موٹر وے واقعہ کو جس طرح ہینڈل کیا گیا حکمرانوں کو استعفا دے دینا چاہیے: احسن اقبال 

موٹر وے واقعہ کو جس طرح ہینڈل کیا گیا حکمرانوں کو استعفا دے دینا چاہیے: احسن ...

  

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے موٹر وے واقعہ پر غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے جس شرمناک طریقے سے خاتون سے بداخلاقی کے واقعہ کو ہینڈل کیا گیا اس پر حکمرانوں کو استعفیٰ دے دینا چاہیے،،نیب کی زیر حراست حمزہ شہباز کئی دن سے بخار میں مبتلا ہیں،ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن انہیں مطلوبہ طبی امداد نہیں دی جارہی ۔مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ موٹر وے پر خاتون سے بداخلاقی کا واقعہ قابل مذمت ہے،ہر پاکستانی کا دل اس سانحہ پر افسردہ ہے اور خون کے آنسو رروہا ہے،یہ کیس ہمارے نظام عدل اور نظام حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے،حکومت کا فرض ہے کہ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ بلا جنس یقینی بنائے،ہرمعاشرے میں جرائم ہوتے ہیں لیکن جرم پر سفاکی اور بے حسی کے ساتھ مظلوم پر ہی انگلیاں نہیں اٹھائی جاتیں،عمران خان کی حکومت نے ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے کہ مجرموں کی بجائے مظلوم خاتون پر انگلی اٹھائی گئی،ضرورت اس بات کی تھی کی اس مظلوم خاتون کے سر پر دست شفقت رکھا جاتا لیکن اس کا مذاق اڑایا گیا،پورا پاکستان سی سی پی او لاہور کے بیان کی مذمت کر رہا ہے، ان کے بیان سے مظلوم خاتون کی کتنی دل آزادی ہوئی ہو گی،کیا ان لوگوں نے سوچا ہے کہ اس خاتون کے دل پر کیا گزری ہو گی،کیا وزیراعظم کو توفیق ہوئی کہ اس کی مذمت کرتے،جس شرمناک طریقے سے خاتون زیادتی کے کیس کو ہینڈل کیا گیا حکمرانوں کو اس پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اناڑی اور، نااہل حکمران ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہے ہیں یہ معیشت پہلے ہی تباہ کر چکے اب ملک کو انتظامی انارکی کی جانب لے جا رہے ہیں پوری دنیا پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کی نااہلی کی گواہی دے رہی ہے،کسی ادارے میں نائب قاصد کو اتنی جلدی اور ایسے تبدیل نہیں کیا جاتا لیکن پنجاب میں اعلی انتظامی افسروں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے ایسے صوبے کا نظام کیسے چل سکتا ہے۔ ہر کسی کو معلوم ہے مسلم لیگ (ن) نے پنجاب فرانزک لیب جیسا ادارہ 2 سال میں مکمل کر کے پورے ملک کو جدید ترین ٹیکنالوجی والی سہولت فراہم گی،اگر اس لیب میں ڈی این اے بنک نہ ہوتا تو یہ اب بھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے،لیب نے مجرموں کی نشاندہی کر دی لیکن حکومت مجرموں کو گرفتار نہیں کر سکی یہ راز نہیں رکھ سکے اور مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، وزیراعظم اجلاس کی صدارت کرتے ہیں بتایا جائے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)سمیت اپوزیشن کیخلاف کون سا نیا مقدمہ بنایا جائے،وزیراعظم کی ہر صبح نواز شریف سے شروع اور شام اپوزیشن کیخلاف اجلاسوں پر ختم ہوتی ہے،وزیراعظم نے مہنگائی کنٹرول کرنے، کشمیر کو مودی سے آزاد کروانے، بیروزگاری ختم کروانے، سی پیک کو دوبارہ چلانے بارے کبھی اجلاس نہیں بلایا ،عمران خان اور ان کے کچھ وزیر قومی ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اس حکومت کو اپنی نالائقی اور ناکامی کو بوجھ خود اٹھانا چاہیے اور قومی اداروں کے پیچھے نہ چھپیں،یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کی نالائقیوں کے پیچھے قومی اداروں کا وزن ہے لیکن ایسا نہیں ہے،اس ملک کی قسمت کی چابی کسی نااہل کو دینے والے نے ملک سے زیادتی کی ہے۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -