کراچی، رواں سال زمین بو ہونے والی عمارتوں کی تعداد 5 ہو گئی

کراچی، رواں سال زمین بو ہونے والی عمارتوں کی تعداد 5 ہو گئی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں مخدوش عمارتیں اور غیر معیاری  تعمیرات انسانی زندگیوں کیلئے شدید خطرہ بن چکی ہیں،شہر قائد میں رواں سال زمین بوس ہونے والی عمارتوں کی تعداد 5 ہو گئی، جس کے نتیجے میں 55 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔کراچی کے علاقے ناظم آباد رضویہ سوسائٹی میں عمارت گرنے کا پہلا  واقعہ  روان سال مارچ میں رونما ہوا،عمارت کے ملبے تلے دب کر 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔40، 40گز کے پلاٹس پر بنی ایک عمارت پانچ منزلہ تھی، مالک چھٹی منزل بھی بنارہا تھا کہ پوری عمارت گر گئی جس کی زد میں دیگر دو عمارتیں بھی آئیں۔دوسری عمارت جون میں لیاری کے علاقے کھڈا مارکیٹ میں گری جس میں 22افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی طرح سندھی ہوٹل کے قریب 5 منزلہ عمارت گری تھی اور یہ واقعہ جولائی میں پیش آیا تھا۔عمارت گرنے کا چوتھا واقعہ کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں گزشتہ دنوں پیش آیا جس میں 4افراد جاں بحق جبکہ 8افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پانچویں عمارت گرنے کا واقعہ  اتوارکی صح پیش آیا۔ لیاری کے علاقے کوئلہ گودام میں دو منزلہ عمارت گر گئی اس حادثے میں 2افرادجاں بحق  جبکہ12 زخمی ہو گئے۔ایس بی سی اے کے اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں اس وقت مجموعی طور پر مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کی تعداد 422 ہے جس میں سب سے زیادہ مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں ہیں جن کی تعداد تین سو سے زائد ہے جو کسی بھی وقت حادثے سے دو چار ہو سکتی ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -