موٹروے کیس ، ایک اور بڑی پیشرفت، عباس نے بھی گرفتاری پیش کر دی 

موٹروے کیس ، ایک اور بڑی پیشرفت، عباس نے بھی گرفتاری پیش کر دی 
موٹروے کیس ، ایک اور بڑی پیشرفت، عباس نے بھی گرفتاری پیش کر دی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور موٹروے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے مبینہ ملزم وقار الحسن کے برادر نسبتی عباس نے بھی اپنی گرفتاری پیش کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ملزم وقار الحسن کے برادر نسبتی عباس نے گرفتاری دیدی ہے ، تحقیقات کے دوران جیو فینسنگ میں عباس کا نام سامنے آیا تھا۔ اس سے قبل وقار الحسن نے سی آئی اے تھانہ ماڈل ٹاﺅن میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی جس دوران اس نے بھی عباس کا نام لیا تھا جس کے بعد پولیس نے اس کی بھی تلاش شروع کر دی تھی تاہم اب وہ خود سامنے آ گیاہے اور گرفتاری پیش کر دی ہے ۔عباس پر الزام ہے کہ وہ مرکزی ملزم عابد کے ساتھ رابطے میں تھا ۔عباس نے شیخو پورہ میں پولیس کو گرفتاری دی ہے ، عباس ملزم وقار کے نام پر جاری ہونے والی سم استعمال کر رہا تھا۔

نجی ٹی وی جی این این نیوز کے مطابق مبینہ ملزم عباس نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ سٹیل میں کام کرتا تھا ، اس کی تین جوان بیٹیاں ہیں وہ ایسا کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ، مرکزی ملزم عابد کے ساتھ کام کی حد تک رابطہ ہوتا تھا ۔

ملزم عباس کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہناتھا کہ عابد مجرم کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ، 12 دن پہلے رابطہ ہوا تھا ۔ عباس نے بتایا کہ عابد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کام پر رکھ لو ، عابد کام پر جانے کیلئے ہمارے ساتھ رابطہ رکھتا تھا ، 10 سے 12 دن پہلے اس کا فون آیا اور کہنے لگا کہ مل کب چلنی ہے ، باہر آ کر بات سن لو ، عابد دکان پر آیا تو کہنے لگا کہ موٹر سائیکل ٹھیک کروانی ہے ۔ملزم عابد میرا فون بھی استعمال کرتا رہتا تھا .

دوسری جانب نجی ٹی وی پبلک نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ پولیس نے عابد کے بھائی اور والد کو بھی حراست میں لے لیاہے جبکہ از خود گرفتاری پیش کرنے والے مبینہ ملزم وقار الحسن کے دو برادر نستی بھی گرفتار ہوئے ہیں جن کا ڈی این اے بھی کروایا جارہاہے ۔ پولیس ذرائع کا کہناتھا کہ وقار کی تصویر بھی متاثرہ خاتون کو دکھائی گئی ہے لیکن انہوں نے فی الحال پہنچاننے سے انکار کر دیا ہے تاہم حتمی فیصلہ ڈی این اے کے بعد ہی ہو گا ۔

  نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ ملزم وقار الحسن نے دوران تفتیش مزید انکشافات بھی کیے ہیں ، اس نے بتایا کہ ملزم عابد کچھ عرصہ سے شفقت نامی شخص کے ساتھ مل کر وارداتیں کر تا رہا ، شفقت بہاولنگر کا رہائشی اور عابد کا دوست ہے , شفقت کی گرفتار ی کیلئے ٹیمیں بہاولنگر اور شیخوپورہ روانہ کر دی گئی ہیں۔ پولیس کا کہناہے کہ ابتدائی تحقیقات میں وقار الحسن واقعہ میں ملوث نہیں پایا گیا لیکن ڈی این اے کی رپورٹ کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہو گا ۔نجی ٹی وی کا کہناتھا کہ مرکزی ملزم عابد کا بہنوئی اور رشتہ دار حراست میں ہیں ۔

مزید :

قومی -