محکمہ ایکسائز شیخوپورہ میں سرعام کرپشن

محکمہ ایکسائز شیخوپورہ میں سرعام کرپشن

  

محکمہ اینٹی کرپشن نے پولیس اور سول جج کی موجودگی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں چھاپہ مار کر ایک شہری مبشر اللہ سے ٹیکس میں رعایت دینے کے عوض ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے ایکسائز انسپکٹر رانا اعجاز احمد کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے نشان زدہ نوٹ برآمد کرلئے اور ملزم کو تھانہ کی حوالات میں بند کرنے سمیت رشوت ستانی ایکٹ کے تحت گرفتارملزم کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا سرکل آفیسر عامر سندھو کے مطابق شہری مبشر اللہ نے شکایت کی کہ انسپکٹر رانا اعجاز احمد نے ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت کا تقاضا کیا ہے اور ساتھ دھمکی دی ہے کہ اگر رشوت نہ دی تو 25لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس ڈال دوں گا جس پر سول جج کے ہمراہ چھاپہ مار کر ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا جبکہ ملزم رانا اعجاز احمد نے انکشاف کیا کہ ای ٹی او ناظم اسد اپنے ماتحت اہلکاروں کو تنگ کرتا ہے کہ اسے ماہانہ 20 لاکھ روپے رشوت کی مد میں اکٹھے کرکے دو جس پر مجبوراً انہیں شہریوں سے انکے جائز کاموں کے عوض بھی رشوت لینا پڑتی ہے تاہم سرکل آفیسر نے مذکورہ کاروائی کو صوبائی حکومت کی ہدایت سے منسوب کرتے ہوئے رشوت خور ملازمین کے گرد قانون کا گھیرا تنگ کرنے کی بات کرکے اس بحث کو جنم دیدیا جس میں جہاں محکمہ اینٹی کرپشن کی مذکورہ کاروائی کو سراہا گیا وہاں ضلع کے دیگر سرکاری محکموں میں جاری کرپشن کے خلاف کاروائیوں کے فقدان کی بات بھی چل نکلی کیونکہ شہری حلقے محکمانہ کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج رہے ہیں، اصلاح وا حوال کی درخواستیں دی گئیں، کرپشن و رشوت ستانی اور اختیارات سے تجاوز کئے جانے کے خلاف کاروائی کی اپلیں کی گئیں اور سرکاری محکموں میں جاری کرپشن و رشوت ستانی کے خاتمہ کے بار بار مطالبات کئے گئے جن پر صوبائی حکومت نے کوئی مربوط لائحہ عمل مرتب کیا نہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے متاثرین کی داد رسی کیلئے سود مند کاروائیاں یقینی بنائیں جس سے شہری مایوسی کا شکار ہوتے چلے گئے اور ناامیدی کے باعث آج شہریوں کی ذہنی حالت یہ ہے کہ وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ضلعی محکموں میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے یامحکمہ اینٹی کرپشن سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افسرا ن و ملازمین کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرسکتے ہیں جن سے عوام نالاں اور شدید مالی استحصال کا شکار ہیں کیونکہ جب شہریوں کا اپنے جائز کاموں کیلئے بھی رشوت دینا پڑے تواصلاح و احوال کی اپیلیں اور کاروائی کے مطالبات فطری عمل ہیں، شہریوں کی مانیں تو کرپشن، رشوت ستانی اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے حوالے سے اداروں کا حال اس قدر ابتر ہے کہ تحفظ عامہ کے ضامن محکمہ پولیس کو ابھی تک بعض ایسی جونکیں چمٹی ہیں جو دیانتداری و فرض شناسی کے کلچر کے فروغ کی راہ میں نہ صرف رکاوٹ ہیں بلکہ رشوت ستانی و کرپشن کا داغ بھی محکمہ پولیس کے ماتھے سے مٹنے نہیں دے رہا بلاشبہ ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین نے اپنی تعیناتی کے دوران بعض پولیس افسران و ملازمین کو رشوت ستانی کے الزام میں سزا کا مستحق قرار دیا او ر انکے خلاف کاروائی کی بھی اعلیٰ افسران کو سفارش کی، بعض پولیس ملازمین کی تنزلی بھی کی مگر شہری مطمئن نہیں لہذاٰ ڈی پی او شیخوپورہ کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف مربوط کاروائیوں کے ساتھ ساتھ محکمہ میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی موثر لائحہ عمل مرتب کرکے کڑے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ پولیس کلچر کو دیکھ کر یہ امید باندھی نہیں جاسکتی کہ پولیس کی صفوں میں موجود کرپٹ افسران و ملازمین کا قبلہ درست ہو پائے گا البتہ ڈی پی او غازی صلاح الدین سے مکمل ناامیدی بھی مناسب نہیں کیونکہ وہ بعض ایسے اقدامات اٹھا چکے ہیں جن سے کرپٹ پولیس افسران و ملازمین کو سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے اسی طرح ٹریفک پولیس کی حالت بھی کسی سے مخفی نہیں جس کے بعض