معروف عالم دین علامہ ضمیر اختر نقوی حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے 

معروف عالم دین علامہ ضمیر اختر نقوی حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے 

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) معروف شیعہ عالم و خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی 76 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے، علامہ ضمیر اختر نقوی کو طبیعت خراب ہونے پر 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شپ کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔شیعہ عالم دین کے انتقال پر گورنر و وزیر اعلی سندھ سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انکی خدمات کا اعتراف کیاہے۔قریبی رفقا کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔مرحوم علامہ ضمیر اختر نقوی کی میت انچولی امام بارگاہ منتقل کردی گئی۔علامہ ضمیر اختر نقوی24مارچ1944 کو بھارت کے شہر لکھن میں پیدا ہوئے اور 1967 میں نقل مکانی کر کے شہر کراچی شہر میں سکونت اختیار کی۔علامہ ضمیر اختر نقوی 40 سے زائدکتابوں کے مصنف ہیں۔ مرثیہ نگاری، شاعری، اردو ادب سمیت مختلف موضوعات ان کا خاصہ رہے۔علامہ ضمیر اختر نقوی نے شہزادہ قاسم ابن حسن پر 2 جلدوں پر مشتمل سوانح تحریر کی، ان کی تصنیف معراجِ خطابت 5 جلدوں پر مشتمل ہے۔علامہ ضمیر اختر نقوی کی تصانیف میں عظمتِ صحابہ، عظمتِ ابوطالب، امام اور امت، ظہورِ امام مہدی، احسان اور ایمان، قاتلانِ حسین کا انجام، محسنین اسلام، امہات المعصومین، دس دن اور دس راتیں، علم زندگی ہے، تذکرہ شعرائے لکھن، مرزا دبیر حالاتِ زندگی اور شاعری، اردو ادب پر واقعہ کربلا کے اثرات، اقبال کا فلسفہ عشق، شعرائے اردو کی ہندی شاعری اور شعرائے مصطفی آباد بھی شامل ہیں۔علامہ ضمیر اختر نقوی سوشل میڈیا پر بھی بہت مشہور تھے، وہ اپنی تقریریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے تھے۔علامہ ضمیر اختر نقوی کو 'لڈن جعفری' کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے علامہ ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ علامہ ضمیر نقوی کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا، ملک ایک ممتاز عالم دین سے محروم ہوگیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ وہ اتحادِ بین المسالک و مذاہب کے وکیل تھے۔ انہوں نے کہاکہ دینی علوم کے فروغ کیلئے اْن کی خدمات طویل عرصے تک یاد رہیں گی۔

ضمیر اختر نقوی

مزید :

صفحہ اول -