دوحہ امن مذاکرات:ایک اور مشکل مرحلہ!

دوحہ امن مذاکرات:ایک اور مشکل مرحلہ!

  

طویل انتظار اور طویل تر کوششوں کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔یہ مذاکرات فروری میں ہونے والے طالبان،امریکہ معاہدے کے بعد مارچ میں شروع ہو جانا چاہئیں تھے،لیکن پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا،معاہدہ منظرِ عام پر آتے ہی افغان صدر اشرف غنی نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر کہہ دیا تھا کہ طالبان قیدیوں کی ”یک مشت“  رہائی ممکن نہیں ہے اور کیس ٹو کیس جائرہ لے کر قیدی رہا کئے جائیں گے،طالبان نے بھی ردعمل دینے میں دیر نہیں لگائی اُن کا موقف تھا کہ تمام قیدیوں کی رہائی، انٹرا افغان ڈائیلاگ کی شرطِ اولین ہے اور جب تک سب قیدیوں کی رہائیاں عمل میں نہیں آئیں گی مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکتا۔یہ تو دو فریقوں کا نقطہ نظر تھا، افغانستان کے اندر اور باہر اُن گروپوں اور عناصر کی کمی نہیں ہے، جن پر ”سپائلرز“ کی تعریف چسپاں ہوتی ہے انہیں ”امن کے غارت گر“ کہنا زیادہ صحیح ہو گا،اِن کے مفادات کا تقاضا ہے کہ افغان آپس میں لڑتے مرتے رہیں، خون بہتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فروری کے امن معاہدے کے بعد ایسے واقعات ہوئے جن میں 12ہزار افغانوں کی جانیں گئیں،15ہزار زخمی بھی ہوئے جن میں سے بیشتر ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو گئے اور زندگی اُن کے لئے بوجھ بن گئی،اگر مذاکرات کسی تاخیر کے بغیر شروع ہو جاتے اور معاہدے کو تاویلات کی بھول بھلیوں میں اُلجھا  نہ دیا جاتا تو کم از کم اُن لوگوں کی زندگیاں تو بچ جاتیں، جو معاہدے کے بعد روا رکھے گئے تشدد کی نذر ہوئیں، ابھی زیادہ دن نہیں گذرے  افغان نائب صدر امراللہ صالح ایک دھماکے میں مرتے مرتے بچے ہیں،اس حادثے میں بہت سی جانیں گئیں۔

افغانستان میں چار عشروں سے خون بہہ رہا ہے کبھی کبھار تھوڑی مدت کے لئے حالات بہتر ہوتے نظر آتے ہیں،لیکن جو مدھم سی روشنی سرنگ کے دوسرے کنارے پر نظر آتی ہے وہ بھی دوبارہ غائب ہو جاتی ہے اور گھپ اندھیرا، پھر افغانستان کی فضا پر چھا جاتا ہے، اب افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں تو اِس میں اُس امریکی دھمکی کا بھی دخل ہے کہ اگر مذاکرات شروع نہ ہوئے تو امریکہ امداد روک دے گا،اس کے بعد اشرف غنی کو سارے قیدی بھی رہا کرناک پڑے۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ افغانستان کے دونوں فریق اپنے مستقبل کے سیاسی نظام کا انتخاب خود کریں،انہوں نے فریقین سے کہا کہ آپ کو موقع ملا ہے کہ امن قائم کریں، آپ میں سے ہر ایک پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے،لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ تنہا نہیں ہیں، پوری دُنیا چاہتی ہے کہ آپ کامیاب ہوں۔قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا کہنا تھا کہ فریقین ہر طرح کی تقسیم سے بلند ہو کر آگے بڑھیں اور ایک ایسے معاہدے تک پہنچیں جس میں کوئی فاتح اور کوئی مفتوح نہ ہو، افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے اگر ہم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا ہے اور خلوص سے امن کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو افغانستان میں جاری مشکلات اور تکالیف کا خاتمہ ہو گا،انہوں نے انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا،ہمیں امن کے اس غیر معمولی موقع کو بروئے کار لانا چاہئے، ہمیں تشدد ترک کرنا ہو گا،مَیں پورے اعتماد کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ تاریخ آج کے دِن کو جنگ کے خاتمے کے طور پر یاد رکھے گی، طالبان کے نمائندے ملا عبدالغنی برادر نے اسلامی نظام رائج کرنے پر زور دیا اور کہا مَیں چاہتا ہوں مذاکرات اور معاہدوں میں اسلام کو  مد ِنظر رکھا جائے اور اسلام کو ذاتی مفادات پر قربان نہ کیا جائے۔

مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں نیک خواہشات اور امن کے قیام کی امیدیں وابستہ کرنے کے باوجود یہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے، فریقین کے درمیان نظریاتی بُعد المشرقین اور اختلافات کی خلیج خاصی وسیع ہے،اِس لئے خدشہ یہ ہے کہ مذاکرات کے درمیان بہت سے مشکل مقامات آتے رہیں گے۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ کتنا عرصہ جاری رہے،کب اچانک ختم ہو جائیں اور کب دوبارہ شروع ہو جائیں،اونچ نیچ آتی رہے گی، واک آؤٹ اور بائیکاٹ بھی ہوں گے۔ طالبان کا یہ مطالبہ تو بہت سی پیشانیوں کو عرق آلود کر دے گا کہ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کی حکومت ختم کی تھی،جس کے بعد افغان سرزمین پر امریکی اور غیر ملکی افواج قابض ہو گئیں،انہی غاصب افواج نے اپنی موجودگی میں افغانستان میں اپنی مرضی کا آئین بنوایا اور اس کے تحت انتخابات ہوئے،ان میں منتخب ہونے والے لوگ عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتے،اِس لئے یہ ضروری ہے کہ امریکہ نے جن لوگوں سے حکومت چھینی تھی،اُنہیں واپس کی جائے،گویا اس پوزیشن پر واپس جایا جائے،جو  اکتوبر2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت موجود تھی،یعنی طالبان کی حکومت بحال کی جائے، اب آپ تصور کر سکتے ہیں کہ افغان حکومت اِس مطالبے کو کیسے قبول کرے گی اور اس سارے اقتدار سے کس طرح دستبردار ہو گی، جو اسے افغانستان میں حاصل ہے، جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے اس کا نتیجہ تو عبداللہ عبداللہ نے نہیں مانا تھا،جو خود شریک ِ اقتدار تھے اور نئے نظام کی تشکیل میں اُن  کا ایک کردار تھا۔دلچسپ بات یہ ہے سات آٹھ مہینے تو صدارتی انتخاب کا نتیجہ آنے میں لگ گئے تھے،نتیجہ آیا تو عبداللہ عبداللہ اشرف غنی کے مقابلے میں خود متبادل صدر بن بیٹھے اور اپنا ایک سرکاری ڈھانچہ بنا لیا،جہاں صورتِ حال یہ ہو وہاں مخالفین کیا کچھ نہیں کر سکتے اور اُن کے ساتھ مذاکرات کر کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا کتنا مشکل ہے اس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

مشکلات کے باوجود مذاکرات کی میز سج ضرور گئی ہے اور اس میں پاکستان کا قابل ِ تعریف کردار ہے،لیکن اپنے ملک میں امن کی نئی تاریخ رقم کرنا خود افغانوں کی اپنی ذمے داری ہے اور یہی ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہے، دُنیا تو امن چاہتی ہے جس کا اظہار مائیک پومپیو نے اپنے خطاب میں کیا،اس کے لئے امریکہ کا تعاون بھی موجود ہے اور دُنیا کی دوسری قوتیں بھی پس  پردہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، قطرکو بھی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے اور وہ اس کا حق بھی ادا کر رہا ہے،اِس لئے اگر انٹرا افغان ڈائیلاگ کے آغاز میں نئے عہد کا آغاز ہو جاتا ہے اور بالآخر کسی نتیجے پر پہنچ کر افغان نمائندے چالیس سالہ خونریزی بند کرنے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو مذاکرات کاروں کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کے نام بھی تاریخ کے صفحات پر جگمگائیں گے،اور اگر مذاکرات کار کسی نتیجے پر پہنچے بغیر دامن جھاڑ کر خالی ہاتھ اُٹھ کھڑے ہوئے تو یہ امن کے لئے اچھا نہیں ہو گا،کشت وخون کا بازار گرم رہے گا،انسانی خون کی ندیاں بہتی رہیں گی اور غارت گر غالباً یہی چاہتے ہیں،افغان فریقوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اِن کھلے اور چھپے دشمنوں سے آگاہ رہیں اور اُن کے عزائم کو ناکام بنائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -