تیل کی قیمتوں کی ’جنگ‘ سعودی عرب کو بے حد مہنگی پڑ گئی

تیل کی قیمتوں کی ’جنگ‘ سعودی عرب کو بے حد مہنگی پڑ گئی
تیل کی قیمتوں کی ’جنگ‘ سعودی عرب کو بے حد مہنگی پڑ گئی
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) 2014-16ءمیں بھی سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر جنگ ہوئی جس میں شکست سعودی عرب کے حصے آئی۔ اب گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے کے دوران دونوں ممالک میں تیل کی قیمتوں پر ایک بار پھر شدید جنگ جاری تھی اور ایک بار پھر انہی وجوہات کی بناءپر ہی سعودی عرب کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتائج سعودی تیل کمپنی آرامکو کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ روسی میڈیا گروپ ’آرٹی‘ کے مطابق سعودی حکومت نے حالیہ مہینوں میں آرامکو کے حصص فروخت کرنے شروع کیے تھے مگر تیل کی قیمتوں کی جنگ میں شکست کے بعد کمپنی کو اس میں شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سرمایہ کاراس کے حصص خریدنے میں تامل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسی مالی نقصان کی وجہ سے سعودی حکومت کو اپنے کلیدی منصوبوں کے بجٹ میں کٹوتی کے اعلانات کرنے پڑ رہے ہیں۔

آرٹی کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں آرامکو کے خالص منافع میں 50فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سعودی عرب کی قیادت میں روس کے خلاف لڑی جانے والی تیل کی قیمتوں کی جنگ ہے اور یہ جنگ بھی ایسے وقت میں لڑی گئی جب کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کی طلب پہلے ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ گزشتہ سہ ماہی میں آرامکو کے حصص جن لوگوں نے خریدے تھے کمپنی کو ان کے 18.75ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، جو کہ بجٹ میں کٹوتیاں کرکے ادا کیے جائیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آرامکو کے سالانہ اخراجاتی بجٹ میں 15ارب ڈالر کی کمی لائی جائے گی۔ اس کمی سے آرامکو کا سالانہ بجٹ 40ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف 25ارب ڈالر رہ جائے گا۔

 کئی رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس 25ارب ڈالر کے ساتھ 5ارب ڈالر کی مزید کٹوتی کی جائے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آرامکو کا سالانہ بجٹ صرف 20ارب ڈالر رہ جائے گا۔ اس کٹوتی کے ساتھ کمپنی اپنے حصص داروں کو ایک سہ ماہی کی ادائیگی کر پائے گی اور اگلی سہ ماہیوں کی ادائیگی ابھی باقی ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں کی جنگ ہارنے کے منفی اثرات سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن اور دیگر پیٹروکیمیکل کمپنیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن کو صرف رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 2.22ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ 

مزید :

عرب دنیا -