حالات سنگین‘تمام دینی قوتوں کو متحد ہوناچاہیے‘ حامد الحق حقانی

حالات سنگین‘تمام دینی قوتوں کو متحد ہوناچاہیے‘ حامد الحق حقانی

  

ملتان (سٹی رپورٹر)جمعیت علماء اسلام (س) پاکستان کے مرکزی امیر مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ افغان طالبان اور امریکہ و افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے جس کے پورے خطے میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان اور افغانستان (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

امن میں قائم ہوگا، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ہوگی، دونوں ممالک ترقی بھی کریں گے۔ امریکہ مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرے۔ مولانا حامد الحق حقانی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، مرکزی سینئر نائب امیر مولانا بشیر احمد شاد، سید یوسف شاہ، مولانا عبدالخالق ہزاروی، قاری سعید احمد رحیمی، مفتی اسعد درخواستی، عبدالقیوم میرزئی، قاری عتیق الرحمن ارشد، مفتی ممتاز قاسمی، مولانا عبدالصمد، قاری خدابخش صدیقی ودیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا حامدالحق حقانی نے مزید کہا کہ افواج پاکستان، حکومت ودیگر ادارے اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شام، عراق، یمن، افغانستان میں امن ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیا جائے۔ مودی کے مظالم رکوانے کیلئے حکومت پاکستان مؤثر آواز اٹھائے اور دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام دینی قوتوں کو متحد ہو نا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے کوئی اتحاد نہیں ہو رہا، یہ سب پروپیگنڈا ہے، البتہ ہم ن لیگ، جمعیت علماء اسلام (ف)، پیپلزپارٹی سمیت جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ مولانا حامدالحق حقانی نے کہا کہ موٹروے پر عورت سے زیادتی المناک واقعہ ہے۔ حکومت ملزموں کو چوراہے پر سنگسار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے۔ ملتان مرکز ہے، یہاں سیکرٹریٹ قائم کیا جائے، سیکرٹریٹ کی تقسیم بھی مناسب ہے۔ حکومت کسی ایک شہر میں ہی مکمل سیکرٹریٹ بنائے۔ دریں اثنائجمعیت علماء اسلام (س)  مرکزی امیر مولانا حامد الحق حقانی کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں بین الاقوامی‘ ملکی سیاسی و دینی صورت حال پر طویل  غورو خوض کیا گیا۔ اجلاس میں جمعیت کی مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین اور چاروں صوبوں سے امراء و نظماء عمومی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی صورت حال بالخصوص جنسی درندگی کے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قتل و غارتگری‘ رہزنی‘ جنسی درندگی اور دیگر جرائم پر قابو پانے کیلئے فی الفور شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ نفاذ شریعت‘ جمعیت کی منزل ہے اور مولانا سمیع الحق شہید کا مشن جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔ اجلاس سے جمعیت علماء اسلام سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی‘ مولانا بشیر احمد شاد‘ مولانا فہیم الحسن تھانوی‘ مولانا یوسف شاہ‘ مولانا عبدالقدوس نقشبندی‘ مولانا عبدالخالق ہزاروی‘ قاری عتیق الرحمن ارشد‘ مولانا عبدالصمد درخواستی‘ قاری سعید احمد رحیمی نے خطاب کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے خلاف حالیہ دنوں میں ایک مکتبہ فکر کی طرف سے بد زبانی اور توہین کے واقعات پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اہل سنت کی طرف سے تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت کیلئے جاری جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا اور جمعیت کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ صحابہ کرام کی توہین کرنے والے عناصر کو دہشت گرد اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ تمام دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی قائدین تمام صوبوں کا دورہ کرکے جمعیت کو اس ملک کی بڑی سیاسی قوت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے قادیانیوں کو مظلوم قرار دینے والی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے حکومت اور بالخصوص وزارت خارجہ امور کا کا پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ برطانوی پارلیمنٹ کی متعلقہ قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے دو ٹوک اور واضح موقف کا اعلان کیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں ہر سطح پر تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت کے عنوان پر سیمینار اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ اس سلسلہ میں جمعیت نے تمام ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی کہ اہل سنت مکاتب فکر کو یکجا کرکے ریلیوں کا اہتمام کیا جائے اور مجلس تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت کے مطالبات کا اعادہ کیا جائے۔

حامد الحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -