سی سی پی اوکے بیان پرپوری کابینہ کومعافی مانگنی چاہئے تھی،لاہورہائیکورٹ نے عمر شیخ کو ایک بجے طلب کرلیا

سی سی پی اوکے بیان پرپوری کابینہ کومعافی مانگنی چاہئے تھی،لاہورہائیکورٹ نے ...
سی سی پی اوکے بیان پرپوری کابینہ کومعافی مانگنی چاہئے تھی،لاہورہائیکورٹ نے عمر شیخ کو ایک بجے طلب کرلیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نے موٹروے کیس میں سی سی پی او لاہورعمر شیخ کو دوپہر ایک بجے طلب کرلیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سی سی پی اوکے بیان پرپوری کابینہ کومعافی مانگنی چاہئے تھی،پنجاب حکومت کے وزراسی سی پی اوکوبچانے میں لگ گئے۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں موٹروے کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سی سی پی اوکے بیان پرپوری کابینہ کومعافی مانگنی چاہیے تھی،کابینہ معافی مانگتی توقوم کی بچیوں کوحوصلہ ہوتا،پنجاب حکومت کے وزراسی سی پی اوکوبچانے میں لگ گئے، لگتاہے سی سی پی اولاہوروزراکاافسر ہے۔

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہاکہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا لیکن حکومت”کمیٹی کمیٹی کھیل رہی ہے،وزراءکے ایڈوائزر موقع پر جا کر تصاویر بنوا رہے ہیں ، چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ وزیر قانون کاکیا کام ہے تفتیش کرنا؟، کیا وزیر قانون کو تفتیش کا تجربہ ہے؟، وزیر قانون کس حیثیت سے کمیٹی کی سربراہی کررہے ہیں ؟ ۔

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ تفتیش اور سی سی پی او کے بیان پر پنجاب حکومت پر برس پڑے،کیسی تفتیش کی جارہی ہے،محکمے کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے ،عدالت نے موٹروے کیس میں سی سی پی او لاہورعمر شیخ کو دوپہر ایک بجے طلب کرلیااور موٹروے واقعہ کی تحقیقات کیلئے قائم کمیٹی کانوٹیفکیشن بھی طلب کرلیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -اہم خبریں -