افسران رشوت ستانی میں ثانی نہیں رکھتے جن کے خلاف بھاگتے چور کی لنگوٹی ہاتھ لگنے کی مثال دی جاتی ہے کیونکہ ٹریفک پولیس کے بعض کرپٹ ملازمین تو دس روپے کے نوٹ کے بدلے بھی گاڑی کو تلاشی سے مستثنیٰ قرار دیکر ناکے سے گزار دیتے ہیں جبکہ آر ٹی سیکرٹری کے ماتحت کام کرنیوالے بعض ملازمین کے حوالے سے بھی عوام کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں جو امور ذمہ داری کی انجام دہی کی بجائے لاقانونیت کا ارتکاب کرنے والے افراد کو چند ٹکوں کے عوض کھلی چھوٹ دیئے ہوئے ہیں جگہ جگہ غیر قانونی اڈے قائم ہیں، گاڑیوں میں حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اکثریتی پبلک ٹرانسپورٹ میں ممنوعہ گیس سلنڈرزکا استعمال جاری ہے حالانکہ انسانی جانوں کے ضیاع کے دلخراش واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں جن کے خلاف کاروائیاں اس طمع نفسانی کی تکمیل کے باعث یقینی نہیں بنائی جارہی جوبعض کرپٹ ملازمین وطیرہ بنا کر انسانی جانیں رسک پر ڈالے ہوئے ہیں جبکہ انسانی جانوں کے تحفظ کابراہ راست ذمہ دار محکمہ صحت بھی کسی طرح پیچھے نہیں اس کلیدی ادارے کا دامن بھی بدعنوانیوں سے پاک نہیں،ادویات کی بڑے پیمانے پر خرد برد اور چوری کے کئی ایک واقعات سامنے آچکے ہیں محکمانہ ملازمین بھتہ خوری کے سبب عطائیت کو دوام دیئے ہوئے ہیں، شہریوں کے مطابق محکمہ صحت کے بعض افسران و ملازمین جائز کام بھی بغیر مٹھی گرم ہوئے انجام دینے کو تیار نہیں جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سمیت دیگر ٹی ایچ کیو ز اور چھوٹی بڑی سرکاری علاج گاہوں میں بھی کلیدی امور مثبت خطوط پر استوار نہیں جہاں جس کا داؤ لگے وہ جیبیں بھرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا، اسی طرح محکمہ تعلیم کی بات کریں تو نہ صرف صوبائی حکومت کے فروغ تعلیم کے ویژن کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں بلکہ فروغ تعلیم کی بجائے تعلیمی زبوں حالی لاحق ہے اور بدعنوانیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور اس حوالے سے شہریوں کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن کو متعدد ایسی درخواستیں دی گئی ہیں جن میں مختلف امور کے تحت رشوت ستانی اور اختیارات سے تجاوز کئے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے مگر شہری حلقے کاروائیوں کے فقدان کے باعث مایوسی کا شکار ہیں، صوبائی حکومت کی طرف سے طلباء و طالبات کیلئے مفت فراہم کردہ کتابوں کی خرد برد اور مارکیٹ میں فروخت سمیت عدم ڈیوٹی کے باوجود تنخواہوں کے اجراء تک کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں درجنوں تعلیمی ادارے ایسے ہیں کہ جہاں کلاسز کا اجراء تو درکنار مقامی با اثر افراد کے مویشی بندھے ہیں اور ان سکولز کا عملہ محکمانہ ملازمین کی ملی بھگت سے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہا ہے، پوسٹنگ اور ٹرانسفرز سمیت جعلی بھرتیوں کے متعدد الزامات محکمہ کے دامن گیرہیں، محکمہ لیسکو بھی کسی طرح پیچھے نہیں جس کے بعض مختلف افسران و ملازمین کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں درجنوں درخواستیں درج ہیں جن میں بجلی چوروں کی سرپرستی اور فیلڈ عملہ کی رشوت ستانی و بھتہ خوری بیان کی گئی ہے ان بعض محکموں کے سوا بھی کوئی ادارہ ایسا نہیں جس کے بعض کرپٹ افسران و ملازمین کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس شکایات موجود نہیں مگر ان شکایات کے اذالہ میں پائی جانیوالی تاخیر یا شہریوں کے مطابق انکی شکایات کو ردی کو ٹوکری کی نذر کرنے کی بات زباں زد عام ہے جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کا کام کرپشن کا سبب باب او ر کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین کا کڑا احتساب ہے تو کیونکر ایسا ممکن نہیں کہ فوری کاروائیاں تعطل کا شکار ہیں اور اکا دکا واقعات تک ہی کارکردگی محدود ہے کہ جن میں کاروائی کرکے ظاہر کیا جاتا ہے کہ محکمہ امور ذمہ داری مستعدی سے انجام دے رہا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن شہریوں کی شکایات پر بلاامتیاز و بلاتاخیر کاروائیاں عمل میں لائے تاکہ متاثرہ شہریوں کو انصاف مل سکے اور صوبائی حکومت کے ویژن اور ہدایات کے مطابق کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین کا کڑا محاسبہ ممکن ہوسکے۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -