بیماریوں سے محفوظ کرنے کیلئے بیج کو سرائیت پذیر زہر لگانا ضروری،ماہرین

 بیماریوں سے محفوظ کرنے کیلئے بیج کو سرائیت پذیر زہر لگانا ضروری،ماہرین

  

فیصل آباد  (اے پی پی) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ گزشتہ سال 21870ایکڑ رقبہ پر کینولا کی کاشت سے 10992ٹن پیداوار حاصل ہوئی جبکہ کاشتکار فوری کینولا کی کاشت کا آغاز کرکے 31 اکتوبرتک مذکورہ عمل مکمل کرلیں نیز زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت سے تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہوا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ کینولہ کا تیل صحت کیلئے مفیداور ایروسک ایسڈ اورگلوکوسائنو لیٹ جیسے مضر اجزاء سے پاک ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وسطی و جنوبی پنجاب میں کینولہ کی کاشت یکم اکتوبر سے شروع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کینولہ کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے صحت مند اور صاف ستھرا بیج ڈیڑھ سے دو کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ زمین میں وتر کم ہونے کی صورت میں بیج کی مقدار بڑھا دی جائے نیز فصل کو بیماریوں سے محفوظ کرنے کیلئے بیج کو سرائیت پذیر زہر لگانا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار کینولہ کی کاشت بذریعہ ڈرل 30 سے 45 سینٹی میٹرکے فاصلہ پر قطاروں میں کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بیج کی گہرائی کاشت کے وقت2 تا 4 سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہونیز کاشت تروتر میں کریں تاہم اگر کاشت کے وقت وتر کم ہو تو کاشت سے پہلے بیج کو نمدار مٹی میں ملا کر تقریباً 6 گھنٹے تک پڑا رہنے دیں اور پھر کاشت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ناگزیر حالات میں خشک زمین میں کاشت کر کے بعد میں پانی دیا جا سکتا ہے جبکہ بہتر پیداوار کے حصول کے لیے متوازن اور متناسب کھادوں کا استعمال بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کھادوں کے استعمال سے پہلے زمین کا تجزیہ کروا لیا جائے اور زمین کی زرخیزی کو مدنظر رکھ کر کھاد ڈالی جائے تو زیادہ فائدہ ہوتاہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کینولہ اقسام کیلئے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا،ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا ڈیڑھ بوری ٹی ایس پی، ڈیڑھ بوری یوریا،ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ فاسفورسی اور پوٹاش والی کھادوں کا استعمال بوائی پر کریں جبکہ آبپاش علاقوں میں نائٹروجنی کھاد کو دو حصوں میں ڈالیں۔ آدھی نائٹروجنی کھاد بوائی پر اور آدھی پھول آنے سے پہلے استعمال کریں۔

مزید :

کامرس -