موٹر وے بد اخلاقی کیس، تفتیشی ٹیموں، اداروں میں عدم تعاون کے باعث مرکزی ملزم گرفتار نہ ہو سکے 

      موٹر وے بد اخلاقی کیس، تفتیشی ٹیموں، اداروں میں عدم تعاون کے باعث مرکزی ...

  

 لاہور(رپورٹ، یونس باٹھ)موٹروے بداخلاقی کیس میں اداروں کے درمیان باہمی تعاون نہ ہونے سے مرکزی ملزمان کی تاحال گرفتاری ممکن نہیں ہوسکی۔لاہور سیالکوٹ موٹر و ے اجتماعی بداخلاقی کیس میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا باہمی تعاون نہ ہونے سے ملزمان کی عدم گرفتاری کا سب سے بڑا سبب بن گیا۔پولیس ذرائع سے جب اندرونی کہانی معلوم کی گئی تو ایک پولیس افسر نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ اس واقعے کے منظر عام پر آتے ہی انوسٹی گیشن پولیس لاہور، فرانزک ایجنسی، سی آئی اے، ایس پی یو، سی ٹی ڈی اور دیگر حساس اداروں نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کی قیادت میں مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی نگرانی میں کھوجیوں کی مدد لی گئی لیکن ملزموں کے قدموں کے نشانات جائے وقوعہ سے پیچھے ایک گاؤں جبیر سے ملحقہ پکی سڑک ہونے کی وجہ سے وہاں تک پہنچ کر ختم ہوگئے۔علاقے کے گرد و نواح میں واقع دیہات سے جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا حاصل کرکے ان سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا، جائے وقوعہ کے قریب پولیس نے کیمپ آفس بنا کر جیو فینسنگ بھی کی تھی، تفتیشی ٹیمیں درست سمت میں تفتیش پر گامزن تھیں کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب فرانزک سائنس ایجنسی نے ایک ملزم کا ڈی این اے ڈیٹا میچ ہونے کی اطلاع براہ راست وزیر اعلیٰ آفساور آئی جی پنجاب کو دی جنہوں نے ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دیا، اس تمام کارروائی سے دیگر تفتیشی یونٹس کو بے خبر رکھا گیا، ہفتہ کے روز دوپہر سی سی پی او لاہور کیس کی تفتیش کے حوالے سے ایک میٹنگ کررہے تھے جس میں انویسٹی گیشن کے افسران بھی موجود تھے اس میٹنگ میں ہی پولیس افسران کو اطلاع ملی کہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی نے قلعہ ستار شاہ میں چھاپہ مارا ہے اور ملزم فرار ہوگیا، لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی تفتیشی ٹیموں کو اس وقت دوسرے ملزم وقارالحسن کی شناخت کے بارے میں اطلاع دی گئی اور گرفتاری کا ٹاسک سونپا گیا۔ڈی ایس پی سی آئی اے ماڈل ٹاؤن حسین حیدر اپنی ٹیم کے ہمراہ قلعہ ستارشاہ چھاپہ مارا لیکن وقار وہاں نہیں ملا، با اثر مقامی افراد کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ وقار کو خود پیش کروا دیں گے جس پر ڈی ایس پی سی آئی اے اپنی ایک ٹیم وہاں چھوڑ کر واپس آگئے، ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جیو فینسنگ کے ذریعے پولیس کو تین سے چار مزید مشتبہ افراد کا سراغ ملا جس پر انہوں نے افسران بالا کو آگاہ کیا، افسران بالا کی جانب سے سی ٹی ڈی کو دوبارہ اس نئے ٹارگٹ کی گرفتاری کا ٹاسک دے دیا گیا اور انہوں نے لاہور میں لکھوڈیر کے علاقے میں چھاپہ مارا لیکن پھر ناکام لوٹے اور مشکوک افراد فرارہو گئیہیں۔دوسری جانب اس کیس پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور تفتیشی ٹیموں میں اب مایوسی کا عنصر پایا جانے لگا ہے۔ اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ہماری دن رات کی محنت کے بعد بار بار ٹاسک سی ٹی ڈی کو دینے سے ہماری جہاں محنت ضائع ہورہی ہے وہیں تاخیر سے اصل ملزمان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اندرونی کہانی

مزید :

صفحہ اول -