بڑے بولے مشیر اور ترجمان اپنی چرب زبانی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں 

بڑے بولے مشیر اور ترجمان اپنی چرب زبانی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں 

تجزیہ؛۔  قدرت اللہ چودھری

شیراز کے شیخ نے کہا تھا ”تامرد سخن نگفتہ باشد، عیب و ہنرش نہفتہ باشد“ یعنی جب تک کوئی شخص منہ سے بات نہ نکالے اس وقت تک اس کی اچھی اور بری سب باتیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، لیکن ہماری حکومت کے بعض وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کا المیہ ہے کہ انہیں جونہی وزارت یا مشاورت کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے وہ سمجھ بیٹھتے ہیں انہیں اب نان سٹاپ بولتے ہی رہنا ہے چاہے اس گفتگو کا کوئی حاصل حصول نہ ہو، چنانچہ اس ایک برس کے عرصے میں ہم نے بہت سے مشیروں اور ترجمانوں کو اپنی زبان کے رس کی وجہ سے عہدے سے محروم ہوتے دیکھا، لیکن مجال ہے کسی نے اپنی روش بدلنے  کی ضرورت محسوس کی ہو، آج بھی ان کے منہ میں جو آتا ہے جھٹ سے کہہ دیتے ہیں، مثال کے طور پر چند دن پہلے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کوئی وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ جو کام نہیں کرے گا اسے جانا پڑے گا، بظاہر تو یہ بات بے ضرر سی ہے، لیکن ہمیں خدشہ ہے جب فردوس صاحبہ کا ایوان اقتدار سے رخصتی کا وقت آیا تو ان کے ایسے ہی فرمودات ان کے سامنے آ کھڑے ہوں گے۔ فیاض الحسن چوہان بھی بڑی فصیح و بلیغ گفتگو کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، لیکن انہیں نہ جانے کیا سوجھی وہ گائے کے پیشاب کا تذکرہ لے بیٹھے اور غالباً کوئی ایسی بات کہہ دی جس کا مفہوم یوں تھا کہ ہم مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں وہ ہندو ہمارا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں جو گائے کا پیشاب پیتے ہیں، بات تو ان کی غلط نہیں تھی لیکن اس کی پاداش میں انہیں مشاورت کے منصب سے ہاتھ دھونا پڑا، اس کے بعد انہوں نے بڑی کوشش سے دوبارہ وزارت حاصل کی، لیکن اب پھر ان کی زبان سے پھول جھڑ رہے ہیں ہمیں خطرہ ہے کہ کوئی ایک پھول اگر شعلے کی طرح کسی جگہ لگ گیا تو انہیں نقصان ہو جائے گا۔ کیونکہ کبھی پھول بھی زخم لگا جاتے ہیں۔

پنجاب کے ایک ترجمان شہباز گل ہیں انہوں نے چند روز پہلے کہا تھا کہ جس کسی کوعثمان بزدار کی شکل پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ جائے، ابھی تک کسی نے پارٹی تو نہیں چھوڑی،  لیکن یار لوگوں نے شہباز گل سے ترجمانی چھڑوادی، حالانکہ بات انہوں نے غلط نہیں کی تھی لیکن سنا ہے وہ اپنے وزیراعلیٰ کی بے جا حمایت کرتے کرتے خود بھی ایسے اقدامات شروع کردیتے تھے جو حکومت پسند نہیں کرتی تھی۔ حالانکہ وہ وزیراعلیٰ کے ترجمان  ہیں خاص طور پر بیرون ملک سے تشریف لائے ہیں، لیکن  وہ  حکومت کی پالیسیوں کی تشہیر کرنے کی بجائے اپنی ہی پروجیکشن میں لگے ہوئے تھے۔ اس لئے ان کی یہ روش پسندیدہ نہیں گردانی گئی اور انہیں گھر کا راستہ دکھا دیا گیا، غالب کو بھی ایسی ہی صورت حال درپیش آئی تھی جب انہوں نے محبوب سے کہا تھا کہ بزم ناز غیر سے خالی ہونی چاہئے تو ستم ظریف محبوب نے خود انہیں ہی بزم سے اٹھا دیا۔ گویا پنجاب کی حکومت نے بھی روایتی محبوب کا کردار ادا کیا اس لئے میرا اپنے محبوب مشیروں کو مشورہ ہے کہ وہ زبان پر قابو رکھیں اور اتنی ہی بات کریں جتنی ضروری ہو، وہ حدود سے تجاوز کر کے نہ تو اپنی ذات کی پبلسٹی کی راہ پر چلیں اور نہ حکومت کے مخالفین کو ایک حد سے زیادہ برا بھلا کہیں، کیونکہ جولوگ سیاست میں ہیں کچھ پتہ نہیں ان کے ساتھ کب ڈیل ہو جائے اور آج جو لوگ راندہ درگاہ ہیں وہ دھل دھلا کر پاک صاف ہو جائیں اور ہمارے مشیروں کے بیانات انہیں کہیں کا نہ چھوڑیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیر عون چودھری کوبھی ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک نیا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس حکومت کو زیادہ  مشیروں کی نہیں ایسے سنہری مشوروں کی ضرورت ہے جن پر عمل بھی ہوسکے، حکومت نے اپنے ایک سال میں بہت سے ایسے کام کئے ہیں جن کا مشورہ تو شاید انہیں ان کے مشیروں نے دیا ہو، لیکن ان کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ جس کی ایک تازہ مثال وہ آرڈی ننس ہے جس کے ذریعے صنعت کاروں کے ذمے 228ارب کے ٹیکس معاف کردیئے گئے تھے اور جسے چند دن بعد واپس لینا پڑا، آرڈی ننس جاری کرتے وقت سوچا گیا نہ واپس لیتے وقت،  شہباز گل نے اپنے استعفے میں کہا کہ ناقص حکمرانی کی پالیسیوں کا دفاع بہت مشکل تھا۔ معلوم نہیں یہ بات انہیں اس وقت معلوم تھی یا نہیں جب وہ کہہ رہے تھے کہ جنہیں عثمان بزدار کی شکل پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ دیں۔ اب جبکہ ان سے استعفا لے لیا گیا ہے انہیں یاد آیا ہے کہ اس حکومت کی تو گورنرننس ہی ٹھیک نہیں اس لئے اس کا دفاع مشکل ہے۔ دیکھیں اب انہیں کوئی ایسا منصب کب ملتا ہے جس میں ”اچھی گورننس“ ہو تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس کا دفاع کرسکیں۔

بڑبولے مشیر

مزید : تجزیہ


loading...