محفوظ شاہراہ پر غیر محفوظ سفر!

محفوظ شاہراہ پر غیر محفوظ سفر!

  

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رات گئے رنگ روڑ جیسی محفوظ سمجھی جانے والی شاہراہ پر 9ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے سے نیچے سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے بداخلاقی کا نشانہ بنایا۔ایف آئی آر کیمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دارگوجرانوالہ کے رہائشی سردار شہزاد کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد، جن کی عمریں 30 سے 35 سال تھیں اور جن کے پاس ایک ڈنڈا بھی تھاموٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئے اور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے باری باری بداخلاقی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے ہسپتال لے جایا گیا۔پولیس کے مطابق بداخلاقی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے بداخلاقی ثابت ہوئی ہے۔بداخلاقی کے مرتکب دونوں ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے۔ دونوں ملزمان کے نام عابد علی ملہی اور وقار الحسن شاہ کے نام سے شناخت ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عابد علی ملہی جس کا پہلے ہی کریمنل ریکارڈ موجود ہے۔ ملزم کا ڈی این اے 2013 کے ڈیٹا بیس سے میچ ہوا، خاتون کے لباس سے ڈی این اے میچ ہوا۔ ملزم عابد علی ملہی ضلع بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، متاثرہ خاتون کے نمونے کریمنل ڈیٹا بیس سے میچ ہوئے، کریمنل ڈیٹا بیس میں ملزم عابد علی ملہی 2013 سے موجود ہے۔ دوسرے ملزم کی بھی شناخت کر لی گئی ہے، ملزم کا نام وقار الحسن شاہ ہے، دونوں ملزمان عابد علی ملہی اور وقار الحسن شاہ مختلف اضلاع میں ڈکیتی کے دوران بداخلاقی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ دونوں ملزمان کوتاحال گرفتار نہیں کیا جاسکاان کی گرفتاری کیلئے سی ٹی ڈی کی جانب سے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ آئی جی پولیس انعام غنی کا کہنا ہے کہ نادرا سمیت دیگر اہم اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکو ملزمان اور تفتیش سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ پولیس والوں نے عابد علی ملہی کے بارے میں بہت محنت کی۔ اس کے دیگر رشتہ داروں کے بارے میں پتہ چلایا۔ عوام غیر ضروری اطلاعات سے گریز کریں، ملزم کے نام چار سمیں ہیں جبکہ اس کے علاوہ ایک اور نمبر عابد علی ملہی کے استعمال میں ہے لیکن یہ نمبر اس کے نام نہیں ہے۔ اس سم کو ٹریس کیا اور باقی لوگوں کے بارے میں پتہ چلا۔ جس کے بعد پولیس والوں نے ملزم کے آبائی ضلع بہاولنگر میں چھاپہ مارا۔ جہاں سے معلوم ہوا کہ ملزم عابد علی ملہی قلعہ ستار شاہ تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ میں رہائش پذیر ہے، بدقسمتی سے زیادہ خبریں پھیلنے کی وجہ سے وہ الرٹ ہو گئے، ملزم عابدکا گھرکھیتوں میں ایک ڈیرے پرہے، پولیس والوں نے سویلین کپڑوں میں ملزم کے گھر کی نگرانی کی، تاہم اس دوان ملزم عابد علی اور اس کی بیوی گھر سے فرار ہو گئے جبکہ عابد علی ملہی کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے دوسرا ملزم وقار الحسن بھی علی ٹاؤن، قلعہ ستار شاہ شیخوپورہ کا رہائشی ہے، اس کے گھر بھی چھاپہ مارا مگر وہ بھی فرار ہو چکا تھا۔انعام غنی نے کہا کہ ایک روز قبل کنفرم ہوا کہ عابد علی واقعے میں ملوث ہے، عابد علی کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کرگئے، راتوں رات ہم نے ملزم کی تمام تفصیلات حاصل کیں۔ الیکشن کمیشن، نادرا سے ڈیٹا لیا، سائنٹیفک تحقیقات میں وقت لگتاہے، عابد علی نامی لڑکے کا سارا ریکارڈ حاصل کیا ہے۔لاہور اور شیخوپورہ سمیت پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی والے ملزمان کے پیچھے ہیں، انٹیلی جنس کو بھی استعمال کر رہے ہیں، ملزمان قانون کی گرفت میں جلد ہوں گے۔ تاہم ابھی تک گرفتارنہیں ہوئے۔سانحہ موٹر وے میں ملوث ملزمان کی یہ پہلی واردات نہیں ہے، ان کی وارداتوں سے متعدد دیہات کے رہائشی بھی پریشان ہیں، ڈاکوؤں نے کھائی سے اوپر موٹر وے تک آنے کے لیے باضابطہ راستہ بنا رکھا ہے۔ ڈاکو چند سیکنڈز میں جنگل سے موٹر وے پر پہنچ جاتے ہیں۔واردات کی جگہ کا روزنامہ پاکستان کی ٹیم نے بھی دورہ کیا تھا، جہاں سے تفتیشی ٹیموں کو بچے کا جوتا ملا تھا،روزنامہ پاکستان کی ٹیم ملز م عابد کے گھر پہنچی، اس کے چچا نے بتایا کہ ملزم پر پہلے بھی چوری کا مقدمہ بنا تھا، محلے داروں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بدتمیز ہیں، کوئی انہیں منہ نہیں لگاتا۔ مرکزی ملزم عابد شیخوپورہ کے نواحی علاقے ڈیرہ ملیاں کا رہائشی ہے، اس علاقے کا نیا نام غازی کوٹ ہے۔ ہر کوئی پکار رہا ہے کہ سانحہ موٹر وے پر دل خون کے آنسو رو دیا۔اور دل تو مغموم ہر اس وقت ہوجاتا ہے جب آئے دن یہ بچوں سے بد اخلاقی کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔کہ جہاں کوئی بچہ،بچی تو عورت محفوظ نہیں اور ان واقعات کی تعداد میں نہایت ہی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے، کہ لگتا ہے کسی انسان کی عزت محفوظ نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بد اخلاقی کیس کے ملزمان تک پہنچنے کی خبر دی ہے۔ پنجاب حکومت اور مسلسل تنقید کی زد میں آئی، پولیس کی یہ بڑی کامیابی ہے۔ اس سے شہریوں میں پایا جانے والا خوف کم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہوگا۔گجرپورہ لنک روڈ پر بد اخلاقی کا واقعہ پورے سماج کی توجہ ایک بڑے بگاڑ کی طرف مبذول کرانے کا ذریعہ بنا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے لے کر سیاستدان اور عام آدمی کا خیال ہے کہ پولیس میں حد سے زیادہ سیاسی مداخلت نے اس ادارے کو اپنے بنیادی فرائض سے دور کر دیا ہے۔ کچھ حلقوں کی رائے میں پولیس کا موجودہ ڈھانچہ اس قابل نہیں کہ وہ شہریوں کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کر سکے۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل جن بڑی اصلاحات کا وعدہ کیا تھا ان میں سے ایک پولیس اصلاحات تھیں۔ کے پی کے میں پولیس کا رویہ اور کارکردگی مکمل نہیں تو کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔پنجاب میں حکومت سازی کا موقع ملنے پر وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب،یں بھی پولیس کو بہتر کرنے کا عندیہ دیا۔ انعام غنی پانچویں آئی جی ہیں جنہیں اس امید پر ذمہ داری عطا کی گئی ہے کہ وہ پولیس کی کارکردگی بہتر بنائیں گے اور اس فورس کو عوام دوست طاقت کی شکل میں ڈھالیں گے۔ پولیس ایک ایسی منظم سول فورس ہے جس کا بنیادی کام جرائم کا انسداد اور معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مجرم کو منطقی سزا تک پہنچانے کا نظام مضبوط کیا جائے۔ مجرمانہ رویوں کے حق میں مہم چلانے والے گروہوں اور افراد کی تہذیب کی جائے۔ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔ واقعے میں ملوث افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لانے اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم دیا جائے۔ شہریوں کو تحفظ اور انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ خواتین کی عصمت دری کے واقعات کو خصوصی عدالت میں زیر سماعت لا کر اس بگاڑ کی اصلاح کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، اس واقعہ پر پوری انسانیت شرمندہ ہے یہ دراصل معاشرے اور پوری ریاست کی بے حرمتی کا سانحہ ہے۔ انصاف ہونے تک پورا نظام حکومت معصوم بچوں اور بے گناہ ماں کے سامنے مجرم رہے گا۔ ہر انسان کو معلوم ہے کسی کی ماں بہن بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنانا ظلم ہے۔اب اس کے باوجود کوئی یہ جرم کرتا ہے تو وہ عبرت ناک سزا کا مستحق ہے۔ ایسی سزا کہ اس جیسے باقی موذیوں کو بھی عبرت حاصل ہو،۔ وہ لوگ جو معاشرے کا ناسور ہیں، ان کو ایسے ہی خوفناک انجام تک پہنچانا چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور سزا کا خوف بھی قائم ہو۔ سزا کا خوف صرف سرعام سزا کے نفاذ سے ہی ممکن ہے جو سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ کچھ نیا تو نہیں ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات رکے ہی کب ہیں۔ بچوں پر ظلم، خواتین یہ ظلم برسوں سے جاری ہے اور ہم ہیں کہ آج تک اس ظلم کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔ کبھی کبھی کسی واقعے پر شور مچاتے ہیں اور پھر چند دن بعد مکمل خاموشی طاری ہوتی ہے۔ سب اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد ہونے والے مظالم پر خاموش رہتے ہیں یا خوف سے راستہ بدل لیتے ہیں یا کبھی کبھی پورے ملک سے آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ان آوازوں کو دبانے کے لیے کچھ نمائشی فیصلے ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول پرآ جاتی ہے۔ یہ سب ہماری بے حسی، غیر ذمہ داری اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔آج کوئی محفوظ نہیں ہے۔ ہر جگہ ظلم نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ کہیں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ ہر وقت انجانا خوف لگا رہتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے بھی بچہ نظروں سے اوجھل ہو تو کیسے کیسے خیالات آتے ہیں یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ معصوم بچے ہر وقت خطرے میں رہتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کے لیے باہر جانے والی خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ہمارا احساس تو کہیں بہت پہلے ہی مر چکا ہے۔ اس بے حسی کا ذمہ دار کوئی ایک شخص ہرگز نہیں ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ حکمران احساس کے قاتل ہیں جنہوں نے کبھی عوام میں احساس ذمہ داری پیدا ہی نہیں ہونے دیا بلکہ جو احساس رکھتا ہے اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پولیس کی نالائقی کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی روش بھی ختم ہونی چاہیے۔ ریاست اور متعلقہ اداروں نے سسٹم میں موجود پائی جانیوالی خرابیوں کا خاتمہ نہ کیا تو امن قائم رکھنا چیلنج بن جائے گا۔پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے دعوے کرنے والوں کو بھی اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ پولیس میں بہت قابل افسران موجود ہیں یہ صلاحیت میں کسی سے کم نہیں ہیں اصل مسئلہ سیاسی مداخلت کا ہے جب تک اس محکمے میں سیاسی مداخلت بند نہیں ہوتی تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوتیں اس وقت تک پولیس کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ پولیس کے جوان بھی باصلاحیت ہیں لیکن انہیں عوام کے حقیقی خدمت گار بنانے کے لیے پروٹوکول اور سفارشی کلچر کا خاتمہ کرنا پڑے گا۔ ایک زیادتی ان درندہ صفت ظالموں نے خاتون کے ساتھ کی ہے دوسری زیادتی حکومت نے پنجاب پولیس کے قابل افسران کے ساتھ کی ہے جو فیلڈ کا مایہ ناز تجربہ رکھنے والے ہیں انھیں تعینات کرنے کی بجائے دفاتر میں کلرک بنا کر رکھا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر، اظہر حمید کھوکھر ڈی آئی جی صاحبان غلام محمود ڈوگر، عمران محمود، شارق کمال صدیقی، وقاص نزیر، شوکت عباس جیسے افسران کوفیلڈ میں تعینات نہ کرنا دونوں جرائم ہی ناقابلِ معافی ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -