بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش کے خلاف احتجاج

بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش کے خلاف احتجاج

  

کورونا وبا کی روک تھام کے لئے این سی او سی کی طرف سے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف ٹرانسپورٹ مالکان اور ملازمین نے پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ پابندی ختم کی جائے، اب تک مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا اور ملازمین بھی بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں، ٹرانسپورٹ سے متعلق ان حضرات نے احتجاجی کیمپ لگائے اور انتباہ کیا کہ یہ پابندی 15ستمبر سے بڑھائی گئی تو احتجاج میں وسعت ہو گی اور پہلے گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا۔ این سی او سی نے یہ پابندی 4ستمبر سے 15ستمبر تک کے لئے لگائی ہے۔ دوسری طرف ریل گاڑیوں اور ہوائی سفر کے لئے ویکسی نیشن کی شرط عائد کی گئی ہے۔  ریل کے ذریعے سفر کی طرف رجوع کے باعث رش بڑھ گیا ہے اور کئی کئی ہفتوں کی بکنگ پیشگی ہو چکی ہے، ایسے میں بین الاضلاع ٹرانسپورٹ سروس کی بندش مسائل پیدا کر رہی ہے، این سی او سی کی طرف سے واضح کیا گیا تھا کہ کورونا کے مثبت کیسوں میں اضافے کی صورت میں یہ پابندیاں مجبوری ہیں کہ ٹرانسپورٹرز نے  حفاظتی اصولوں (ایس او پیز)پر مکمل عمل نہیں کیا تھا، 15ستمبر تک تو تعلیمی ادارے بھی بند ہیں، این سی او سی حالات کا جائزہ لے کر آئندہ کے لئے فیصلہ کرے گی، تاہم بین الاضلاع آمد و رفت کو بہتر بنانے کے لئے ہوائی اور ریل کے سفر کی طرح ٹرانسپورٹ کے سفر کے لئے بھی ویکسی نیشن کی شرط عائد کی جا سکتی ہے جو نجی کار والوں کے لئے بھی عائد ہے، ان کو موٹرویز پر سفر کے لئے کورونا سرٹیفکیٹ دکھانا ہوتا ہے۔ کاش احتجاج کرنے والے نظم و ضبط کی پابندی کی طرف توجہ دیں۔ ایس او پیز پرعملدرآمد کو یقینی بنا کر مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -