سانحہ موٹر وے اور حکمران 

سانحہ موٹر وے اور حکمران 
سانحہ موٹر وے اور حکمران 

  

خاتون رات گئے اپنے بچوں کے ساتھ گھر جانے کے لئے گاڑی میں نکلتی ہے ٹول پلازہ پار کرتی ہے اور دو سے تین کلو میٹر دور اس کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے عزیز و اقارب کو فون کر کے صورتِ حال بتاتی ہے۔رشتہ دار دوست اسے پولیس کو کال کرنے کیلئے کہتے ہیں وہ موٹر وے پولیس کو کال کرتی ہے تو موٹر وے پولیس جواب دیتی ہے کہ موٹر وے تو بن چکی ہے، لیکن یہاں موٹر وے پولیس ابھی تک تعینات نہیں ہوئی اسے قریبی چوکی یا تھانے کے کسی اہلکار کا نمبر دے دیا جاتا ہے۔پھر وہ اس قریبی تھانے یا چوکی کے اہلکار کو فون کرتی ہے تو اس سے اس کی لوکیشن مانگی جاتی ہے وہ لوکیشن بھی بھیج دیتی ہے اس کے بعد وہ ایک گھنٹہ تک پولیس کا انتظار کرتی رہتی ہے، لیکن پولیس کی بجائے ہوس کے پجاری،حرمت کے درندے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور عورت کو اس کے بچوں کے سامنے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، مال و اسباب لوٹتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں غائب ہو کر ایک ماں کو ساری عمر کے لئے بچوں کے سامنے لاچار چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ جب تک پولیس پہنچتی یا اس خاتون کے رشتہ دار وہاں آتے تب تک اس کی دنیا اجڑ چکی تھی، دنیا کی نظر میں وہ داغدار ہو چکی تھی۔یہاں سوال نہیں، بلکہ سوالا ت پیدا ہوتے ہیں کہ کال کرنے کے باوجود پولیس اتنی تاخیر سے کیوں پہنچی یا کیا کوئی پولیس والے بھی اس معاملے میں ملوث ہیں، کیونکہ خبروں کے مطابق اس خاتون نے اپنی لوکیشن کے بارے میں پولیس کو مطلع کر دیا تھاتو پھر ان درندوں نے آتے ہی خاتون کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور اسے جنگل میں لے گئے کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ انہیں معلوم تھا کہ گاڑی میں صرف خاتون اکیلی ہے یا اس کے صرف بچے ہی اس کے ساتھ ہیں کوئی مرد موجود نہیں۔

آئی جی موٹر وے کلیم امام کے مطابق انہوں نے خاتون کی کال ایف ڈبلیو او کو منتقل کر دی تھی، جنہوں نے موٹر وے بنائی ہے تو ایف ڈبلیو او میں کون ذمہ دار ہے کسی نے ان سے پوچھنے کی زحمت کی ہے۔ لاہور پولیس کے سربراہ فرماتے ہیں کہ خاتون کو اکیلے نہیں نکلنا چاہئے تھا، موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ سے سفر کرتی، پیٹرول دیکھ کر نکلتیں اگر وہ شیخ عمر کی باتوں پر عمل کرتیں پیٹرول دیکھ کر نکلتیں تو کیا گاڑی خراب نہیں ہو سکتی تھی یا کسی اور وجہ سے وہ وہاں نہیں رک سکتی تھی کیا، جی ٹی روڈ کے ارد گرد جنسی زیادتی کے واقعات نہیں ہوتے ان میں ہماری پولیس نے کتنی تندہی دکھائی ہے۔یہ سب تاویلیں ہیں، بہانے ہیں، حیلے ہیں تا کہ پولیس پر سے دباؤ کم کر کے متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکا جائے۔ خاتون تو کہتے ہیں ریاست مدینہ کا سن کر فرانس سے پاکستان آئی تھی تا کہ یہاں بچوں کی مقامی کلچر اور اسلامی روایات کے مطابق  تربیت کر سکے، لیکن یہاں اس کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا ہے کہ یقینا اس کا عمران خان کی ریاست مدینہ سے اعتبار و اعتماد اٹھ گیا ہو گا۔ یہاں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ عورت کو اکیلے سفر پر نہیں نکلنا چاہئے تھا یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے، اسلام نے تو عورت کو تین دن تک کے سفر میں بغیر محرم کے نکلنے سے منع کیا ہے اس لئے وہ خاتون لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھیں اور یہ ایک گھنٹے کا سفر ہے اس میں وہ حدیث نہیں لاگو ہوتی۔بخاری شریف میں ہی حضرت عدی بن حاتم  ؓ سے مروی ایک حدیث ہے وہ کیا فرماتے ہیں ان ہی کی زبانی جانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ  کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے فقر و فاقہ کی شکایت کی پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے راستوں کی بدامنی کی شکایت کی۔

اس پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا عدی تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے (جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے) میں نے کہا کہ دیکھا تو نہیں البتہ اس کا نام سنا ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہوگا۔ میں نے حیرت سے اپنے دل میں کہا پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوؤں کا کیا ہو گا، جنہوں نے شہروں کو تباہ کر دیا اور فساد کی آگ سلگا رکھی ہے۔ حضرت عدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے کئے نکلی اور مکہ پہنچ کر اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اللہ کے سوا اسے کسی ڈاکو وغیرہ کا راستے میں خوف نہیں تھا۔یہ حدیث بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک اسلامی ریاست کا مفہوم بتا دیا کہ اسلامی ریاست میں ایک عورت اکیلے بھی سفر کر سکتی ہے اگر اسے اپنی عزت و ناموس کے کھو جانے کا ڈر نہ ہو۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان آئے روز ریاست مدینہ کا راگ الاپتے ہیں اور لوگوں کو کہتے ہیں کہ میرا نقطہ نظر فلاحی ریاست ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں امن و امان کی صورتِ حال کو بھی بہتر کرنا ہو گا اور پولیس کے نظام کو درست کرنے کے لئے سیاسی مداخلت کم کرنا ہو گی۔ کیوں کہ اس واقعہ میں پولیس کی نا اہلی اور غفلت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ایک عورت جو اپنے بچوں کے ساتھ محو سفر ہے وہ مشکل میں سب سے پہلے پولیس کو ہی کال ملاتی ہے، لیکن ایک گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس جائے وقوعہ پر اس کی مدد کو نہیں پہنچتی تو اس میں اس عورت کا کیا قصور ہے۔سی سی پی او لاہور کو بھی زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مجرموں کی سرکوبی کرنی چاہئے اور پولیس کا قبلہ درست کرنا چاہئے۔آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات اور بچوں کے ساتھ بد فعلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مجرموں کو قانون کا کوئی خوف نہیں ہے جب تک قانون کی علمداری سخت نہیں کی جائے گی تب تک اس طرح کے واقعات کی روک تھام یا سد ِ باب ہونا نا ممکن دکھائی دیتا ہے، 

مزید :

رائے -کالم -