کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات

کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات

  

ملک بھر کے 41کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات کا جو غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ تاحال سامنے آیا ہے اس میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی جیت تقریباً برابر برابر ہے۔ تحریک انصاف نے اگر خیبرپختونخوا میں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے تو مسلم لیگ (ن) کو پنجاب نے پہلے نمبر پر رکھا ہے،تیسرے نمبر پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن کے بارے میں اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر بھی تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں انہیں چونکہ ٹکٹ نہیں ملا تھا اس لئے وہ آزاد کھڑے ہو گئے تھے جو امیدوار پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود الیکشن لڑتا ہے وہ ہارے یا جیتے پارٹی کے لئے کوئی اثاثہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسا پنچھی ہوتا ہے جو موسم اور ہوا کا رخ دیکھ کر کسی بھی چھتری پر بیٹھ سکتا ہے۔ اب جو لوگ آزاد کامیاب ہوئے ہیں وہ بھلے سے کسی بھی جماعت میں شامل ہوں لیکن جب تک وہ خود یا ہاتف غیبی کے اشارے پر کوئی فیصلہ نہیں کرتے  ان کی کوئی جماعتی وابستگی نہیں اور کامیابی و ناکامی کا جائزہ پارٹی ٹکٹوں کی بنیاد پر ہی لیا جائے گا۔

چاروں صوبوں میں کسی بھی صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے اس لحاظ سے تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں کنٹونمنٹ بورڈوں کے یہ پہلے انتخابات تھے کنٹونمنٹ بورڈ چھاؤنیوں میں بلدیاتی اداروں کا متبادل ہیں اس لئے انہیں ”مِنی بلدیاتی انتخابات“ بھی کہا جا سکتا ہے اور انتخابات کے نتیجے میں ووٹروں کا جو رجحان سامنے آیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے کیوں خائف رہتی ہیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ معرضِ التوا میں ڈالنے کے لئے اپنی ساری توانائیاں کیوں صرف کر دیتی ہیں۔ اب اگر چند ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات بھی ہوتے ہیں تو ووٹروں کے موڈکا اندازہ ابھی سے کیا جا سکتا ہے اس لئے امکان یہی ہے کہ اب ایک یا دوسرے عذر کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ان انتخابات کے نتیجے سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا تاحال تحریک انصاف کے سحر میں گرفتار ہے اور پنجاب ابھی تک مسلم لیگ (ن) کے لئے اپنی محبت کم نہیں کر سکا۔ خیبرپختونخوا میں تو آٹھ سال سے تحریک انصاف کی حکومت ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس حکومت نے کوئی نہ کوئی ایسے کام ضرور کئے ہوں گے جنہوں نے ووٹروں کو متاثر کیا اور انہوں نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن پشاور کنٹونمنٹ سے آنے والا نتیجہ تحریک انصاف کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور اسے جائزہ لینا ہے کہ شہر کا یہ پوش علاقہ کیونکر تحریک انصاف کے حلقہ اثر سے نکل گیا۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کو کوئی نشست نہیں ملی یہاں سب سے زیادہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ نتیجہ بھی بلوچستان کے سیاسی مزاج کے عین مطابق ہے جہاں علاقائی جماعتیں مل کر حکومت بناتی ہیں اور وفاق کی حکمران جماعت ان کے ساتھ شامل باجہ ہوتی ہے۔ اس وقت بھی بلوچستان کی حکومت میں مقامی جماعتوں کی اکثریت ہے اور تحریک انصاف کی نمائندگی محض اس لئے ہے کہ یہ وفاق میں حکمران ہے۔

