ہمارا بیٹا وقاربے قصور، والدین،عابد عادی مجرم ہے، محلے دار

ہمارا بیٹا وقاربے قصور، والدین،عابد عادی مجرم ہے، محلے دار

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)موٹر وے بد اخلاقی کیس میں خود کو پولیس کے حوالے کرنیوالے ملزم وقار الحسن کی والدہ کا بیان بھی سامنے آ گیا۔ وقار الحسن کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرا ایک بیٹا بیمار، دوسرا وقار کو جب واقعے کا پتا چلا تو اس نے کہا میں پیش ہو رہا ہوں۔ میرے بیٹے نمازی اور پرہیزگار ہیں ان کی زندگی بخش دی جائے، اگر کوئی عیب ہوتا تو وہ پیش ہی نہ ہوتا۔ قلعہ ستار شاہ میں موٹر سائیکل مرمت کی دکان ہے، 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل ہے میرے بیٹے کیساتھ انصاف کیا جائے۔جبکہ والد مشتاق کا کہنا تھا وقار محنت مزدوری کرکے گھر چلا رہا ہے، موٹر سائیکلوں کی دکان پر کام کرتا ہے۔وقار کے اہل محلہ کا بھی یہی مؤقف ہے وقار 20 سال سے علی ٹاون میں رہ رہا ہے اور محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتا ہے، وہ اس طرح کا شخص نہیں، غلط الزام لگایا گیا ہے۔ملزم وقار الحسن کے بھائی محمد شبیر نے بتا یاجس رات موٹر وے پر واقعہ پیش آیا تب وقار الحسن مجلس پڑھنے گیا ہوا تھا اور اس بات کا گواہ بھی موجود ہے۔د دن دو بجے کے قریب پولیس والے گھر آئے اور انہوں نے گھر میں موجود میر ے بھائی تنویر حسین اور بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا،جب ان سے پوچھا گیا ایسا کیوں کر رہے ہو تو پولیس اہلکاروں نے کچھ نہیں بتا یا۔ جس وقت پولیس اہلکاروں نے گھر پہنچ کر بھائی کو تشدد کا نشانہ بنا یا،اس وقت میں فیکٹری میں تھا جہاں مجھے فون آیا پولیس اہلکار گھر آئے ہیں اور تنویر حسین کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں،میں فوری طور پر گھر پہنچا لیکن پولیس نے مجھے گھر نہ جانے دیا۔پھر پولیس اہلکار میرے بھائی اور بھتیجے کو ساتھ لے گئے۔ جب وقار الحسن کو فون کر کے پوچھا گیا پولیس اہلکار اس کی تلاش میں گھرآئے تھے تو وقار الحسن نے بتا یا وہ مجلس پڑھنے آیا ہوا ہے اس کے بعد وقار الحسن نے فون بند کردیا۔دوسری جانب سیالکوٹ موٹروے اجتماعی زیادتی کیس کے دوسرے مرکزی ملزم عابد علی کے اہل علاقہ سے بات کی گئی تو وہ سب اس کے کرتوتوں پر پھٹ پڑے، مقامی افراد کا کہنا تھا عابد پہلے بھی چوری اور راہزنی جیسی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، لوگوں کی عزت اس سے محفو ظ نہ تھی، اگر حکومت پہلے اسے کڑی سزا دیتی تو لاہور جیسا واقعہ نہ ہوتا۔ مقامی زمیندار حنیف کا کہنا تھا عابد 10 سال رہ کر گیا، ہر کسی کو تنگ کرنا اس کا معمول تھا۔ 

وقاروالدی

مزید :

صفحہ اول -