”مدعیہ کی بیٹی کی نازیبا تصاویر شیئر ہوئیں، جب ملزم پکڑا تو وہ بھتیجا نکلا لیکن پھر ۔۔“سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے حیران کن بات کہہ دی 

”مدعیہ کی بیٹی کی نازیبا تصاویر شیئر ہوئیں، جب ملزم پکڑا تو وہ بھتیجا نکلا ...
”مدعیہ کی بیٹی کی نازیبا تصاویر شیئر ہوئیں، جب ملزم پکڑا تو وہ بھتیجا نکلا لیکن پھر ۔۔“سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے حیران کن بات کہہ دی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کی پوری پولیس اس وقت موٹروے کیس کے ملزمان کو پکڑنے پر لگی ہے لیکن اس واقعہ نے پوری قوم کو ہی ہلا کر رکھ دیاہے ۔ ایسی صورتحال میں سوشل میڈیا پر بھی ایک بحث جاری ہے جس میں پورے ملک میں ہونے والے اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہاہے ۔

اس منظر نامے میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے اسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چوہدری بھی میدان میں آئے اور انہوں نے ایک کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے سب کو ہی حیران کر دیاہے ۔آصف اقبال چوہدری نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ”پھر کہتے ہیں کہ سائبر کرائم ونگ کرتا کچھ نہیں، مدعیہ کی بیٹی کی نازیباتصاویرشیئر ہورہی تھیں،شدیدبلیک میلنگ جاری تھی لیکن دو دن میں ریڈکر کے بندہ پکڑا اور وہ ان کا سگا بھتیجا نکلا۔خاتون ایک دن میں معاف کر کے گھر کی ہو گئیں۔ظاہر ہے ہماری ڈیوٹی تھی جو کی مگر؟پھر پوچھتے ہیں سزا کتنوں کو ہوئی۔“

اقبال چوہدری کے بیان پر ایک خاتون صارف سائقہ کیانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” یہی تو مسئلہ ہے اپنا نکل آئے تو معاف کر دیتے ہیں نہیں تو واویلا مچ جاتا ہے ، مجرم کو جب ایک جگہ سے معافی مل جاتی ہے تو اگلا جرم اس سے بڑا ہوتا ہے ۔“آصف اقبال نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اور قصور سارا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نکالا جاتاہے ۔

موٹروے واقعہ پر اصف اقبال چوہدری نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ میں بحثیت پاکستانی موٹروے خاتون حادثہ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔قانون بنانااوراسکااطلاق دونوں اہم ہیں۔میرے خیال سے CCPO لاہور کے بیان سے زیادہ یہ بات اہم ہےکہ وہ خاتون کو انصاف دلا سکتے ہیں یا نہیں؟ ہو سکتا ہے CCPO لاہور کی سختی کا عوام کو فائدہ ہو۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘

مزید :

قومی -