بداخلاقی کیس: وزیر قانون حکومت سے فوری طور پر الگ ہوجائیں‘ سروے

      بداخلاقی کیس: وزیر قانون حکومت سے فوری طور پر الگ ہوجائیں‘ سروے

  

جام پور (نامہ نگار) موٹر وے گجر پورہ کے علاقے میں خاتون سے بد اخلاقی کرنے والے ملزمان کو سنگسار کیا جائے‘ ریاست مدینہ کے دعوادروں کو شرم سے فوری(بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

 طور پر استعفیٰ دینا چاہئے۔ چیف جسٹس کو سی سی پی او کے بیان پر سو موٹو ایکشن لینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف سیاسی وسماجی شخصیات نے گجر پورہ میں خاتون سے بد اخلاقی کے واقعہ پر سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ممبر صوبائی اسمبلی میڈیم شازیہ عابد نے کہا کہ جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پنجاب کی لااینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ یومیہ آٹھ بچے درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔وزیر قانون کو کم ازکم فوری طورپر حکومت سے الگ ہو جانا چاہئے اور آئے روز پولیس افسران کو بدلنے سے پنجاب بھر میں کوئی افسر کام کرنے کا تیار نہ ہے۔ ہر ماہ ہزاروں روپے ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن عوام کو کوئی سہولیات نہ دی جاتی ہے۔سابق ضلع وائس چیرمین وتحریک انصاف کے صوبائی رہنماء مرزا شہزاد ہمایوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو معاشرے سے کوئی تعلق نہ ہے۔ وزیر اعلی پنجاب خود اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون کی سربرائی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہونگے۔ تحریک انصاف کی ضلع صدر رقیہ بی بی گڈن نے کہا کہ بد اخلاقی کرنے والے ملزمان عوام کے سامنے سنگ سار کرنا چائے تاکہ دیگر لوگ عبرت پکڑیں۔ پولیس کی بدمعاشی کو ختم کیاجائے۔ کرپٹ پولیس افسران کی موجود گی میں کسی کوانصاف نہیں مل سکتا۔لوگ تھانے کے اندر بھی محفوظ نہ ہیں۔ چیرمین ہومین رائٹس ملتان ہائی کورٹ کے وکیل مرزا ادریس خان ایڈوکیٹ نے کہا حکومت پنجاب کا فالٹ ہے۔ اور سپیڈ اور تیزرفتاری پر چالان کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کا گشت نہ ہونے سوالیہ نشان ہے۔ سی سی پی عمر شیخ کاغیر ذمہ درانہ بیان ہے۔ چیف جسٹس سو موٹو ایکشن لیں ایسے واقعات کے لیے کم از کم سزائے موت ہو نی چائے یا ملزم کو انسانی صفحات سے محروم کیا جائے۔

سروے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -