ہمارے جنگل کے درندے

ہمارے جنگل کے درندے
ہمارے جنگل کے درندے

  

پنجاب پولیس نے ’شاندار‘ کارنامہ سر انجام دیا، 72 گھنٹوں کے اندر اندر ڈی این اے کی مدد سے نہ صرف ملزمان کی شناخت کر لی بلکہ ان کی گرفتاری کے لئے چھاپہ بھی مارلیا،یہ اور بات کہ پولیس اس ’شان و شوکت سے گئی کہ دیکھتے ہی ملزم اپنی بیوی سمیت بھاگ گیا،وہ چکمہ دے گیا اور پولیس بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ملزم ’روک سکو، توروک لو‘ کی عملی تفسیر بن کر کھیتوں میں غائب ہوگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بیوی لے گیا، بیٹی چھوڑ گیا جس کو پولیس نے حراست میں لے لیا، کس قانون کے تحت یہ معلوم نہیں۔ملزمان (تا دم تحریر) آزاد ہی ہیں، ہاں البتہ وہ خاتون ضرور ’قید‘ ہو گئی ہیں۔خیر یہ کونسی کوئی نئی بات ہے، اسی طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔معلومات کے مطابق یہ ملزم عابد علی کی کوئی پہلی واردات تو تھی نہیں، وہ اس سے پہلے بھی چوری ڈکیتی میں ملوث رہا اور 2013 میں ماں بیٹی کے ساتھ زیادتی کامرتکب بھی ہوا، یعنی یہ تو عادی مجرم ہوا، پھر بھی کھلے عام پھر رہا ہے، دندنا رہا ہے۔اگر اس کواس کے کرموں کی سزا بروقت مل جاتی،تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، اس کے حوصلے اتنے بلند ہی نہ ہوتے۔لیکن ہمارا نظام تو ایسے گیدڑوں کو شیر بنانے میں ماہر ہے،بلکہ اب تو یہ احساس ہوتا ہے کہ تحفظ تو ایسے ہی درندوں کیلئے ہے، مظلوموں کے لئے تودنیا ہی میں دوزخ کا اہتمام ہے۔

میں نے اٹھارہ سال کی عمر میں گاڑی چلانا شروع کر دی تھی،ہر طرح کی آزادی حاصل تھی، لیکن اکیلے گاڑی لے کر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔جب بھی کہیں جانا ہوتا تو اور کوئی نہ ہوتا تو گھر کا چوکیدار گاڑی میں ساتھ جاتا۔ حتیٰ کہ شادی کے بعد بھی کبھی اگرابو کے گھر اکیلی چلی جاتی تو واپسی پر ان کا ڈرائیور اپنی گاڑی پر میرے پیچھے پیچھے آتا۔ کبھی ایسا نہ ہوتا تو میرے میاں صاحب کی ہدایت ہوتی کہ امی کے گھر سے نکل کر فون ملا لو اور سپیکر آن رکھو، چاہے بات کر و نہ کرو۔ ہمیشہ یہ سب مجھے اپنی ’آزادی‘ کے آڑے آتا لگتا، غصہ آتا، بہت چڑبھی چڑھتی کہ یہ کیا بات ہوئی؟میں کوئی بچی ہوں؟ کیامیرے والدین کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟ کیا میرے میاں کو لگتا ہے میں کہیں اور نکل جاؤں گی؟میرے والد صاحب کا ہمیشہ یہی جواب ہوتا، تم پر تو اعتبار ہے لیکن معاشرے پر اعتبار نہیں ہے۔یہ بات کبھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی، لیکن آج وہ بات بار بار میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔آج کے بعد تومجھے اس بات پر یقین ہو گیا ہے کہ واقعی اس معاشرے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔یہاں جگہ جگہ درندے بستے ہیں، وحشیوں کی اجارہ داری ہے،بے حسی کا غلبہ ہے، جس کا کوئی والی وارث نہیں اس کوتو ’مال غنیمت‘ سمجھتا جاتا ہے۔کوئی جگہ محفوظ نہیں، گھر کی چار دیواری بھی تحفظ کی ضامن نہیں، بلکہ بعض اوقات تووہاں پائے جانے والے’محافظ‘  سے ہی ڈر لگتا ہے۔

افسوسناک بات تو یہ ہے کہ یہاں جنگل کا قانون رائج ہے، بلکہ شائد جنگل کا قانون بھی بہتر ہی ہو گا، کم از کم کسی کی تو عزت کی جاتی ہو گی، کوئی تو سزا کا نظام ہو گا، کسی کا ڈرتو ہو گا، پکڑے جانے کاخوف ہو گا، کہیں تو کوئی حد مقرر ہو گی، لیکن ہمارے ہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تو سرے سے کوئی نظام ہی نظر ہی آتا، بے گناہوں پر تابڑ توڑ حملے کئے جاتے ہیں، ان ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، گناہ گار تو دندناتے پھرتے ہیں، چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ بگاڑ لو اگر ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو؟ ہے کسی میں دم تو پکڑ کر دکھائے۔

