اگر شہباز شریف وزیراعظم ہوتے!

اگر شہباز شریف وزیراعظم ہوتے!
 اگر شہباز شریف وزیراعظم ہوتے!

  


سابق برطانوی وزیراعظم ہیرولڈ ولسن کے بارے میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ جب انہوں نے اپنے بعد آنے والے وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ سونپی تو اسے تین بند لفافے دیئے اور کہا کہ جب بھی اس کی حکومت بحران کا شکار ہو وہ ان کو ایک ایک کرکے کھولے۔ ہر ایک خط میں درپیش بحران کا حل درج ہو گا۔

جب پہلا بحران آیا تو نئے وزیراعظم نے پہلا لفافہ کھولا۔اس میں ایک پرچی پڑی تھی جس پر لکھا تھا کہ سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہراؤ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیااور بحران ٹل گیا۔ پھر دوسرا بحران آیا تو دوسرا لفافہ کھولا گیا جس پر مشورہ درج تھا کہ اپنے سیکنڈ ان کمانڈ کو برطرف کردو۔ جب تیسرا بحران آیا اور ااس نے تیسرا خط کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ’اب آپ تین بند لفافے تیار کریں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پہلا خط تو کب کا کھول چکے ہیں۔ دوسرا خط انہوں نے بت کھولا تھا جب اپنے نمبر ٹو اسد عمر کو وزارت خزانہ کے جلیل القدر منصب سے فارغ کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسرا خط کھولنے کا وقت کب آتا ہے!

ان لوگوں پر تو یہ بات روز اول سے عیاں تھی جو حکومت کی پالیسی میں سٹیک رکھتے ہیں یا پھر جو گزشتہ کئی سالوں سے پالیسیوں کے بننے اور ان پر عمل درآمد ہوتے دیکھتے آئے ہیں لیکن اب تو یہ بات ہر خاص و عام پر کھل چکی ہے کہ جلد یا بدیر اس ملک کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوگی جو جانتا ہوکہ ملک کیسے چلایا جاتا ہے۔

گزشتہ ایک سال سے پورا ملک محض نعرے بازی اور اس ایک واہمے پر چلایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے شخص کی بطور حکمران ضرورت ہے جس کے آتے ہی خود بخود ملک میں ہر شے درست ڈگر پر چل پڑے گی۔ انگریزی محاورہ ہے کہ مچھلی ہمیشہ سر سے سڑنا شروع کرتی ہے اس لئے اگر کوئی ایماندار شخص ٹاپ پر آگیا تو ملک کے نظام میں جاری گلنے سڑنے کا عمل خود بخود رک جائے گا۔ گزشتہ ایک سال یہ بھی سمجھا جاتا رہا ہے کہ جونہی خراب سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کی جگہ لوگوں میں سے فرشتوں کو چن لیا جائے گا تو ملک کا ہر خسارہ خود بخود پورا ہو جائے گا اور حکومت کی گاڑی چلنا شروع ہوجائے گی۔

یہی سوچ تب بھی کارفرما تھی جب پاکستانیوں سے ڈیم فنڈ کی اپیل کی گئی، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ خریدنے پر اکسایا گیا، عوام کے مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم آفس میں ہاٹ لائن قائم کی گئی اور واٹس ایپ پر شکائت درج کروانے کا ایک سسٹم وضع کیا گیا، اور تب بھی جب بجٹ پیش کرنے کی رات خطاب میں اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالنے کا مژدہ سنایا گیا۔لیکن ایک سال گزرنے کے بعد یہ سب کچھ جھاگ کی طرح بیٹھ چکا ہے اور عوام کا دماغ سوچنے سمجھنے سے عاری ہو چکا ہے۔

لیکن اب ہر ایک کی سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ اوپر بیٹھے لوگ بھی سوچ رہے ہیں کہ اس طرح سے گزارا نہیں ہوگا۔ ملک خودبخود نہیں چل سکتا اور حقیقت یہ ہے کہ مچھلی سرسے نیچے کو نہیں بلکہ اندر سے باہر کو سڑاند دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے جکڑ بند پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے جب کہ سی پیک پر کام بند پڑا ہے۔ گویا کہ پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد سے عوام کی جیبیں سکڑ رہی ہیں۔ لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ناپید ہوتی نوکریوں اور آمدن کے محدود ذرائع سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو کوسنا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ اب سابقہ حکومتوں کو نہیں کوستے بلکہ کہتے ہیں کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو اس سے بہتر حالات تھے۔

ان حالات میں حکومت کرنا ایک آرٹ سے کم نہیں ہوتااور اس آرٹ کے اظہار میں خان صاحب پہلے ہی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اسی لئے اب وہ فیڈرل سیکرٹریوں کو ریڈ لیٹر جاری کرتے نظر آتے ہیں اور معیشت پر روزانہ کی بنیاد پر میٹنگیں لیتے نظر آتے ہیں لیکن بات بن نہیں رہی۔

ذرا تصور کیجئے کہ شہباز شریف اگر واقعی گزشتہ ایک سال سے پاکستان کے وزیر اعظم ہوتے تو کیا پنجاب سپیڈ اب پاکستان سپیڈ نہ بن چکی ہوتی، کیا ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل نہ چکے ہوتے، کیا ترکی کی کمپنیاں کراچی کا کوڑا کرکٹ بھی ٹھکانے نہ لگاچکی ہوتیں، کیا اورنج لائن مکمل ہو گر گرین لائن پر کام نہ شروع ہو چکا ہوتا، کیا کراچی میں بھی میٹرو بس نہ چل رہی ہوتی، کیا سی پیک کے اصلی فوائد نہ ملناشروع ہو چکے ہوتے، مگر افسوس کہ ہم نے ایک سال ضائع کردیا اور اگلا سال شروع ہو گیا ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...