نوادرات کی تلاش میں قبروں کی بھی کھدائی کا انکشاف

نوادرات کی تلاش میں قبروں کی بھی کھدائی کا انکشاف
نوادرات کی تلاش میں قبروں کی بھی کھدائی کا انکشاف
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

صوابی(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں نوادرات کی تلاش میں قبروں کی کھدائی کا انکشاف ہوا ہے جس سے علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق نواں کلے کے تاریخی مقبرے میں نامعلوم افراد نے خزانے کی تلاش میں بزرگوں کی قبروں کی کھدائی کی ہے۔صوابی کے مختلف علاقوں میں تاریخی مقبرے موجود ہیں جہاں بدھ مت کے دور کے خزانے ، مجسمے اور دیگر نوادرات بھی پائے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ماہ قبل مردان کے علاقے تخت بائی میں آثار قدیمہ کو نقصان پہنچانے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

چینل ذرائع کے مطابق انچارج تخت بھائی آثار قدیمہ میاں وہاب نے بتایا کہ آثار قدیمہ ڈیڑھ ہزار سال پرانے ہیں جن کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف آثار قدیمہ ایکٹ کے تحت رپورٹ درج کر لی ہے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تخت بائی میں کھدائی کے دوران برآمد ہونے والے آثار قدیمہ کو توڑا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ تخت بائی پشاور سے تقریباًً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بدھا تہذیب کی باقیات پر مشتمل مقام ہے جو اندازہً ایک صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔یہ مردان سے تقریباًً 15 پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ سرحد میں واقع ہے جسے 1980 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔تخت اس کو اس لیے کہا گیا کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور بہائی اس لیے کہ اس کے ساتھ ہی ایک دریا بہتا تھا۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -صوابی -