ہم توعجیب ہی لوگ ہیں،  ہمارے سی سی پی او صاحب، جن کی وجہ سے چند روز قبل آئی جی پنجاب کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے، فرماتے ہیں کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ اتنی رات کو وہ عورت گھر سے کیوں نکلی؟اب سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ ان کی عقل پر ماتم کیا جائے یا ان کی معصومیت پر تبرہ۔ہمارے معاشرے اور اس کے طور طریقوں سے واقف  ہر باشعور انسان یہ اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے کہ عمومی طور پر اگر کوئی بھی عورت گھر سے نکلتی ہے تو مجبورہی ہوتی ہے، اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔ نئے آنے والی آئی جی پنجاب نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی سی پی او صاحب کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور سات دن میں ان سے جواب بھی طلب کیا ہے،اب شدت سے جواب کا انتظار ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ اپنے بیان کی صفائی کس طرح دیتے ہیں، آیا اس کی کوئی صفائی بنتی بھی ہے؟ 

ہمارے ملک میں تو آئے روز ایسے واقعات ہوتے ہیں، ہر واقعہ قیامت ڈھاتا ہے اور لگتا ہے اس سے برا تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا لیکن اگلاواقعہ، پچھلے کی شدت کو مات دے دیتا ہے، ہر دفعہ رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، کلیجہ منہ کو آتا ہے،دل چاہتا ہے دوبارہ یہ دن کبھی نہ دیکھنا پڑے لیکن اس سے بھی بڑا ظلم برپا ہو جاتاہے۔ ریاست کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی،ہر دفعہ اظہار افسوس ہوتا ہے، احتجاج ہوتا ہے، ساتھ کھڑے ہونے کے وعدے کئے جاتے ہیں،مجرموں کو سزا دینے کا عہد ہوتا ہے،عورت کے تحفظ کا کارڈ استعمال ہوتا ہے لیکن پھر دن گزر جاتے ہیں، جذبات ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور فائلیں بند ہو جاتی ہیں، بس’رات گئی بات گئی۔ ہمارے ہاں تو عالم یہ ہے کہ زینب الرٹ بل پاس کرنے کے لئے ہماری پارلیمنٹ کوڈھائی سال ’مشقت‘ کرنا پڑی تب کہیں جا کریہ بل پاس ہوا، وہ بھی صرف اسلام آباد کی حدود پر ہی لاگو ہے،ویسے بھی بل پاس ہونے سے زیادہ اس کا حقیقی معنوں میں رائج ہونا معنی رکھتا ہے۔

ہمارے ہاں ہر دفعہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایسے درندوں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے،عبرت کا نشان بنا دیا جائے، بلکہ اسمبلی میں یہ قرارداد بھی  پیش کی گئی جس کی وزیر برائے انسانی حقوق نے برملا مخالفت کی۔بے شک ایسے درندوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہئے لیکن کیسے؟؟؟ زینب کے مجرم کو پھانسی ہوئی تھی کیاکسی وحشی نے اس سے سبق سیکھا، کیا ایسے گھناوئنے حادثات کم ہو گئے،نہیں،ہرگز نہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو سزائے موت کی سزاسنا دینے سے بھی خاطر خواہ فرق نہیں پڑاتھا۔ایسے واقعات انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جہاں مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہو، جو کہ اس بے درداور غیرت سے عاری مخلوق کے حوصلے  پست کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ان کو تو یہ یقین ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،اصل ضرورت اس یقین کو توڑنے کی ہے۔ نظام کو مضبوط بنانے کی ہے، بروقت اور فوری انصاف فراہم کرنے کی ہے،قانون میں سزا موجود ہے، دینے کی روایت بھی ڈالنا پڑے گی۔واقعے کی مذمت کر دینا کافی نہیں ہے،محض باتیں نہیں عملی اقدامات نظر آنے چاہئے،فون پر رابطے کر لینے اور رپورٹ لے لینے سے مسائل حل نہیں ہوجاتے۔

موٹر وے پر رونما ہونے والے اس حادثے کے بعد بہت سے سوالات  جنم لے رہے ہیں،بلکہ ہر حادثے کے بعد ہی یہ سوالات اٹھتے ہیں،اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے جواب تلاش کرہی لے جائیں،اور ان کو معمہ نہ بنایا جائے۔اب بھی وقت ہے،ہمارے معاشرے کے ان وحشیوں کو اسی جگہ گاڑ دیا جائے جہاں انہوں نے اپنی انسانیت کودفن کر دیا ہے۔ ورنہ روزایسے ہی قیامت ڈھائی جائے گی،ایسے ہی درندوں کا راج ہو گا، ایسے ہی ہر طرف اضطراب ہو گا، ایسے ہی یہ معاشرہ ہمیشہ ناقابل اعتبار  رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -