سندھ حکومت نے کراچی کے 4 کالجز کو بھٹو فیملی کے نام دیے تو وہاں کے سارے طلبہ ہی فیل ہوگئے

سندھ حکومت نے کراچی کے 4 کالجز کو بھٹو فیملی کے نام دیے تو وہاں کے سارے طلبہ ہی ...
سندھ حکومت نے کراچی کے 4 کالجز کو بھٹو فیملی کے نام دیے تو وہاں کے سارے طلبہ ہی فیل ہوگئے

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ حکومت کی جانب سے کراچی شہر کے وہ 4 کالجز جن کو بھٹو فیملی کے نام دیے گئے ان میں انٹرمیڈیٹ پر انجینئرنگ امتحان میں ایک طالبعلم بھی پاس نہیں ہوسکا ۔ ان کالجز کو ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری کے نام دیے گئے تھے۔

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے بارہویں جماعت کے پری انجینئرنگ امتحان کیلئے رواں سال 267 سرکاری اور نجی کالجز کے 36 ہزار 173 طلبہ کو رجسٹر کیا تھا۔ رجسٹرڈامیدواروں میں سے 26 ہزار 359 طلباءاور 9 ہزار 814 طالبات تھیں جن میں سے بالترتیب 625 اور 136 امیدواروں نے امتحان میں شرکت نہیں کی۔امتحانی نتائج کے مطابق ان میں سے صرف 14 ہزار 60 طلبہ ہی پاس ہوسکے جس کے باعث کراچی بورڈ کا نتیجہ 39 اعشاریہ 70 فیصد رہا۔

امتحانی نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن 4 کالجز کو بھٹو خاندان کے افراد کے نام دیے گئے ہیں ان میں ایک بھی طالبعلم پاس نہیں ہوسکا اور ایک کالج تو ایسا بھی تھا جس کے کسی طالبعلم کی امتحان کیلئے رجسٹریشن ہی نہیں کرائی گئی تھی۔

ان کالجز میں نصرت بھٹو گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج لیاری، شہید بینظیر بھٹو گورنمنٹ گرل کالج لیاری، ذوالفقار علی بھٹو ڈگری کالج گلشنِ بہار اورنگی ٹاﺅن اور آصفہ بھٹو زرداری گورنمنٹ گرل ڈگری کالج شیرپاﺅ کالونی لانڈھی شامل ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو ڈگری کالج کے صرف 10 طلبہ نے پری انجینئرنگ پارٹ 2 کیلئے رجسٹریشن کرائی لیکن ان میں سے کوئی بھی پاس نہ ہوسکا۔ اسی طرح نصرت بھٹو گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج کے تمام 20 ، شہید بینظیر بھٹو گورنمنٹ گرلز کالج کی تینوں طالبات امتحان میں فیل ہوگئیں۔

2 برس قبل آصفہ بھٹو زرداری گورنمنٹ ڈگری کالج نے کورنگی کے قریب پسماندہ علاقے شیر پاﺅ کالونی میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کالج سے ایک بھی طالبعلم کی امتحان کیلئے رجسٹریشن نہ کرائی جاسکی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...