نظام انصاف یا مجرموں کی نرسری

نظام انصاف یا مجرموں کی نرسری
نظام انصاف یا مجرموں کی نرسری

  

موٹروے پر درندگی کا مظاہرہ کرنے والے مرکزی ملزم عابد علی کے بارے میں اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں،وہ اس حوالے سے شرمناک ہیں کہ اُس پر آٹھ سے زیادہ مقدمات تھے،مگر اُسے سزا ایک مقدمے میں بھی نہیں ہوئی، حتیٰ کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں بھی وہ ضمانت پر باہر آ جاتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب قانون اِس قدر لچکدار اور بے توقیر ہو تو کسی مجرم کے حوصلے کیسے پست ہو سکتے ہیں،وہ تو ایک کے بعد دوسرے گھناؤنے قتل کے بارے میں بے خوف و خطر سوچے گا اور عمل کرے گا۔ دُنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں ایسے عادی مجرموں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔اُن پر نظر رکھی جاتی ہے،اُن کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ وہ کوئی دوسری واردات نہ کر گزریں،ہمارے ہاں مجرم ایک بار جیل سے باہر آ جائے اُس کی کسی سرگرمی کا پولیس کے پاس کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی اُس کی نگرانی کی جاتی ہے۔اب اسی مجرم عابد علی کو دیکھیں،اُس کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اُسے لوگوں نے اپنے علاقے سے نکال دیا۔وہ شیخوپورہ کے ایک نواحی علاقے میں رہنے لگا، کوئی ایسا نظام نہیں تھا، جو اُس پر نظر رکھ سکتا۔موٹروے کی واردات تو سامنے آ گئی ہے، نجانے اُس نے اور کتنی وارداتیں کی ہوں گی جو رپورٹ ہی نہیں ہو سکیں، جہاں سنگین سے سنگین جرم کرنے والے مجرم کو بھی یہ یقین ہو کہ وہ قانون سے بچ جائے گا،عدالت اُسے ضمانت پر جیل سے باہر آنے کا پروانہ جاری کر دے گی، وہاں خوف کی بجائے حوصلہ افزائی ہو گی اور مسلسل ہو رہی ہے۔

پنجاب پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے میں کئی ہزار ملزم اشتہاری ہیں، جنہوں نے عدالتوں سے ضمانتیں کرائیں اور پھر پیشی پر آئے اور نہ پولیس کو رپورٹ کی، یہ کیسے ہوتا ہے،کیوں ہوتا ہے،اس کے بارے میں کھوج لگانا کچھ مشکل نہیں، کچہریوں میں پیشہ ور ضامنوں کی ایک فوج ظفر موج موجود ہوتی ہے، جو ”فیس“ لے کر ضمانت کے لئے مچلکہ داخل کر دیتی ہے۔ جب ملزم جیل سے رہا ہو کر باہر آ جاتا ہے تو ملی بھگت سے ضمانتی مچلکے اور اُن کے ساتھی لگی زمین کی رجسٹری غائب کر دی جاتی ہے، گویا ملزم تو رہائی کے بعد روپوش ہوتا ہی ہے، ضامن بھی گم ہو جاتا ہے، اتنی آسانی کے ساتھ قانون کو چکمہ دینے کی سہولت موجود ہو تو کون سا مجرم وارداتوں سے باز آئے گا۔ اگر پہلی واردات پر ہی کسی قانون شکن کو فوری سماعت کے بعد سزا سنا دی جائے تو کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ دوبارہ جرم کی طرف دیکھے ہی سہی۔ موٹروے پر درندگی کا مظاہرہ کرنے والے ملزموں کی عمریں کچھ زیادہ نہیں ہیں، جبکہ وہ2012ء سے جرائم میں ملوث چلے آ رہے ہیں،اس کا مطلب ہے بہت کم عمری میں انہوں نے جرائم کی دُنیا میں قدم رکھا،

اُس کے بعد جب کچھ نہ ہوا تو اُن کا سارا خوف ختم ہو گیا۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا چلن بنا لیا۔ ظاہر ہے جب انسان کو سزا کا خوف نہ ہو تو وہ سب سے بڑا درندہ بن جاتا ہے اور ایسے درندے ہماری پولیس، پراسیکیوشن کا نظام،عدالتیں روزانہ پیدا کر رہی ہیں۔آج ہم سب اس بات کے متمنی ہیں کہ موٹروے پر درندگی کا مظاہرہ کرنے والے دونوں وحشی درندے پکڑے جائیں،شاید یہ سوچ کر کہ ان کے پکڑے جانے سے درندگی کے واقعات میں کمی آ جائے گی،حالانکہ یہ ہماری خام خیالی ہے۔ یہ دو اُن ہزاروں میں سے چاول کے دو دانے ہیں جن کی نشاندہی ہو گئی ہے۔ باقی سارے  تو کہیں نہ کہیں قانون کا منہ چڑا رہے ہیں،اب یہی دیکھیں کہ موٹروے پر انسانیت سوز واقعہ کے بعد کم از کم تین مزید  ایسے واقعات  پیش آ چکے ہیں،جن میں وحشی درندوں نے خواتین کو بے آبرو کیا،اُن کے ساتھ زیادتی کی۔ گویا یہ سلسلہ نان سٹاپ چل رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں، آخر ایسا کیوں ہے اور ہمارے شہروں نیز دیہاتوں میں یہ بے خوف مجرم کس طرح دندناتے پھر رہے ہیں۔

افسوس کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی سارا زور اسی پر دیا جا رہا ہے کہ درندوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے،گرفتار تو وہ ہو جائیں گے۔سوال یہ ہے کہ کیا عبرت کا نشان بھی بنیں گے، کیا ایسی کوئی حکمت ِ عملی وضع کی گئی ہے کہ ملزم جب قانون کی گرفت میں آئیں تو اگلے چند روز میں مقدمہ  کے مراحل سے گزر کر کیفر کردار تک پہنچ جائیں۔ایسی  تو کوئی سرگرمی نظر نہیں  آ رہی۔وہی پولیس، وہی اُس کا پراسیکیوشن نظام، وہی عدالتیں اور وہی اُن کے گنجلک ضابطے، وہی قانونی کمزوریاں اور وہی وکیلوں کے ہتھکنڈے اس نظام میں انصاف لینا تو بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔یہاں تو سنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے بیان ریکارڈ کرانے سے بھی انکار کر دیا ہے یہ تو سیدھا سادہ ملزموں کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے، کیونکہ عدالت میں شواہد نہ ہوں تو سامنے کے مجرم بھی سزا سے بچ جاتے ہیں،شاید اسی لئے قانون کو اندھا کہا جاتا ہے،قانون نے اپنا اندھا پن ابھی حال ہی میں اُس وقت ظاہر کیا ہے جب کوئٹہ میں کانسٹیبل کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے کچلنے والے سابق ایم پی اے مجید اچکزئی کو عدم ثبوت کی بنیاد پر عدالت نے بری کر دیا۔ اب ہر طرف سے فیصلہ دینے والے جج پر تنقید کی جا رہی ہے،حالانکہ جج نے تو فائل میں موجود شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دینا ہوتا ہے،وہ خود تو کسی واردات کے وقت موقع پر موجود نہیں ہوتا۔ موٹروے پر گھناؤنی واردات کرنے والا عابد علی بھی آٹھ مقدمات میں اسی لئے سزا سے بچا رہا کہ جنہوں نے اس کے خلاف ثبوت پیش کرنے تھے، وہ مقدمہ درج کرنے کے بعد اُسے آگے بڑھانا بھول گئے۔

ہم پویس کے جس نظام،عدالتی سسٹم اور جیلوں کے ماحول سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ مجرموں کی حوصلہ شکنی کرے گا،انہیں سزاؤں سے راہِ راست پر لائے گا، بدقسمتی سے وہ تو جرائم کی نرسری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔میری کالونی میں ایک گارڈ نے نوجوان مالی کو معمولی توتکار کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا۔ سب نے یہ واقعہ دیکھا،اُس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود تھی، مگر عدالت نے عدم ثبوت کا لیبل لگا کر گارڈ کو بری کر دیا،اب اُس گارڈ کے لئے کوئی دوسرا بندہ مارنا کون سا مشکل کام رہ گیا ہے۔اُسے معلوم ہے قتل کے بعد کس طرح وکیل بچا لیتے ہیں، سو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ملزموں کو عدالتوں سے اِس لئے بھی ضمانت مل جاتی ہے کہ پراسیکیوشن چالان پیش کرنے میں کئی ماہ لگا دیتی ہے، جس کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے اور عدالتیں اس بنیاد پر ضمانت لے لیتی ہیں اُس کے بعد وہ باہر آ کر مقدمے کے مدعیوں  کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے تاوقتیکہ وہ صلح نہ کر لیں۔ ایک طرف عدالتوں کے گنجلک طریقہئ کار میں تبدیلی اور دوسری طرف ضابطہ ئ  فوجداری میں موجود وہ موشگافیاں جن سے فائدہ اٹھا کر ملزم رہا ہو جاتے ہیں،دور کرنے کی ضرورت ہے،لیکن چند روز گزریں گے تو یہ واقعہ بھی قصہ ئ پارینہ بن جائے گا اور ہم سب کسی نئے سانحے کے انتظار میں لمبی تان کر سو جائیں گے۔شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان مجرموں کی جنت ہے، جنہیں پکڑنے سے زیادہ بچانے والے خاصے طاقتور اور متحرک دکھائی دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -