”مجھے اپریل میں دو مرتبہ گھر سے اغواءکیا گیا اور پھر 12 گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا لیکن آج ۔۔۔“سینئر صحافی نے ٹویٹر پر بڑا دعویٰ کر دیا 

”مجھے اپریل میں دو مرتبہ گھر سے اغواءکیا گیا اور پھر 12 گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا ...
”مجھے اپریل میں دو مرتبہ گھر سے اغواءکیا گیا اور پھر 12 گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا لیکن آج ۔۔۔“سینئر صحافی نے ٹویٹر پر بڑا دعویٰ کر دیا 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی ظفر نقوی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیاہے کہ انہیں اپریل میں دو مرتبہ گھر سے اغواءکیا گیا اور پھر دس سے 12 گھنٹے کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ کچھ دیر قبل بھی کچھ لوگ سادہ کپڑوں میں ان کے گھر آئے ۔

سینئر صحافی ظفر نقوی اے آر وائے نیوز میں سینئر کنٹینٹ پروڈیوسر رہ چکے ہیں ، نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ ”تمام دوستوں کو مطلع کر رہا ہوں کہ اپریل 2020 میں دو مرتبہ مجھے میرے گھر سے اغوا کیا گیا، ہر بار 10 سے 12 گھنٹے بعد چھوڑا گیا، ابھی کچھ دیر قبل میرے دروازے پر پھر چند لوگ سادہ لباس میں آئے، میرے بیٹے سے میرے بارے دریافت کیا، بچے نے دروازہ نہیں کھولا، پھر چلے گئے۔

ان کا کہناتھا کہ ”اگر یہ ہراسمنٹ کا سلسلہ بند نہ ہوا،مجھے/میری فیملی کو کوئی نقصان پہنچا، اسکی ساری ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہو گی، ریاست پاکستان پر ہو گی،میری 85 سالہ ماں کا یہ واضح پیغام ہے اگر ان کے بیٹے کو/فیملی کے کسی رکن کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ شاہراہ دستور پر خودسوزی پر مجبور ہونگی ۔

ظفر نقوی کا کہناتھا کہ ”میں ایک محب وطن اور امن پسند پاکستانی ہوں، شعبہ صحافت سے منسلک ہوں، خدارا ہم پر اپنے ملک میں زمین تنگ نہ کی جائے، ہمیں جینے کا بنیادی حق دیا جائے، میرے تمام صحافی دوستوں کو اپریل 2020 میں میرے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کے بارے اچھی طرح معلوم ہے۔“

انہوں نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں مزید کہا کہ ” یہ چور دروازوں سے دھمکانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،بتایا جائے یہ لوگ کون تھے،اگر وہ کسی ریاستی ادارے سے تھے تو رابطے کا قانونی اور آئینی طریقہ استعمال کیا جائے مجھے قانون اور آئین کیساتھ تعاون کرنے والا پائیں گے،لیکن اس طرح میری پوری فیملی کرب سے گزر رہی ہے،جو نامناسب ہے۔

مزید :

قومی -