز پیش کی تھی؟

جواب: میں نے تجاویز بھی پیش کی تھیں، ایک بار نہیں، کئی بار، ان تجاویز میں یہ تھا کہ ہمیں کیا کرنا ہے، انہوں نے ایک دفعہ ہمارے ساتھ تین گھنٹے کا انٹرویو بھی کیا تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ چھ ماہ کے اندر اندر کارروائی کا دوبارہ آغاز کردیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

سوال: آپ کا پروگرام یہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرلیں؟

جواب: ہمارا خیال یہ تھا کہ اس پر کسی نہ کسی طرح قبضہ کرلیا جائے، ہمارا خیال یہ تھا کہ قبائل بھی کشمیر میں آئے ہوئے ہیں اور ان کی کارکردگی بھی اچھی تھی، کشمیر کے لوگ بھی ان کا ساتھ دیں، جس طرح آج کل فلسطین کے لوگ کررہے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ کشمیریوں کی اپنی کوئی آرگنائزیشن ہو جو جنگ بندی کے بعد بھی کارروائیوں کو جاری رکھ سکے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک understandingہوئی تھی کہ دونوں علاقوں میں لوگوں کو حق خودارادی کے استعمال کا موقع دیا جائے گا، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب ہندوستان کی بھی خواہش ہو۔ یہ شرط ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے میں بھی اور دوسرے فوجی افسر بھی ناراض تھے۔ پھر جب اکتوبر1947ء میں قبائل آگے بڑھے اور انہوں نے مظفرآباد پر قبضہ کرلیا، وہاں سے آگے بڑھے اور اڑی چلے گئے اور پھر بارہ مولا۔ اس وقت لیاقت علی خان نے لاہور میں ایک کانفرنس بلائی، اس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا، انہوں نے اس لئے مدعو کیا تھا کہ مجھے انہوں نے خود کشمیر کے سلسلے میں advice دینے کے لئے appoint کیا تھا، کانفرنس میں، میں نے کہا تھا کہ اب سری نگر پر ہمارا ایکشن ہونا چاہئے اور ہمیں تین ہزار قبائل جو سیالکوٹ میں موجود ہیں بھیج دینا چاہئے، لیکن انہوں نے اس بات کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہماری لڑائی چھڑ جائے گی اور اس سے ہمارے لئے زیادہ خطرہ ہوگا۔ کانفرنس کے شرکاء نے انہیں سپورٹ کیا تھا۔ ایوب خان، اسکندر مرزا اور یحییٰ خان نے ان کو سپورٹ نہیں کیا تھا۔

سوال: اسکندر مرزا کی اس وقت حیثیت کیا تھی؟

جواب: وہ سیکرٹری جنرل دفاع تھے۔

سوال: یہ 1947ء کی بات ہے ؟

جواب: جی ہاں 1947ء کی بات ہے۔

سوال: 1947ء میں وہ پولیٹکل ایجنٹ نہیں تھے ؟

جواب: نہیں وہ صرف دفاع کے سیکرٹری جنرل تھے۔

سوال: پھر کیا ہوا؟

جواب: اس کانفرنس کے بعد میں سری نگر چلا گیا، قبائل چھ میل اندر داخل ہوگئے تھے اور ایک مشین گن پوسٹ نے انہیں روک رکھا تھا۔ آگے جانے کے لئے صرف وہ ہی سڑک کا راستہ تھا کیونکہ دائیں اور بائیں کناروں پر پانی تھا، وہ آگے نہیں جاسکتے تھے۔ پھرمیں واپس آیا تاکہ بکتر بند گاڑی حاصل کرکے انہیں دی جائے۔ میں آرمڈ کور رجمنٹ میں گیا، وہاں کرنل ٹامی مسعود کمانڈنٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بارہ بکتر بند گاڑیاں فوراً روانہ کردیتے ہیں۔ اس وقت میں نے سوچا کہ لیاقت علی خان صاحب سے پوچھ لوں، تو میں نے اس وقت کے امور کشمیر کے وزیر راجہ غضنفرعلی خان سے رابطہ قائم کیا، انہوں نے لیاقت علی خان صاحب کو کراچی فون کیا، جس پر انہوں نے کہا کہ کسی صورت میں بھی فوج کو ملوث نہ کریں۔ یہ ہی بنیادی غلطی تھی۔ اس وقت موقع تھا ہم آسانی سے اندر جاسکتے تھے۔ ایک بار ہم سری نگر میں داخل ہوجاتے وہ آگے چلتے رہتے۔

سوال: یہ قبائل کون تھے ؟

جواب: وہ پٹھان تھے، مختلف قبائل سے ان کا تعلق تھا۔ محسود، آفریدی، وزیرہ وغیرہ۔

سوال: ان قبائلیوں کو آپ نے جمع کرکے بلایا تھا؟

جواب: نہیں، یہ خان قیوم جو اس وقت سرحد کے وزیراعلیٰ تھے اور میجر خورشید انور جو اس وقت مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سربراہ تھے، جنہیں لیاقت علی خان نے مقرر کیا تھا، ان کی کوششَں کا نتیجہ تھا۔ یہ قبائل ایبٹ آباد میں جمع ہوگئے تھے اور وہاں سے کشمیر چلے گئے تھے۔

سوال: آپ کی اس موضوع پر خان قیوم سے بات ہوئی تھی، قبائل کو جمع کرنے سے قبل؟

جواب: جی ہاں۔

سوال: انہوں نے قبائل کو جمع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا ؟

جواب: جی ہاں، لیاقت علی خان کی میں ذاتی طور پر عزت کرتا تھا، لیکن آئین کے مسئلہ پر میری ان سے مخالفت ہوگئی تھی، وہ آئین کی تیاری کے سلسلے میں تاخیر کررہے تھے۔ انہوں نے ایک قرارداد مقاصد پاس کرالی تھی، اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ملک میں امیرالمومنین بن جائیں۔

سوال: آپ کے خیال میں ان کی نیت امیر المومنین بننے کی تھی؟

جواب: مجھے نہیں معلوم، لیکن دستور ساز اسمبلی پر ان کی گرفت مضبوط تھی اور انہیں اکثریت کی حمایت حاصل تھی، اس لئے میں نے فرض کرلیا وہ امیر المومنین بننا چاہتے ہیں، جس کو میں نے پسند نہیں کیا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ کیپٹن پو شنی بھی اس بات کے مخالف تھے، حالانکہ وہ صرف کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے۔ میری اس وقت آئین سازی میں تاخیر کے سلسلے میں مخالفت تھی، میں چاہتا تھا کہ آئین ساز اسمبلی جلد از جلد اپنا کام کرے، عام انتخابات ہوں اور ملک میں پارلیمانی نظام حکومت قائم ہوجائے۔

سوال: مگر سوال یہ ہے کہ 1951ء میں یا 1947ء سے یہ معاملات چل رہے تھے، اس وقت ملک کو قائم ہوئے صرف تین سال ہوئے تھے، فوجیوں کو یہ سوچنے کی کیا ضرورت تھی کہ سول معاملات میں مداخلت کریں؟

جواب: (ہنستے ہوئے) وہ لوگ خود میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے شکایت کرتے تھے حکومت کے خلاف کارروائی کروں اور اس میں فوج کی قیادت کروں۔

سوال: آپ کے ذہن میں یہ خیال کیوں آیا تھا کہ حکومت آئین نہیں بنارہی ہے یا پارلیمانی طرز حکومت …… حالانکہ آپ تو انگریزوں کے تربیت یافتہ تھے؟

جواب: میں نے ترکی کے کمال پاشا کی تاریخ پڑھی تھی۔ اس کے اقدامات میرے سامنے تھے، انہوں نے اپنے ملک کو جدید خطوط پر استوار کیا تھا، ملک میں اسلامی آئین کی بجائے پارلیمانی آئین بنایا تھا اور پارلیمانی طرز حکومت قائم کی تھی۔ میں ان کے ان اقدامات سے متاثر تھا“۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم


loading...