پنجاب نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور لاہور جیسے شہر میں تو والٹن کنٹونمنٹ میں ایک بھی نشست کسی دوسری جماعت کو نہیں ملی، دونوں کنٹونمنٹ بورڈوں کی نشستیں ملا کر دیکھیں تو مسلم لیگ (ن) کی دو نشستیں بڑھ گئی ہیں جبکہ تحریک انصاف کی دو نشستیں کم ہوئی ہیں عام طور پر دیکھا یہی گیا ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی بڑا چھوٹا عہدیدار ان انتخابات میں متحرک نظر نہیں آیا۔ پنجاب کے سینئر وزیر بھی جو خود ڈیفنس کے رہائشی ہیں اور ان کے گھر پر سرکاری اور پارٹی پرچم دونوں لہراتے رہتے ہیں، متحرک نظر نہیں آئے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ مستعفی ہو چکے اور استعفے کی منظوری کے منتظر ہیں۔ ان حالات میں ان کے ساتھی بھی غیر متحرک ہی رہے۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو انتخابات جیتنے کی جو حکمت عملی دے رکھی تھی اس پر پوری طرح عمل ہوا، خواجہ سعید رفیق سارے انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔  دونوں کنٹونمنٹ بورڈوں کے وہ گنجان آباد علاقے جو نسبتاً پسماندہ ہیں وہاں سے زیادہ تر ووٹ مسلم لیگ (ن) ہی کو پڑے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیفنس کے وائی بلاک جیسے ترقی یافتہ اور کاروباری طور پر نمایاں علاقے کے ایک پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ دو ہزار ووٹوں میں بمشکل پچاس ساٹھ ووٹ پول ہو سکے عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے علاقوں میں تحریک انصاف کے حامی زیادہ ہیں لیکن اگر یہ حامی گھروں سے نکل کر پولنگ سٹیشن پر نہ آئے یا انہیں کوئی گھروں سے نکالنے والا نہ تھا تو نتیجہ یہی نکلنا تھا۔

پنجاب میں ملتان کنٹونمنٹ بورڈ کا نتیجہ بہت ہی سبق آموز ہے۔2018ء کے انتخاب میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کو زبردست کامیابی ملی تھی سرائیکی صوبہ محاذ بھی نشستیں جیت کر تحریک انصاف میں شامل ہو گیا تھا۔ حکمران جماعت نئے صوبے کے لئے بہت پرجوش تھی اور اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت بنتے ہی سو دن کے اندر اندر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا دیا جائے گا لیکن یہ وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح ہَوا ہو گیا اور اب سرائیکی صوبہ محاذ سمیت سارے لیڈر اس معاملے پر خاموش ہیں البتہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو ایک بڑا کارنامہ بنا کر پیش کیاجا رہا ہے لیکن لگتا ہے ملتان کے لوگوں کو اس سیکرٹریٹ کی جادوگری نے زیادہ متاثر نہیں کیا اگر کیا ہوتا تو تحریک انصاف کو بھی تو کوئی نشست مل جاتی لیکن حیران کن حد تک یہ جماعت دس کی دس نشستوں پر ہار گئی، ایک نشست مسلم لیگ (ن) لے گئی اور نو پر آزاد امیدوار جیت گئے۔ پیپلزپارٹی کو بھی ملتان سے کچھ نہیں ملا جہاں پچھلے ایک ہفتے سے بلاول بھٹو زرداری نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور اعلانات کئے جا رہے تھے کہ اگلا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب جیالے ہوں گے یہ بڑا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے یہ تو وہی جانتے ہوں گے لیکن کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو جتنی کامیابی ملی ہے اگر اس سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو یہی کہ ”اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی“ ویسے اگلے انتخابات تک دعوے تو ہوتے رہیں گے۔ دعوے کرنے والے اور بھی بہت ہیں البتہ زمینی حقیقتیں ذرا مختلف منظر پیش کر رہی ہیں ان انتخابات سے ثابت ہوتا ہے کہ لگاتار منفی پروپیگنڈے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو سیاسی میدان سے دیس نکالا دینے کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئیں اور وہ تحریک انصاف کے مدِ مقابل ڈٹ کر کھڑی ہے ایک آدھ نشست کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگلے کسی انتخاب میں مقابلہ کانٹے دار بھی ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -